دل کا معاملہ دلِ ناآشنا کے ساتھ ایسے ہے جیس…

دل کا معاملہ دلِ ناآشنا کے ساتھ
ایسے ہے جیسے رابطۂ گُل صبا کے ساتھ

دیکھو تو پیچ و تاب کی صورت! کہ مل گئی
شامِ فراق بھی ترے زلفِ دوتا کے ساتھ

یہ کیا بہار ہے کہ دکھائی گئی مجھے؟
شعلوں کی آنچ بھی گُلِ رنگیں قبا کے ساتھ

یہ کیا طلسم ہے کہ سنایا گیا مجھے؟
سازِ شکستِ دل تری آوازِ پا کے ساتھ

اے دوستو! یہی ہے قیامت کہ روزِ حشر
ہم بھی جگائے جائیں گے خلقِ خدا کے ساتھ؟

گلشن میں آئی، پیرہنِ رنگ بن گئی
وہ موجِ خوں کہ چہرہ کُشا تھی حنا کے ساتھ

عابدؔ بیانِ جلوۂ ناگاہ کیا کروں؟
خوبی ادا کے ساتھ ھے، شوخی حیا کے ساتھ

(عابد علی عابدؔ)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی