رات کے بارہ بجے واٹس ایپ پر ایک پیغام آیا۔ ’’ایمر…


رات کے بارہ بجے واٹس ایپ پر ایک پیغام آیا۔

’’ایمرجنسی ہے۔ کوئی جاگ رہا ہے؟‘‘

کالج کے دوستوں کا وہ گروپ کئی مہینوں سے خاموش پڑا تھا۔ کبھی کبھار کسی کی سالگرہ پر مبارک باد آ جاتی، کسی کی پرانی تصویر پر دو چار ہنستے ہوئے ایموجی، اور پھر وہی خاموشی۔

مگر اس رات چار لوگوں نے چند لمحوں کے اندر جواب دے دیا۔

’’ہاں، بولو۔‘‘

’’کیا ہوا؟‘‘

’’سب ٹھیک ہے؟‘‘

پیغام بھیجنے والی ایما تھی۔

چونتیس سال کی عمر میں وہ ہماری سب سے کامیاب دوست سمجھی جاتی تھی۔ بڑے وکالتی ادارے میں ملازمت، خوب صورت گھر، شوہر، بچے اور سوشل میڈیا پر ایسی زندگی جسے دیکھ کر لوگ اپنی زندگی سے شکوہ کرنے لگیں۔

کچھ دیر بعد اس کا پیغام آیا۔

’’میں ایک فارمیسی کے باہر گاڑی میں بیٹھی ہوں۔ میرے پاس نیند کی گولیوں کی بوتل ہے۔ سمجھ نہیں آ رہا کہ گھر واپس جاؤں یا نہیں۔‘‘

گروپ میں اچانک خاموشی چھا گئی۔

ہم سب جانتے تھے کہ ایسے موقع پر کیا کہا جاتا ہے۔

’’ایسا مت کرو۔‘‘

’’بچوں کا سوچو۔‘‘

’’زندگی بہت قیمتی ہے۔‘‘

لیکن بعض راتوں میں انسان کو زندگی کی قیمت سمجھانے سے پہلے اس کا درد سننا پڑتا ہے۔

سب سے پہلے جیسن کا پیغام آیا۔

’’ایما، کیا تم گاڑی میں اکیلی ہو؟‘‘

’’ہاں۔‘‘

’’مجھے اپنی لوکیشن بھیجو۔ میں تمہارے پاس آ رہا ہوں۔ تب تک کسی قریبی شخص کو فون کرو اور اپنے ساتھ رکھو۔ بوتل سے دور ہو جاؤ، ٹھیک ہے؟‘‘

مائیک نے فوراً لکھا:

’’میں بھی فون پر موجود ہوں۔ تمہیں اکیلے یہ رات نہیں گزارنی۔‘‘

سارہ نے ایما کو کال کر دی۔ میں نے بھی اسے پیغام بھیجا کہ وہ فون بند نہ کرے اور ہمیں جواب دیتی رہے۔

ایما نے چند منٹ بعد لکھا:

’’تم لوگوں کو نہیں معلوم، میں کتنی تھک گئی ہوں۔‘‘

کسی نے اسے مضبوط بننے کا مشورہ نہیں دیا۔

کسی نے یہ نہیں کہا کہ اس کے پاس تو سب کچھ ہے۔

کیونکہ ہم جانتے تھے کہ انسان کی زندگی باہر سے جتنی مکمل دکھائی دے، اس کے اندر اتنی ہی خاموش جگہیں بھی ہو سکتی ہیں جن تک کسی کی نظر نہیں پہنچتی۔

کچھ دیر بعد مائیک نے لکھا:

’’میں بھی 2019 میں ایسی رات سے گزرا تھا۔ کسی کو بتایا نہیں تھا۔‘‘

سارہ نے جواب دیا:

’’2021 میں میری باری تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ میں اپنے ہی گھر میں اجنبی ہو گئی ہوں۔‘‘

جیسن نے لکھا:

’’میں نے بھی ایک وقت میں سب ختم کرنے کا سوچا تھا۔‘‘

میں دیر تک اسکرین کو دیکھتا رہا۔

پھر لکھ دیا:

’’2018 میں میں بھی اس مقام تک پہنچ گیا تھا جہاں مجھے اپنا کل دکھائی نہیں دیتا تھا۔ مجھے مدد کی ضرورت تھی، لیکن میں یہ ماننے سے ڈرتا تھا۔‘‘

اس رات پہلی مرتبہ ہم نے ایک دوسرے کے بارے میں وہ باتیں بتائیں جو کالج کے پانچ سالوں میں بھی نہیں بتائی تھیں۔

ہم نے ایک دوسرے کو اپنی ڈگریاں بتائی تھیں، اپنی محبتوں کے قصے سنائے تھے، نوکریوں کی کامیابیاں گنوائی تھیں۔ مگر یہ کبھی نہیں بتایا تھا کہ ہم میں سے کون کس رات اپنے ہی وجود سے لڑتا رہا۔

ہم سب نے اپنے اپنے دکھ الگ الگ اٹھائے تھے۔

شاید ہمیں لگتا تھا کہ ہمارے دوستوں کی زندگیاں ہم سے بہتر ہیں۔

رات کے تقریباً تین بجے ایما نے لکھا:

’’میں نے بوتل کو کوڑے دان میں پھینک دیا ہے۔ جیسن میرے ساتھ ہے۔ میں اب گھر جا رہی ہوں۔‘‘

اس کے بعد ایک اور پیغام آیا۔

’’شکریہ، تم لوگوں نے مجھے شرمندہ نہیں کیا۔‘‘

یہ پڑھ کر سارہ نے صرف اتنا لکھا:

’’تم ہماری دوست ہو، ایما۔ تمہیں ہمارے سامنے ٹھیک ہونے کا ڈراما کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘

اس رات کے بعد ہمارا گروپ پھر کبھی پہلے جیسا خاموش نہیں رہا۔

ہماری زندگیاں اچانک آسان نہیں ہوئیں۔ کسی کی شادی میں مسائل تھے، کسی کی ملازمت چھوٹ گئی، کوئی اپنے والد کی بیماری سے ٹوٹ رہا تھا، اور کوئی ہر روز دفتر میں مسکرا کر گھر آتا مگر رات کو اپنے ہی خیالات سے خوف زدہ رہتا۔

مگر اب ہم ایک دوسرے کو فون کر لیتے تھے۔

کبھی کوئی لکھتا، ’’آج دل بہت بھاری ہے۔‘‘

کبھی کوئی صرف ایک نقطہ بھیج دیتا۔

اور باقی سمجھ جاتے کہ آج اسے گفتگو نہیں، کسی کی موجودگی چاہیے۔

ہم نے یہ بھی سیکھا کہ ہر دکھ کا جواب مشورہ نہیں ہوتا۔ کبھی کسی کو ماہرِ نفسیات تک پہنچانے میں مدد دینا ضروری ہوتا ہے، کبھی اس کے ساتھ بیٹھ کر بات سننا، اور کبھی اسے اس وقت تک اکیلا نہ چھوڑنا جب تک فوری خطرہ ٹل نہ جائے۔

پچھلے ہفتے ایما نے گروپ میں ایک پیغام لکھا۔

’’ایک بات سوچ رہی ہوں۔ ہم سب اپنی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر اندر سے ٹوٹ چکے تھے، مگر ایک دوسرے کو صرف اپنی کامیابیاں دکھاتے رہے۔ شاید ہم ایک دوسرے کو بہت پہلے بھی بچا سکتے تھے، اگر سچ بولنے سے اتنا نہ ڈرتے۔‘‘

مائیک نے جواب دیا:

’’شاید ہم سب کو لگتا تھا کہ صرف ہم ہی ایسے ہیں۔‘‘

میں نے فون ایک طرف رکھ دیا۔

کھڑکی کے باہر صبح ہو رہی تھی۔

مجھے خیال آیا کہ کالج میں ہم پانچوں ہمیشہ ایک ہی میز پر بیٹھتے تھے۔ تب ہمیں لگتا تھا کہ دوستی کا مطلب ایک ساتھ ہنسنا، گھومنا اور یادیں بنانا ہے۔

اب سمجھ آیا کہ دوستی کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ جب کسی کی زندگی سے امید اٹھنے لگے تو کوئی اس کا ہاتھ تھام کر کہے:

’’تمہیں آج پوری زندگی کا فیصلہ نہیں کرنا۔ بس یہ رات ہمارے ساتھ گزار لو۔ کل کی صبح ہم مل کر دیکھ لیں گے۔‘‘

ہم پانچوں اب بھی اپنی اپنی زندگیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔

ہم میں سے کوئی مکمل نہیں ہوا۔

کوئی ایسا بھی نہیں جس کے تمام زخم بھر گئے ہوں۔

لیکن اب ہمارے پاس ایک ایسا گروپ ہے جہاں کسی کو یہ ثابت نہیں کرنا پڑتا کہ وہ خوش ہے، کامیاب ہے یا مضبوط ہے۔

وہ بس اتنا لکھ سکتا ہے:

’’کوئی جاگ رہا ہے؟‘‘

اور دوسری طرف سے جواب آ جاتا ہے:

’’ہاں، ہم ہیں۔‘‘

شاید کبھی کبھی زندگی سے دوبارہ جڑنے کی ابتدا کسی بڑے معجزے سے نہیں ہوتی۔

بس ایک چھوٹے سے پیغام سے ہوتی ہے، جس کا جواب دینے والا کوئی موجود ہو۔

اور کبھی کبھی کسی انسان کو بچانے کے لیے پوری دنیا کا بدل جانا ضروری نہیں ہوتا۔

صرف اس کا یہ یقین لوٹانا ضروری ہوتا ہے کہ اس دنیا میں ایک جگہ ایسی بھی ہے جہاں وہ ٹوٹا ہوا ہو کر بھی واپس آ سکتا ہے۔

افسانہ: ایمرجنسی