سات سال دبئی کی گرمی میں مزدوری کرتا رہا. گھر لوٹ…


💥 سات سال دبئی کی گرمی میں مزدوری کرتا رہا. گھر لوٹا تو بیوی نے کہا: "ہمارے پاس کوئی بچت نہیں ہے۔ 💔💔

اُس لمحے مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ بعض خواب مرتے نہیں
بس خاموشی سے انسان کے اندر دفن ہو جاتے ہیں۔

میرا نام ساجد ہے۔

اور میں اُن ہزاروں پاکستانی مردوں میں سے ایک ہوں جو اپنی جوانی کسی اور ملک کی گرمی، دھول اور تنہائی کے حوالے کر دیتے ہیں تاکہ ایک دن اپنے بچوں کو ایک بہتر زندگی دے سکیں۔

سات سال پہلے جب میں دبئی گیا تھا تو میرا بڑا بیٹا صرف پانچ سال کا تھا۔

چھوٹی بیٹی ابھی اسکول بھی نہیں جاتی تھی۔

میں نے جاتے وقت اُن دونوں کو سینے سے لگایا تھا اور بیوی سے صرف ایک بات کہی تھی:

"بس چند سال کی بات ہے۔”

"پھر ہم اپنا گھر بنائیں گے۔”

میں اُس خواب کے سہارے جیتا رہا۔

دبئی کے مزدور کی زندگی باہر سے جتنی آسان لگتی ہے، اندر سے اتنی ہی خاموش ہوتی ہے۔

گرمی میں کام۔
شام کو ایک کمرہ۔
عید پر ویڈیو کال۔

بچوں کی سالگرہ موبائل کی اسکرین پر۔

اور رات کو سونے سے پہلے وہی خیال:

"یہ سب اُن کیلئے ہے۔”

ہر مہینے تنخواہ آتی اور میں تقریباً ساری رقم پاکستان بھیج دیتا۔

اپنے پاس صرف اتنی رکھتا کہ گزارا ہو جائے۔

کبھی ساتھی نئے موبائل خریدتے۔

کبھی گھومنے جاتے۔

کبھی چھٹیوں میں دوسرے ملک چلے جاتے۔

میں حساب لگاتا اور خاموش ہو جاتا۔

مجھے اپنا گھر زیادہ عزیز تھا۔

جب بھی بیوی سے بات ہوتی، میں پوچھ لیتا:

"بچت ٹھیک چل رہی ہے نا؟”

وہ ہنس کر کہتی:

"آپ بس فکر چھوڑ دیں۔”
"سب سنبھال رکھا ہے۔”

میں مطمئن ہو جاتا۔

کیونکہ اعتماد بھی محبت کی ایک شکل ہوتا ہے۔

پھر سات سال گزر گئے۔

میں مستقل واپس آ گیا۔

میرے دل میں ایک عجیب سی خوشی تھی۔

جیسے کوئی لمبا سفر ختم ہوا ہو۔

میں راستے بھر حساب لگاتا رہا۔

اتنے سال۔
اتنے مہینے۔
اتنی رقم۔

کم از کم ایک اچھا پلاٹ تو اب ہمارا ہوگا۔

شاید گھر کی بنیاد بھی رکھ دیں۔

شاید اگلی عید اپنی چھت کے نیچے ہو۔

ایک شام میں نے چائے پیتے ہوئے کہا:

"چلو، اب حساب کر لیتے ہیں۔”

"دیکھتے ہیں کتنی بچت ہوئی ہے۔”

میری بیوی خاموش ہو گئی۔

اتنی خاموش کہ مجھے پہلی بار ڈر محسوس ہوا۔

پھر اُس نے نظریں جھکا کر کہا:

"کوئی بچت نہیں ہے۔” 💔

کبھی کبھی زندگی انسان کو دھکا نہیں دیتی۔

صرف ایک جملہ کہتی ہے۔

اور باقی کام خاموشی کر دیتی ہے۔

میں اُس لمحے کچھ نہیں بولا۔

صرف اُسے دیکھتا رہا۔

مجھے لگا شاید میں نے غلط سنا ہے۔

پھر آہستہ آہستہ بات سامنے آتی گئی۔

آن لائن شاپنگ۔
قسطیں۔

روز نہیں تو ہر دوسرے دن کوئی پارسل۔

کوئی نیا برانڈ۔
کوئی نئی سیل۔
کوئی نیا آرڈر۔
اور پھر باہر کھانے کی عادت۔

وہ رقم جو اینٹوں میں بدلنی تھی…

وہ پیکٹوں، رسیدوں اور خالی ڈبوں میں بدل گئی تھی۔

میں خاموش رہا۔

عجیب بات یہ تھی کہ مجھے غصہ نہیں آ رہا تھا۔

غصہ شاید اُس وقت آتا ہے جب انسان کے پاس کچھ بچا ہو۔

میرے اندر اُس وقت صرف ایک وسیع خاموشی تھی۔

بالکل ویسی جیسے کسی پرانے گھر کو گرانے کے بعد رہ جاتی ہے۔

کسی نے شاید سچ کہا تھا کہ بعض دکھ روتے نہیں…

وہ انسان کے اندر ایک خالی کمرہ بنا دیتے ہیں۔

اُس رات میرے اندر بھی ایک کمرہ بن گیا تھا۔

بہت بڑا۔

بہت خاموش۔

میں اُس کمرے میں دیر تک بیٹھا رہا۔

اپنے سات سال دیکھتا رہا۔

عیدیں۔
تنہائیاں۔
اوور ٹائم۔

وہ سب خواب جو میں نے اپنی تھکن کے نیچے چھپا رکھے تھے۔

پھر میں نے اپنے بچوں کو دیکھا۔

بیٹا ہوم ورک کر رہا تھا۔

بیٹی اپنے رنگ بھر رہی تھی۔

اُنہیں کچھ معلوم نہیں تھا۔

اُنہیں یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اُن کے باپ کا ایک خواب ابھی ابھی دفن ہوا ہے۔

اُسی لمحے مجھے ایک بات سمجھ آ گئی۔

بچوں کا مستقبل خوابوں سے نہیں بنتا۔

فیصلوں سے بنتا ہے۔

میں نے بیوی سے کوئی جھگڑا نہیں کیا۔

کوئی طلاق نہیں دی۔

کوئی ڈرامہ نہیں کیا۔

صرف اگلے دن دوبارہ اپنا پاسپورٹ نکالا۔

دوبارہ ویزا لگوایا۔

اور چند ماہ بعد دوبارہ پردیس چلا گیا۔

جانے سے ایک رات پہلے میرا بیٹا میرے پاس آ کر بیٹھ گیا۔

اُس نے پوچھا:

"ابو، آپ پھر جا رہے ہیں؟”

میں نے مسکرا کر کہا:

"ہاں بیٹا۔”

"تاکہ ایک دن تمہیں نہ جانا پڑے۔”

وہ شاید پوری بات نہ سمجھ سکا۔

مگر میں سمجھ گیا تھا۔

بعض آدمی زندگی میں دو بار گھر بناتے ہیں۔

پہلی بار اینٹوں کا۔

اور دوسری بار حوصلے کا۔

میرا پہلا گھر بننے سے پہلے ٹوٹ گیا تھا۔

اب میں دوسرا بنا رہا تھا۔

اور مجھے یقین تھا…

یہ والا کوئی نہیں گرا سکے گا۔ ❤️

~ ©️ انتخابِ سخن ~

#EmotionalStory #husbandandwifelife #lifestyle #urduadab