زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی
جاری ہے ابھی گردشِ پا سہمی ہوئی سی
دل ٹوٹ تو جاتا ہے پہ گریہ نہیں کرتا
کیا ڈر ہے کہ رہتی ہے وفا سہمی ہوئی سی
اٹھ جائے نظر بھول کے گر جانبِ افلاک
ہونٹوں سے نکلتی ہے دعا سہمی ہوئی سی
ہاں ہنس لو رفیقو کبھی دیکھی نہیں تم نے
نمناک نگاہوں میں حیا سہمی ہوئی سی
… More
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔