دل لہو ہوتا ہے ‘ ہو ، آنکھیں لہو مت کیجیو
چاہتی ہے جو یہ دنیا ‘وہ کبُھو مت کیجیو
جا نیو اس کو تبرُّک بارگاہِ عشق کا
جب مسَک جائے کو ئی دھڑکن، رفو مت کیجیو
سُورہء یوسُف ہے و ہ رخ ‘ دید کو تاکید ہو
ایسے چہرے کی تلاوت بے وضو مت کیجیو
بے نسب آواز کا مت دیجیو ہر گز جواب
اپنے لہجے کو کبھی بے آبرو مت کیجیو
دربدر،کاسہ بہَ کف، شُہرت گزیدوں کایہ غول
ان سے عِبرت لیجیو، یہ ہاو ہُو مت کیجیو
( نسیم سیّد )

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔