دِل جس سے زندہ ہے وہ تمنّا تُمہی تو ہو
ہم جِس میں بس رہے ہیں وہ دُنیا تُمہی تو ہو
پُھوٹا جو سینہء شبِ تارِ الست سے
اُس نورِ اوّلیں کا اُجالا تُمہی تو ہو
سب کُچھ تُمہارے واسطے پیدا کِیا گیا
سب غایتوں کی غایتِ اُولیٰ تُمہی تو ہو
جلتے ہیں جبرائیل کے پر جِس مقام پر
اُس کی حقیقتوں کے شناسا تُمہی تو ہو
گِرتے ہُوؤں کو تھام لِیا جِس کے ہاتھ نے
اے تاجدارِ طیبہ و بطحا تُمہی تو ہو
جو دستگیر ہے وہ تُمہارا ہی ہاتھ ہے
جو ڈُوبنے نہ دے وہ سہارا تُمہی تو ہو
دُنیا میں رحمتِ دو جہاں اور کون ہے
جس کی نہیں نظیر وہ تنہا تُمہی تو ہو۔۔۔!
صَلَّى ﷲُ عَلَیہِ واٰلِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔