زندگی کے ساز صرف محبت اور خوشیوں ہی میں ہم آہنگ ہو سکتے ہیں جب نفرت اور رنج چھا جائیں تو یہ موسیقی درہم برہم ہو کر رہ جاتی ہے
(اقتباس: شفیق الرحمن کی کتاب "مدّو جزر” سے)
زندگی کے ساز صرف محبت اور خوشیوں ہی میں ہم آہنگ ہو سکتے ہیں جب نفرت اور رنج چھا جائیں تو یہ موسیقی درہم برہم ہو کر رہ جاتی ہے
(اقتباس: شفیق الرحمن کی کتاب "مدّو جزر” سے)
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔