روشنی لینے چلے تھے اور اندھیرے چھا گئے
مسکرانے بھی نہ پائے تھے کہ آنسو آ گئے
آج کتنے دوست مجھ کو دیکھ کر کترا گئے
اللہ اللہ اب محبت میں یہ دن بھی آ گئے
جب بھی آیا ہے کسی کو بھول جانے کا خیال
یک بیک آواز آئی ” لیجئے ہم آ گئے ” –!!!
آہ وہ منزل جو میری غفلتوں سے گم ہوئی
ہائے وہ رہبر جو مجھ کو راہ سے بھٹکا گئے
… More
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔