رفیق سندیلوی کی پیدائش December 01, 1931 نام محمد…


رفیق سندیلوی کی پیدائش
December 01, 1931

نام محمد رفیق اور تخلص رفیق ہے۔یکم دسمبر۱۹۴۱ء کو سندیلیا(ٹوبہ ٹیک سنگھ) میں پیدا ہوئے۔ ایم اے(اردو) پنجاب یونیورسٹی سے کیا اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اسلام آباد میں تدریس سے وابستہ ہیں۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’’سبز آنکھوں میں تیر‘‘، ’’گرز‘‘، ’’ایک رات کا ذکر‘‘(شعری مجموعے)، ’’غار میں بیٹھا شخص‘‘، ’’پاکستان میں اردو ہائیکو‘‘۔
رفیق سندیلوی جدید اُردو نظم کے تازہ دم اور معتبر شاعروں میں سے ہیں۔ اُنھوں نے مختصر مدت میں اپنی فکری ندرت اور فنی جودت کی بدولت اُس مقام تک رسائی پائی ہے جو قابلِ فخر بھی ہے اور لائقِ تقلید بھی۔ معاصر نظم گو شعرا میں اُن کی آواز نہ صرف نمایاں و ممتاز ہے بلکہ بہ آسانی آگے نکلتی اور اپنے اوج کے نئے زاویے ترتیب دیتی دکھائی دیتی ہے۔ ’’غار میں بیٹھا شخص‘ ‘کی نظمیں اِسی حقیقت کا آئینہ ہیں اوراِ ن نظموں کے مطالعے سے بہت واضح طور پر احساس ہوتا ہے کہ اِن کا خالق صرف اچھے درجے کا شاعر نہیں،بہت اچھے اور اعلی پائے کا وہ سخن گر ہے جسے اپنے فن پر غیر معمولی قدرت اور دسترس حاصل ہے۔

ڈوب جائیں نہ پھول کی نبضیں
اے خدا موسموں کی سانسیں کھول
…..
سورج کی طرح موت مرے سر پہ رہے گی
میں شام تلک جان کے خطرے میں رہوں گا