سلگ رہا ہے چمن میں بہار کا موسم کسی حسین کو آواز د…


سلگ رہا ہے چمن میں بہار کا موسم
کسی حسین کو آواز دو خدا کے لیے
..
سعید احمد اختر کی پیدائش
Mar 03, 1933

نامور شاعر اور ادیب سعید احمد اختر 3 مارچ 1933 کو پشین میں پیدا ہوئے تھے ، وہ محکمہ تعلیم اور سول سروس سے وابستہ رہے اور متعدد انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے ۔ ان کی تصانیف میں دیار شب، سطح آب، چاندنی کے سائے، خوابگینے، لے گئی پون اڑا، پوجا کے پھول، ورشانجلی، پتا ٹوٹا ڈال سے،اب کے بچھڑے کب ملیں، دور پڑے ہیں جا، گھونگھٹ کا پٹ کھول رے گوری اور بیچے تو بک جاوں کے نام سر فہرست ہیں ۔ جناب سعید احمد اختر 20 اگست 2013ء کی صبح ڈیرہ اسماعیل خان میں وفات پاگئے ان کے صاحبزادے خاور احمد اور داماد غلام محمد قاصر بھی اردو کے معروف شاعروں میں شمار ہوتے ہیں ۔
(اشعار)
.
سلگ رہا ہے چمن میں بہار کا موسم
کسی حسین کو آواز دو خدا کے لیے
….
لفظ و صدا و صوت سے ہو ، موقلم سے ہو
اپنا تو کام حُسن کی صورت گری سے ہے
…..
بلا نے اپنے بچوں‌ کو دعا دی
خدا محفوظ رکھے ہر بشر سے
…..
اتنا جب جان گئے کان کسی کے بھی نہیں
پھر سمجھنے کو بت تھے نہ خدا مشکل تھا

پھر تو دل تھام کے چپ چاپ چلا آیا
ہاں مگر فیصلہ ء ترک ِ وفا مشکل تھا
……
چکور خوش ہے کہ بچوں کو آگیا اڑنا
اداس بھی ہے کہ رُت آ گئی بچھڑنے کی
……
جہاں سے اس قدر دل بد گماں‌ ہے
یہ مسجد مدتوں سے بے اذاں‌ ہے
…….
کمزور و ناتواں سا نحیف و علیل شخص
اٹھا تو انقلاب کی تحریر بن گی
…….
اب ان کے بعد کی حالت تو سب نے دیکھی ہے
نہ جانے کیسا تھا موسم خداؤں سے پہلے
……
گر آپ نے ہوں‌ اپنے سبھی کام کر لیے
باہر کھڑا ہے کوئی ہتھیلی پہ سر لیے
……
اخترِ بے نشاں کا تم پوچھو گے اب کہاں پتا
تھا تو وہ ایک شہر تھا اور گیا تو بس گیا
……
لکھ لو مِرا پتا کبھی ممکن ہے کام دے
ویران شہر، زرد گلی، بے چراغ گھر
……
مَیں فقیر ہوں دُعا ہے
مِرے پاس اور کیا ہے
…….
مُدت سے خامشی ہے چلو آج مَر چلیں
دو چار دن تو گھر میں ذرا انجمن رہے
…….
یوں تو ملنے ہزار آتے ہیں
مجھ سے ملنے کوئی نہیں آتا
……
دے آیا ہوں جا کر اسے شہتوت کے پتے
ریشم کا دوپٹہ تو میرے پاس نہیں تھا
……
کچھ پھول تمہارے ذمے ہیں کچھ خار تمہارے ذمے ہیں
بس اور نہیں کوئی درجن بھر اقرار تمہارے ذمے ہیں
…….
اک شخص آیا قوم کی تقدیر بن گیا
پھر مُلک چند لوگوں کی جاگیر بن گیا