امسال مری میں برفانی طوفان میں ہزاروں گاڑیاں پھنس جانے کے سبب متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔ لوگ پھنس گئے، بچے بھوک سے بلبلاتے رہے۔ مائیں بے بسی کی علامت بنی رہیں۔ اور الزام عوام، انتظامیہ اور مقامی لوگوں پر آگیا۔
معاشرہ اجڈ ہے۔ ریاست نا اہل۔ ریاست سماج کا پر تو ہوتی ہے۔ گویا جیسا معاشرہ ہو گا ریاست اسی کی بیچ میں سے نکلے گی۔یعنی ہماری اقدار، رواج، رسمیں اور عقائد ہمارے آئین اور قانون کو ترتیب دینے کا باعث ہوتے ہیں۔ سماج کو سدھرنے میں وقت لگتا ہے۔ مگر ریاستیں محض دو دہائیوں میں محکم و مستحکم کھڑی ہو سکتی ہیں۔
بحران اس لیے گہرا ہے کہ دنیا تنوع کو اپنی مضبوطی بناتی ہے جبکہ ہمارے ہاں یہی لسانی، مسلکی، علاقائی تنوع کمزوری بنا ہوا ہے۔
بحران اس لیے گہرا ہے کہ ہمارے سماج کی شناخت بن سکی ہے نہ ریاست کی۔
بحران اس لیے گہرا ہے کہ ہمارا سوشل سٹریکچر عدم انضمامیت (Non-integration) کا شکار ہے۔ خاندان شہروں میں انتقال پذیری کی وجہ سے اپنی شناخت پہم بدل کر نیوکلیس ہوتا جا رہا ہے۔ شرح خواندگی بڑھ رہی ہے مگر ایک پراپیگنڈہ کی طاقت ہے تو دوسری جانب تعلیم اور تحقیق میں عدم مطابقت جس جو ابہام اور سطحیت پر منتج ہوتا ہے۔ اور یہ ابہام اور سطحیت عدم مرکزیت کی وجہ ہے اور قومی اتفاقِ رائے کی راہ کا سب بڑا رخنہ ہے۔ یہ رخنہ طویل المدت منصوبہ بندی نہیں کرنے دیتا۔ یا وہ صلاحیت ہی ضبط کر لیتا ہے جس کی باعث وسیع البنیاد اور طویل المدت منصوبہ بندی کی جا سکے۔ اسی طرح معشت کی حالت پہم ایک دائرے سے نہیں نکل پا رہی۔ جہاں تک طبقے اور ہمارے معاشرے کا تعلق ہے تو مڈل کلاس دھیرے دھیرے ختم ہوتی جا رہی ہے جو سماج اور ریاست دونوں کے لیے بہت خطرناک ہے۔ رہ گیا مذھب اس پر جذبات کا غلبہ ہے۔ گویا ہمارا سوشل اسٹریکچر یعنی خاندان، تعلیم، مذھب، معیشت، سیاست اور طبقات باہم منضبط نہیں کہ ملکر ایک موثر پیش رفت کر سکیں۔ بلکہ عدم انضمامیت کا شکار ہیں۔ ان میں عدم مطابقت پائی جاتی ہے حتی کہ ایک دوسرے کے لیے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ جب تک سوشل اسٹرکچر کے یہ جز ایک مشترکہ کل کی طرف نہیں بڑھیں گے مطلوبہ تبدیلی کی رفتار سماج کی سطح پر آہستہ سے آہستہ تر ہوتی چلی جائے گی۔
ہم جو بڑوں کا احترام کرتے ہیں یہ ہماری قدر ہے ہمیں کوئی قانون نہیں کہتا کہ ایسا کرو۔ اسی طرح مغرب میں لوگ حتی کہ ذھنی مریض بھی لائین کی پابندی کرتے ہیں جو سوشل پریشر کے تحت ہی کیا جاتا ہے۔ سوشل کنٹرول یا سماجی ضبط وہ سوشل پریشر ہے جس کی وجہ سے آپ سماجی اقدار و روایات پر عمل کرتے ہیں۔ بحران اس لیے بھی گہرا ہے کہ ہمارے ہاں سماجی ضبط (Social Control) کمزور ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ صیح کو اپنے نظریے خاندان، زبان، علاقے، پارٹی اور رنگ کے ساتھ مخصوص کر دینا۔ اسی لیے سماج میں صحیح اور غلط خلط ملط ہے۔ یہی صحیح اور غلط کے پیمانے اقدار کی بنیاد ہیں۔ ہماری اقدار یہ ہیں کہ ہم اپنوں کے لیے جھوٹی گواہی دینا ایک قابل فخر امر سمجھتے ہیں۔ جب تک صیح اور غلط کے ابہام سے نکل کر ہم صیح کو صیح نہیں کہیں گے سماجی ضبط مضبوط نہیں ہوگا۔ اور اس کی کمزوری ان اقدار کو پنپنے نہیں دیتی جو کبھی ہمارے ٹیکسٹ بک بورڈ کے لوگو کا حصہ ہوا کرتی تھی (امانت، دیانت، صداقت). بالکل اسی طرح ریاستی رٹ بھی کمزور تر ہے۔ ہر طرح کا قانون موجود ہے مگر اس کی عملداری نہ ہونے کے برابر ہے۔ قانون پر عمل نہیں گا تو شہری اپنی خواہش اور ضرورت کے تحت دوسروں کا استحصال کریں گے اور پہم کرتے آ رہے ہیں۔ بحران اس لیے گہرا ہے کہ ہم جس ملک میں رہتے ہیں وہاں ریاستی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ سماجی ضبط ان اقدار کو پروان چڑھا رہا ہے جو قانون اور اخلاق سے متصادم ہیں۔ گویا جب تک ریاستی رٹ اور سماجی ضبط باہم منضبط integrated نہیں ہوتے تب تک سماج اور ریاست دونوں کی بنیاد کمزور ہی ہو گی۔
بحران اس لیے بھی گہرا ہے کہ انفرادی آزادی کا مخالف معاشرہ ذاتی مفاد تک ہی دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس تحریر کا اصل محرک یہی نکتہ ہے۔ اپنا کُوڑا اٹھا کر گلی میں پھینک دیں گے۔ ہم اس پارک میں جانا پسند کریں گے جو صاف ستھرا ہو مگر ہم اپنا کوڑا وہیں پھینک کر آئیں گے۔ سڑکیں ہمیں اجلی بھلی لگتی ہیں مگر اپنا کوڑا ہم گاڑی سے باہر پھینکتے ہیں کہ گاڑی گندی نہ ہو۔ اپنا گھر صاف رکھ کر محلہ گندا کرنا، اپنی گاڑی صاف رکھ کر سڑکیں اور پارک گندے کرنا ہمارے لیے معمول کی بات ہے۔ لائین توڑنے کی کوشش ہوگی اگر کوشش کارگر نہ ہو تو سفارش۔ کہیں اگر ٹریفک بلاک ہو وہیں ہم دوسری لین بنا کر سینکڑوں گاڑیوں کو اذیت میں ڈال دیتے ہیں۔ وجہ “شاید میں نکل ہی جاؤں اگر نہ نکلا کم از کم آگے تو پہنچ جاؤں گا”۔ اور یہی ہوا مری میں اگر سڑکوں کے گرد پارکینگ نہ ہوتی، اگر ٹریفک وارڈنز کو کام کرنے دیا جاتا، اگر دوھری لائنیں نہ بنائی جاتی۔ اگر چوک سے قبل ہی رک کر انتظار کیا جاتا نہ کہ عین چوک میں آکر ٹریفک بلاک کرتے تو شاید قوم مری کے اس دکھ میں اسوقت نڈھال نہ ہوتی۔
بحران اس لیے بھی گہرا ہے داخلی کمزوری پر توجو دینے کے بجائے دوسرے کو دوش دینے کی روش مقبول ہے۔ داخلی کمزوری کو بیرونی سازش کہ کر ابہام کی دھند میں غائب کر دیا جاتا ہے۔ داخلی کمزوری کا جواب دوسروں کی برائی سامنے لا کر دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے داخلی کمزوری اجاگر ہوتی ہے نہ اس کے حل کی طرف مربوط پیش رفت۔
بحران اس لیے بھی گہرا ہے کہ رومانویت اور جذباتیت قبول عام حاصل کیے ہوئے ہے۔ جبکہ عقلیت اور حقیقت پسندی کو مفاد پرستی گردانا جاتا ہے یا پھر بزدلی۔ہمارے سماج پر منطق کی بجائے جذبات کا غلبہ ہے۔ آپ کوئی مسلکی ایشو دیکھ لیں۔ یا سیاسی ایشو۔ کوئی سماجی مسلہ ہو یا نجی عائلی۔ وہاں ہمیں منطق کی بجائے جذبات ڈرائیو کرتے نظر آتے ہیں۔ انڈیا، اسرائیل اور امریکہ سے تعلقات کیسے ہوں گے۔ سنی شعیہ مباحث کا رنگ کیا ہوگا۔ گستاخ کون ہے، گستاخ پر جھوٹا الزام کون لگا رہا ہے۔ ماورائے عدالت قتل کا کیا جواز ہے، توہین مذھب پر ردعمل کیا ہونا چاہیے۔ سیاست میں فوج اور سیاستدانوں میں سے کس کا قصور ہے۔ عورت پر تشدد کا مسلہ ہو یا اپنی اقدار مغربی اقدار میں ضم کرنے کا خدشہ۔ مرضی کی شادی ہو یا وراثت کا بٹوارہ۔ علی ھذالقیاس کوئی انفرادی مسلہ ہو یا اجتماعی جذبات ہماری رہنمائی کرتے نظر آتے ہیں نہ کہ منطق۔ جذباتی ٹکراؤ نتیجہ نہیں مایوسی پیدا کرتا ہیں۔ جب کہ مسائل کا منطقی حل ہی مطلوبہ تبدیلی کا باعث ہو سکتا ہے۔
گویا ثابت کیا ہوا۔ ہم پست ہیں۔ ہم نا اہل ہیں۔ ہم اجڈ ہیں۔ ہم غیر مہذب ہیں۔ ہماری اقدار قانون اور اخلاق سے متصادم ہیں۔ قانون شکنی ہمارے لیے ایک اعلی قدر ہے۔ نظام کا استحصال کرنے والا ہمارا ہیرو ہے۔ مگر آواز کیا آرہی ہے۔ اللہ کے ننانوے نام لیکر اسمبلی میں کہا جا رہا ہے ہم دنیا کی سپر پاور بنیں گے۔ اور ایک اسمبلی ممبر نیو یارک آکر امریکی سماج اور ریاست کو گالیاں دیتا ہے۔ ان دونوں کو پذیرائی بھی ملتی ہے۔ سنا بھی جاتا ہے اور پسند بھی کیا جاتا ہے۔ کیوں کیوں کہ ہم پست ہیں۔ ہم نا اہل ہیں ہم اجڈ ہیں۔ ہم غیر مہذب ہیں۔ مگرکب تک؟ کچھ خبر نہیں۔
(Visited 1 times, 3 visits today)

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔