ساقی یہ تیرے بس میں ہے دے جام یا نہ دے
جھوٹا مگر کسی کو کبھی آسرا نہ دے
..
جرمؔ محمد آبادی کا یومِ وفات
January 15, 1980
نام ابوالحسن تھا اور تخلص جرمؔ جبکہ شہرت جرمؔ محمد آبادی سے پائی- 04؍فروری 1903ء کو محمد آباد ضلع اعظم گڑھ کے قصبے محمد آباد میں پیدا ہوئے۔
(پیدائش: 4 فروری، 1903ء- وفات: 15 جنوری، 1980ء)
منتخب کلام
———-
توبہ کو غرقِ جام کیا ہے کبھی کبھی
فطرت کا احترام کیا ہے کبھی کبھی
———-
خود اپنی کم نگاہی دشمنِ آرامِ دل نکلی
جسے گرداب سمجھے تھے حقیقت میں وہ ساحل تھا
———-
یہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے خزاں کی بنیاد رکھ رہے ہیں
کھلے گا رازِ بہارِ گُلشن ، طلسم ٹوٹے گا جب کلی کا
———-
بھرے گا وہ پھولوں سے کیا اپنا دامن
جو کانٹوں سے گلشن میں اُلجھا رہے گا
———-
کیوں چاک گریباں ہوئے آتے ہی جوانی
پھولوں میں کچھ رنگ ہمارا تو نہیں تھا
———-
نہ ہوتی دھوپ تو سائے کی قدر کیا ہوتی
کرم کی شان دوبالا ہوئی عتاب کے بعد
———-
تیری گلی کی دھن میں جو نکلے اس کو اتنا ہوش کہاں
راہ میں کتنے کانٹے بچھے ہیں ، پاؤں میں کتنے چھالے ہیں
———-
کیا بادہ و ساغر کی حاجت ، محفل کی فضا گرمانے کو
ساقی کی نشیلی آنکھوں کا پُر کیف نظارا کافی ہے
———-
کہیں جینے کی تدبیروں پہ خوشیاں
کہیں مرنے کا بھی ماتم نہیں ہے
…………
سنائے جا رہا ہوں آپ بیتی
کسی کو اعتبار آئے نہ آئے
———-
ممکن نہیں کہ ترک کروں رنگِ آرزو
اے جُرمؔ سنگریزے چُنوں کیوں گُہر کے بعد
———-
جنوں کے دامنِ امکان میں سب کچھ
خرد کی جیب میں کچھ بھی نہیں
———-
ہوائے شوق میں ہوا امتیازِ نیک و بد کیونکر
جنوں کے ہاتھ میں ہر شے گریباں ہو کے رہتی ہے
———-
افسردہ دل اٹھا نہ سکا لذتِ حیات
دھارے پہ آئی ناؤ تو طوفاں نہیں رہا
———-
پہن کر آج اسے اہلِ خرد ہُشیار بنتے ہیں
وہ جامہ جس کو ہم دیوانہ بنتے ہی اُتار آئے
———-
یہ قول عقل کا ہے مرا فیصلا نہیں
محتاج جو ثبوت کا ہو وہ خدا نہیں
———-
پائے تلاش تھک گئے ، عقل نے ہار مان لی
جس کے پتے ہیں بے شمار ، اس کا پتا نہ پا سکے
…
عشق ناکام کا دستور تمہیں کیا معلوم
تم ہو اس سے حد بہت دور تمہیں کیا معلوم
غم کی دنیا سے ہو تم دور تمہیں کیا معلوم
آہ کیوں کرتے ہیں مجبور تمہیں کیا معلوم
زخم دل خوگر آزار کا بڑھتے بڑھتے
کس طرح بنتا ہے ناسور تمہیں کیا معلوم
ختم ہونے کو ہے ہنگامۂ طوفان حیات
درد کیوں ہوتا ہے کافور تمہیں کیا معلوم
عشق سرجوش نے کیا دل پہ ستم توڑے ہیں
نشۂ حسن سے ہو چور تمہیں کیا معلوم
تم الگ ہو گئے پردے سے گرا کر بجلی
کس پہ کیا گزری سر طور تمہیں کیا معلوم
اپنے شعروں میں ادا کرکے تمہاری شوخی
ہو گیا جرمؔ بھی مشہور تمہیں کیا معلوم
———-
ساقی یہ تیرے بس میں ہے دے جام یا نہ دے
جھوٹا مگر کسی کو کبھی آسرا نہ دے
سوز فراق کشمکش مدعا نہ دے
دشمن کو بھی کسی کی محبت خدا نہ دے
شاید کہ سو گیا ہے جنوں پھر جگا نہ دے
زنجیر پا کو خواب رہائی ہلا نہ دے
کرنا پڑے ضمیر کے برعکس بندگی
مجبوریوں کسی کو ضرورت بنا نہ دے
کیا کیا دکھا رہا ہے محبت کے سبز باغ
مٹی میں دل کو جوش جوانی ملا نہ دے
گم ہو کے میں نے سیکھ لیا خوب یہ اصول
جس کو خبر ملے وہ تمہارا پتا نہ دے
اے جرمؔ درد و عشق کا ملنا نہیں ہے کھیل
جب تک کسی بشر کو یہ نعمت خدا نہ دے
———-
وفا سے پشیماں جفا ہو رہی ہے
محبت کی قیمت ادا ہو رہی ہے
دوا ہو رہی ہے دعا ہو رہی ہے
مگر دل کی الجھن سوا ہو رہی ہے
ڈبوئی ہے جس نے ابھی دل کی کشتی
وہی آس پھر ناخدا ہو رہی ہے
گلوں میں بھی ہے رنگ بیگانگی کا
عجب اس چمن کی ہوا ہو رہی ہے
نگاہوں سے پردے ہٹے جا رہے ہیں
خودی کی خدائی فنا ہو رہی ہے
طلب پر بھی حسن طلب کی ہے کوشش
نظر کچھ مزاج آشنا ہو رہی ہے
مرے درد کی ابتدا کرنے والے
ترے ظلم کی انتہا ہو رہی ہے
تری راہ میں مٹنے والوں کی قسمت
فنا کو بھی حاصل بقا ہو رہی ہے
ستم کو ستم جرمؔ ہرگز نہ کہتے
اگر یہ سمجھتے خطا ہو رہی ہے
………………..
وہی جوش حق شناسی وہی عزم برد باری
نہ بدل سکا زمانہ مری خوئے وضع داری
وہی مے کدہ ہے لیکن نہیں اب وہ کیف باری
گئے ہم مذاق لے کے مرا لطف بادہ خواری
ہو زبان جس کے منہ میں وہ نہ آئے انجمن میں
کہیں رکھ نہ دے ستم گر یہی شرط راز داری
کبھی ہنستے ہنستے رونا کبھی روتے روتے ہنسنا
کوئی کیا سمجھ سکے گا بھلا مصلحت ہماری
میں زمانے بھر کے طعنے نہ خموش ہو کے سنتا
جو جنون عشق ہوتا مرا فعل اختیاری
مئے عاشقی سے توبہ ہے جنون پارسائی
کہیں لے نہ ڈوبے واعظ تجھے زعم ہوشیاری
نہ پہنچ سکا جہاں تک کبھی پائے کبر و دانش
وہیں جرمؔ لے گئی ہے مجھے میری خاکساری
………….
