دُوسری ہجرت
پھر مرے مکّہ سے پیغمبر
ہجرت کر کے چلا گیا ہے
اور اب پھر سے
کعبہ کہ رَم خوردہ بُت
اصنامِ طلائی
اپنی اپنی مسند پہ آ بیٹھے ہیں
سچ کا لہُو
اُن کے قدموں میں
عُنّابی قالین کی صُورت بچھا ہُوا ہے
کمخوابی خیموں کے اندر
بزمِ حریفاں پھر سجتی ہے
کذب و ریا کی دَف بجتی ہے
احمد فراز