رئیس کو مرنا تھا کیونکہ ہوس اسکے دماغ کو چڑھی ہوئی تھی : لاہور میں ڈیلیوری بوائے کے ق۔ت۔ل کیس کی سماعتوں کے دوران ایڈووکیٹ خالد سلیم گجر نے ملزمہ آمنہ عرف مانو کے اس بیان کو کیسے جھوٹ ثابت کیا تھا ۔۔۔۔ انٹرویوز میں رو رو کر خود کو بے قصور ثابت کرنے کی کوشش کرنے والی ملزمہ کا اصل چہرہ جانیں ۔۔۔۔ رئیس نامی ڈیلیوری بوائے کو فیصل ٹاؤن کے علاقہ میں ایک گھر میں باندھ کر تش۔دد کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔اب اس بات میں شک کی گنجائش ہی نہیں کہ ملزمہ آمنہ کے رئیس ڈیلیوری بوائے کے ساتھ نا۔جائز تعلقات تھے ، کئی ماہ وہ ان تعلقات کا لطف اٹھاتی رہی آکر جب اسکے شوہر فرحان نے گھر سے ایک خفیہ موبائل پکڑا اور اس موبائل میں اپنی بیوی کی ایک انجان لڑکے کے ساتھ رنگین و سنگین گفتگو دیکھی تو پتہ چلا کہ آمنہ ہفتے میں کم از کم ایک بار یا بعض اوقات دو بار بھی رئیس کو گھر بلاتی تھی جب کوئی اور موجود نہ ہوتا ۔۔۔۔ فرحان نے سب سے پہلے تو آمنہ کی ٹیوننگ کی اور پھر اس نے آمنہ کے سامنے آپشن رکھا یا تو اسی وقت طلاق لے کر میکے چلی جاؤ یا پھر اس لڑکے کو بلاؤ تاکہ میں اس سے بدلہ لوں اسکی جرات کیسے ہوئی میری بیوی پر بری نظر رکھنے کی ، آمنہ اپنا سہاگ اور گھر بچانے کے لیے تعاون پر آمادہ ہو گئی مگر اسکے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ اسکا شوہر رئیس کی جان لے لے گا یوں اس نے میسجز کرکے رئیس کو بلایا اور فرحان نے اسے پکڑ لیا اور باندھ کر تش۔دد کا نشانہ بنایا ، اس دوران رئیس مر گیا ، احتیاطی طور پر فرحان اور آمنہ نے رئیس کی ایک ویڈیو زبردستی بنا لی تھی جس میں رئیس کا کہنا تھا کہ وہ ڈ۔کیتی کرنے اس گھر میں آیا اور اسے مزاحمت میں ڈنڈے لگے ہیں ۔۔۔۔ق۔ت۔ل کے بعد دونوں میاں بیوی رئیس کی لا۔ش اپنی کار کی ڈگی میں ڈالکر شامکے بھٹیاں ایک ویرانے میں لے گئے اور پٹرول چھڑک کر اس حوالہ آ۔گ کردیا اور واپس گھر آگئے ، دوسرے روز مانگا منڈی پولیس کو ایک جلی ہوئی لا۔ش ملی تو پولیس نے اپنی مدعیت میں اس ق۔ت۔ل کا مقدمہ درج کیا دوسری جانب رئیس کے لواحقین نے دوسرے روز اسکی گمشدگی کی اطلاع فیصل ٹاؤن تھانے میں کردی تھی اور الزام لگایا کہ رئیس کو آمنہ اور اسکے شوہر نے رئیس کے 302 کی ایف آئی آر پر تفتیش شروع ہوئی ۔۔۔۔خالد سلیم ایڈووکیٹ کے بقول پولیس نے رئیس ق۔ت۔ل کیس کا چالان عدالت میں جمع کروایا تو اس میں کئی ایسے نکات تھے جنکی بنیاد پر ملزم اور ملزمہ کچھ ہفتوں میں رہا ہو جاتے کیونکہ تفتیشی افسران نے تفتیش کی زحمت نہیں کی اور جانبداری کا مظاہرہ کرکے اس کیس سے جان چھڑانے کی کوشش کی مگر پھر ایک ایماندار افسر اس کیس کا تفتیشی بنا جس نے بہترین اور موثر تفتیش سے ملزمان کو سزا دلوانے میں بڑا کردار ادا کیا ۔ اس کیس میں اہم موڑ تب آیا جب پی ایف ایس اے نے ملزم اور ملزمہ کے علاوہ مق۔تول کے موبائلز اور کال ریکارڈز کا معائنہ کیا ۔ پی ایف ایس اے رپورٹ میں موبائلز میں موجود ویڈیوز اور آڈیوز کی نشاندہی ہو گئی جو چیخ چیخ کر ملزمہ اور رئیس کے کئی ماہ کے تعلقات کا بھانڈا پھوڑ رہی تھیں ، عدالتی حکم سے یہ آڈیوز اور ویڈیوز حاصل کی گئیں اور انہیں ثبوتوں کے طور پر استعمال کیا گیا ۔۔۔ تمام ثبوتوں اور شواہد کی بناء پر عدالت نے فرحان اور آمنہ کو عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔۔۔یاد رہے کہ ڈیلیوری بوائے ق۔ت۔ل کیس کی ملزمہ آمنہ نے متعدد انٹرویوز میں خود کو اور اپنے شوہر کو بچانے کے لیے سارا قصور رئیس کا بتایا جو سفید جھوٹ تھا ، بات صرف اتنی تھی کہ جب تک تعلقات کا کسی کو پتہ نہ چلا ، رئیس آمنہ کی جان تھا اور جب تعلقات بے نقاب ہو گئے تو ہوس کی پجارن نے سارا ملبہ رئیس پر ڈالنے کی کوشش کی جسے خالد سلیم گجر ایڈووکیٹ اور انکی ٹیم نے ناکام کرکے انہیں عدالت سے قرار واقعی سزا دلوا دی ۔۔۔۔
Source
