ساغرؔ اور گھوڑے کی تصویر
ساغر صدیقی کی زنبیل میں کسی رسالے سے کاٹی گئی گھوڑے کی ایک تصویر بھی ھوتی تھی
اُسے یہ تصویر بہت پسند تھی۔بعض اوقات زنبیل سے کوئ چیز نِکالتے وقت یہ تصویر اُس کے سامنے آجاتی تو وہ اُسے والہانہ انداز میں دیکھنے لگتا اور خود کلامی کرنے لگتا _____ ” ھُوں ں ں ں! کیا خُوب چیز ھے۔مُکمّل گھوڑا ھے۔
مُجھے اِس کا مُکمّل ھونا ہی اچھّا لگتا ھے ایک مرتبہ شبّیر بجلی والے نے گھوڑے کی تصویر کے حوالے سے پُوچھا۔ بابا کیا آپ نے کبھی کوئ مُکمّل انسان بھی دیکھا ھے اِس دَور میں ؟
ساغرؔ نے چونکے بغیر اُس کی طرف دیکھا اور کہنے لگا۔
ہاں ں ں ں! مُکمّل انسان تو نہیں دیکھا۔ پر کہِیں کہِیں اِس کی جھلکِیاں ضرُور دیکھی ہیں اور فقیر اِتنا جان گیا ھے کہ انسان محبّت کے بغیر مُکمّل ھو نہیں سکتا ___ خیر ___ اگر مُکمّل انسان نظر نہیں آتا تو مُکمّل گھوڑے کی تصویر دیکھنے میں کیا حرج ھے۔۔۔؟
گردِش ساغرؔ
مرتّب یونس ادیب

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔