زمانہ کچھ بھی کہے تیری آرزو کر لوں ارشد کمال زمانہ…


زمانہ کچھ بھی کہے تیری آرزو کر لوں
ارشد کمال
زمانہ کچھ بھی کہے تیری آرزو کر لوں
شب سیاہ میں سورج کی جستجو کر لوں

مرے خدا مجھے توفیق سرکشی دیدے
خزاں ہے سامنے کچھ ذکر رنگ و بو کر لوں

اگر ہو مجھ کو میسر کہیں سے کوئی کرن
تو شب دریدہ ہے جو کچھ اسے رفو کر لوں

جو آنکھ کھول دوں سن کر ضمیر کی دستک
تو خود کو اپنی نظر میں میں سرخ رو کر لوں

ہوا ہے کتنے دنوں بعد رابطہ قائم
اب اپنے آپ سے راشدؔ میں گفتگو کر لوں



Comments

3 responses to “زمانہ کچھ بھی کہے تیری آرزو کر لوں ارشد کمال زمانہ…”

  1. ایڈمن صاحب ۔ برائے مہربانی شاعر کا نام بھی لکھ دیا کریں

  2. براہ کرم رہنمائی فرمایئے کہ ان کا نام ارشد ھے(جو کہ شروع میں لکھا ھے) یعنی ارشد کمال ۔
    یا راشد ھے جو کہ مقطع میں آیا ھے۔
    شکریہ

جواب دیں