دِل و نَظَر میں ہیں کیسی مَحَبَّتیں دیکھو
تَماشا بن گئیں ہر سُو یہ قُربَتیں دیکھو
َلرز اُٹھی ہُوں مَیں تَکتے ہی چاند کو چَھت پَر
کہ چاندنی میں بھی چھائی تھیں وَحشتیں دیکھو
وہ دُور رہ کے بھی مُجھ کو دِکھائی دیتا ہے
ہیں چَشمِ قلَب کو بَخشی بَصِیرَتیں دیکھو
حِنائ ہاتھ کو تھامے وہ میرے ساتھ چَلے…

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔