دلدل قسط نمبر38
ریاض عاقب کوہلر
سب سے پہلے فاضل خان نے اپنے ان آدمیوں کو اکٹھا کیا جو اس کی گرفتاری کے بعد منظر سے غائب ہو گئے تھے ۔اس کے بعد اس نے نورل کے ذریعے درجن بھر نئے بندے بھی اپنے گروہ میں شامل کر لیے، کیونکہ اس کے پانچ چھ بندے اسماعیل کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے تھے دو آدمی اس نے خود مروائے تھے ، دو تین آدمی بلیک واٹر کے ہاتھوں انجام کوپہنچے تھے جبکہ ملک دشمن سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے اسے آدمیوں کی شدت سے ضرورت تھی۔
اپنی بیٹی کی حفاظت اور اس کی حرکات پرنظر رکھنے کے لیے اس نے چار آدمی محافظ کے طور پر اس کے ساتھ مقرر کر دئےے تھے۔لیکن وہ صرف ایک دفعہ گھر سے باہر نکلی تھی اور بازار سے موبائل وغیرہ کی خریداری کے بعد واپس آگئی تھی۔اپنی سہیلی کے ساتھ البتہ وہ کافی دیر مصروف گفتگو رہی تھی اور فاضل خان جانتا تھا کہ وہ کس مسئلے میں سر کھپا رہی ہے ۔شام کا کھانا بھی اس نے کمرے میں کرن کے ساتھ مل کر کھایا تھا ۔اور پھر کرن کے رخصت ہونے کے تھوڑی دیر بعد وہ اس کی خواب گاہ میں گھس گیا ۔وہ موبائل پرکسی سے بات کر رہی تھی ۔فاضل خان کا اندر داخل ہونا اور اس کا رابطہ منقطع کرنا اکھٹے ہوا تھا شاید وہ بات مکمل کر چکی تھی۔
”آئیں پاپا….“اسے دیکھتے ہی وہ جلدی سے کھڑی ہو گئی ۔فاضل خان نے نظر بھر کر اسے دیکھا ، اسے محسوس ہوا کہ وہ بہت بڑی ہو گئی تھی۔
”بیٹھو گڑیا ۔“وہ اس کے ساتھ ہی چارپائی پربیٹھ گیا ۔”طبیعت کیسی ہے اب ؟۔“
”ٹھیک ہوں پاپا۔“
”اچھا بیٹی میں ایک ضروری بات کرنے آیا تھا ۔“اس کے لہجے میں پہلے والی گھن گرج اور طنطنہ مفقود تھا ۔
وہ دھیرے سے بولی ۔”جی پاپا ….حکم کریں ؟“
”گڑیا پتاہے نا ….پچھلے دنوں حالات کافی خراب رہے ہیں ….اور اس دوران اگر مجھے کچھ ہو جاتا تو ایک بہت بڑی ذمہ داری میں ادھوری چھوڑ جاتا۔پاپا کی جان تمھیں پتا ہو گا کہ بیٹیاں پرایا دھن ہوتی ہیں اور والدین کے لیے بیٹی کو رخصت کرنا جتنا مشکل اور گراں مرحلہ ہے اتنا ہی ضروری بھی ہے۔اگر والدین چاہیں بھی تو اسے ساری زندگی اپنے پاس نہیں رکھ سکتے ۔تمھیں آج نہیں تو کل پرائے گھر جانا پڑے گا ۔پہلے میں اس بات پراتنا دھیان نہیں دیتا تھا جبکہ تمھاری ماں نیک بخت مجھے ہر وقت اس بات کا احساس دلاتی رہتی اور میں اس کی باتوں کو ہنسی مذاق میں ٹال دیتا تھا….پراب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ وہ حق پر تھی ،موت حیات کا کوئی پتا نہیں …. میں تو یوں بھی دشمن دار آدمی ہوں اور موت کے فرشتے کے علاوہ بھی کچھ لوگ میری گھات میں ہیں ۔ اس لیے چندا میں تمھاری پسند پو چھنے آیا ہوں ….اگر تو کسی کو پسند کرتی ہے تو اسے بتا دوکہ وہ اپنے والدین کو ہمارے پاس بھیجے….اگر رشتہ تمھارے لائق ہوا تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا اور اگر تمھاری کوئی پسند نہیں ہے تو بھی بتا دو تاکہ ہم ہی کوئی فیصلہ کر لیں ۔“
اس وقت حنا کو محسوس ہوا کہ کرن کا تجزیہ بالکل ٹھیک تھا ۔ والد اس کی شادی کے بارے سنجیدہ تھا ۔وہ دھیمے لہجے میں بولی ۔
”پاپا ! …. میں نے شادی نہیں کرنی ۔“
”پاپا کی جان ! …. اگر یہ ممکن ہوتا سب سے زیادہ خوشی مجھے ہوتی ۔“
”اس میں ناممکن والی کون سی بات ہے ؟“
”یہ فطرت سے بغاوت کرناہے ….اورایسا صرف سوچنا ممکن ہے ۔“
”کوئی بغاوت نہیں ہے پاپا ….اللہ آپ کی عمر دراز کرے ،آپ دیکھ لیں گے کہ میں کتنی ثابت قدم ہوں ۔“
”غلط بات پرڈٹ جانے کو ثابت قدمی نہیں کہتے گڑیا۔“
”پاپا ! کیا آپ میری خوشی میں خوش نہیں ہیں ؟“
’بیٹی !…. آج تک جو بھی کام کیا ہے ،چاہے وہ ٹھیک ہے یا غلط تمھاری خوشی کے لیے ہی کیا ہے۔“
”تو بس ٹھیک ہے پاپا….میں شادی نہ کر کے خوش ہوں۔“حنا نے جواب دیا اور پھر اس کے ذہن میں ایک اورسجھاو¿ آیا اور وہ بات جاری رکھتے ہوئے بولی ۔”اور ماسٹر کرنے سے پہلے تو میں اس بارے سوچ ہی نہیں سکتی ۔“
مگر فاضل خان اس کی بار پرتوجہ دئےے بغیر بولا۔”تمھاری ماں نے مجھے تین رشتے بتائے ہیں ….ایک امریکن نیشنلٹی ڈاکٹر کاہے ۔ دوسرے کااپنا کاروبار ہے اور وہ برطانیہ میں سیٹل ہے ….جبکہ تیسرا ایم این اے کا بیٹا ہے ….مجھے تو تینوں رشتے پسند ہیں تم ان کے فوٹو دیکھ کر ماں کو اپنی پسند بتا دینا ۔“
”پاپا اگر آپ روایتی والدین کی طرح زبردستی کرنا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی ….ورنہ میں کسی ڈاکٹر انجینئر پرراضی نہیں ہوں ۔“
فاضل خان نے پیار سے اس کے ماتھے پربوسا دیتے ہوئے کہا ….
”پاپا کی جان ! ….تمھیں پتا ہے کہ میں تمھارے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتا ہوں ….بہ ہر حال تمھارے پاس دو ہفتے کا وقت ہے ….اگر کوئی لڑکا پسند ہے تو ماں کو بتا دینا مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا دوسری صورت میں دو ہفتے کے بعد میں امریکن ڈاکٹر کی فیملی کو گھر بلوا لوں گا ….پھر تمھاری مرضی بھری محفل میں اپنے پاپا کی انسلٹ کراتی ہو یا اس کی بات کی لاج رکھتی ہو ۔“ اور پھر حنا کا جواب سنے بغیر کمرے سے باہر نکل آیا۔وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ حنا کبھی بھی اس کے سامنے اسماعیل کی چاہت کا اقرار نہیں کرے گی ۔ اور اس کے علاوہ وہ کسی لڑکے سے واقف بھی نہیں تھی۔انھی سوچوں میں سرگرداں وہ اپنے مخصوص کمرے میں داخل ہوا تو اچانک اس کے خفیہ موبائل کی گھنٹی بجنے لگی ….اس نے سرعت سے الماری سے وہ موبائل نکالااور کال اٹینڈ کرتا ہوا بولا ۔
”یس سر ….فاضل سپیکنگ۔“
”سیٹھ صاحب !….سنا ہے پرسوں فقہ جعفریہ والے ایک بہت بڑا جلوس نکالنے والے ہیں ….کوئٹہ میں ہونے والے حالیہ دھماکے میں اس فرقہ کے کافی افرادہلاک ہوئے ہیں ….اور ان کے غم میں احتجاجی جلوس دوسرے بڑے شہروں کے علاوہ کراچی سے بھی نکالا جائے گا ۔“
”سر میں چند منٹ میں پتا کر کے آپ کو بتا دیتا ہوں ۔“
”مجھے کنفرم ہے ….اور پتا ہے نا تم نے کیا کرنا ہے ؟“
”جی سر ۔“اس کے لہجے میں خوشی کا عنصر نمایاں تھا،آخر بلیک لیکوئڈ نے اس سے دوبارہ کام لینا شروع کر دیا تھا ۔
جواباََ ایسے انداز میں ”گڈ ۔“کہا گیا جیسے وہ رابطہ منقطع کر نے والا ہو ۔وہ جلدی سے بولا۔
”سر ایک بات پوچھوں ؟۔“
”پوچھو ؟“
”مسٹر ڈیوی کی جگہ پرکوئی آدمی نہیںآرہا؟“
”نہیں اس کی جگہ پرکوئی نہیں آئے گا ….اب تمھیں براہ راست احکامات ملا کریں گے ۔ ویسے تمہاری اطلاع کے لیے بتا دوں کہ ڈیوی واپس ہمارے پاس پہنچ گیا ہے ۔“
”بلیک لیکوئڈ کے آدمی کو کون قید رکھ سکتا ہے سر “اس کے لہجے میں خوشامد کا عنصر نمایاں تھا ۔
جواباََ۔ ”گڈ بائی ۔“کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا گیا ۔موبائل واپس الماری میں رکھتے ہوئے اس نے ایک دوسرا موبائل وہاں سے نکالا اور ایک مخصوص نمبر ڈائل کرنے لگا ۔پہلی گھنٹی پرکال اٹینڈ کر لی گئی تھی ۔
”جی سیٹھ صاحب ؟“
”کیسے ہو منورصا حب ؟۔“
”فٹ اینڈ فائن، سیٹھ صاحب ۔“
”اگر یوں ہے تو ایک سوزکی کار تیار کرا لو کل شام تک چاہیے ہو گی ۔“
”ہو جائے گی سیٹھ صاحب ….کہاں بھیج دوں ؟“
ایک لمحہ سوچنے کے بعد وہ بولا۔”میرے گھر ہی بھجوا دینا ۔ویسے کوئی خطرہ تو نہیں ہو گا ناں،اصل میں پہلے میں جس جگہ کو استعمال کیا کرتا تھا وہ کسی دشمن کے ہاتھوں تباہ ہو گئی ہے ۔“
”کیسی بات کرتے ہیں سیٹھ صاحب ….اگر میرے کام میں بھی خطرہ ہو تو پھر باقیوں میں اور مجھ میں فرق کیا رہ جائے گا ؟“
”ویسے ایک دوسری جگہ ہے میرے پاس مگروہ اس لوکیشن سے کافی دور ہے ۔جہاں یہ استعمال ہونی ہے اور پھر یہ تو آپ جانتے ہیں کہ جتنی دور سے آئے گا پکڑے جانے کا خطرہ بڑھتا جائے گا ….پھر بھی اگر ذرا سا خطرہ بھی ہو تو مجھے آگاہ کردو میں رسک لیتے ہوئے اسی دور والے مقام کو استعمال کر لوں گا ۔“
”سیٹھ صاحب ! ….اب اتنی بے اعتباری بھی اچھی نہیں ہوتی۔جب تک ہمارا مخصوص فنکشن ایکٹی ویٹ (Function,Activate)نہیں کیا جائے گا ،ہلکا سا بھی خطرہ نہیں۔آپ بالکل مطمئن رہیں ۔“
”ٹھیک ہے ۔کل عصر تک کام ہو جانا چاہےے ۔“
جواب ملا۔”ٹھیک ہے سیٹھ صاحب میں کوشش کروں گا شاید اس پہلے ہی مکمل کرلوں۔“
”اوکے….رقم میں آپ کے اکاو¿نٹ میں ابھی ٹرانسفر کرا دیتا ہوں“
’تھینک یو سیٹھ صاحب ….“
”گڈ بائی ۔“کہہ کر اس نے رابطہ منقطع کردیا ۔
٭….٭….٭
”جی بھائی صاحب ….؟“کوٹھی کے گیٹ پرکھڑا نیا چوکیدار عاطف کو نہیں پہچانتا تھا ۔
”حنا بی بی کو کہیں عاطف آیا ہے ؟“
”آئیں سر ….آپ کے بارے اس نے پہلے سے بتایا ہوا ہے ۔“اس بار چوکیدار کے لہجے میں ادب کا پہلو واضح تھا ۔اس نے پیچھے جا کر گیٹ کھولا اور عاطف کار اندر لے گیا ….گیرج کے سامنے کار کھڑی کر کے وہ اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گیا ۔حنا کا کمرہ اس کا دیکھا بھالا تھا اس لیے اس نے کسی سے رہنمائی لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔برآمدے میں گھومتے ہوئے دو مستعد گن مینوں کو دیکھ کر عاطف کے ہونٹوں پرمسکراہٹ دوڑ گئی ۔سیٹھ فاضل نے بڑی جلدی پر پرزے نکالے تھے ۔دونوں گن مینوں نے عاطف کو گہری نگاہوں سے دیکھنے پراکتفا کیا تھا ۔
”حنا کی خواب گاہ کا دروازہ کھٹکھٹانے پر ”یس ۔“ کی آوازآئی اور وہ اندر داخل ہو گیا ۔وہ اس کے انتظار میں بے قراری سے ٹہل رہی تھی ۔اسے دیکھتے ہی وہ خفگی سے بولی ۔
”بھیا اتنی دیر کر دی ؟“
وہ قریب جا کر اس کے جھکے سر پرہاتھ رکھتا ہوا بولا”چھوٹی تم اچھی طرح واقف ہو کہ میں کون سی جاب کرتا ہوں۔پھر میرا نہیں خیال کہ تمھیںکوئی گلا ہونا چاہےے ….؟“
”اچھا یہ بتائیں کھانا کھایا ہے کہ نہیں ؟۔“
”کوئی اچھی ڈش بنی ہے تو منگوا لو ؟“
حنا نے ہنستے ہوئے کہا ”ہاں کرن آئی تھی نا ….اور وہ جب بھی آتی ہے کم از کم تین چار ڈشیں بنانی پڑتی ہیں ۔“ یہ کہتے ہی اس نے ملازمہ کو بلانے کے لیے گھنٹی بجائی ۔
عاطف نے کرسی سنبھالتے ہوئے پوچھا ۔”طبیعت کیسی ہے اب ؟“
”بالکل ٹھیک بھیا ….آپ سنائیں ؟“
عاطف نے ہنستے ہوئے کہا۔”میں تو صرف سننے آیا ہوں بھئی “
حنا کے کچھ کہنے سے پہلے ملازمہ اندر داخل ہوتے ہوئے بولی ۔”جی چھوٹی بی بی ؟“
”ماسی کھانا گرم کر کے لے آو¿۔“
وہ دوبارہ”جی چھوٹی بی بی ۔“کہہ کر باہر نکل گئی ۔
حنا نے کھوجتی نظروں سے عاطف کے چہرے کو گھورا مگر اسے کوئی ایسا تاثر نظر نہ آیا جس سے اسے اپنے باپ کی بات میں حقیقت محسوس ہوتی ….مگر اس کے ساتھ وہ قرآن مجید کی قسم کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتی تھی۔
”کوئی خاص بات تھی کیا ؟“
”نہیں ….“حنا نے صریحاََ جھوٹ بولا ۔
”تو پھر اس وقت بلانے کا مقصد ؟“
”بس آپ سے ملنے کو من چاہ رہا تھا ….یوں بھی جب تک بہنیں بھائیوں کو باخیریت نہ دیکھ لیں انھیں چین نہیں آتا۔“حنا نے بھائی کے لفظ پرغیر محسوس انداز میں زور دیا تھا ۔
عاطف مسکرایا۔”خیریت تو فون پربھی معلوم کی جا سکتی ہے ۔“
”ہاں ….مگر شکل نہیں دِکھتی ۔“
”یہ کوئی دیکھنے والی شکل ہے ؟“
وہ دل گرفتہ لہجے میں بولی ۔”کیسی بھی ہو ….ایک بہن کے لیے تو دنیا کی سب سے دلکش شکل ہے ۔“
”اے چھوٹی ! ….اب سیدھے طریقے سے اصل بات بتا دو۔تمھارے چہرے پرمجھے بارہ بجتے نظر آرہے ہیں ؟“
”بھیا ابھی تھوڑی دیر پہلے پاپا میرے پاس آئے تھے۔“
اس نے پوچھا۔”تو پھر؟“مگر حنا کے کچھ کہنے سے پہلے ملازمہ کھانے کا ٹرے لیے اندر داخل ہوئی ۔اور عاطف کے سامنے پڑی میز پرٹرے رکھ کرجس خاموشی سے آئی تھی اس طرح واپس مڑ گئی ۔
وہ کھانے کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے دوبارہ مستفسر ہوا ۔”تم کچھ بتانے جا رہی تھیں ؟“
وہ آہستہ سے بولی ۔”پاپا میری نسبت طے کر رہے ہیں ۔“
”کہاں ؟‘اس کے نارمل لہجے سے حنا کو اس کی اندرونی کیفیت کا کوئی اندازہ نہیں ہوا تھا ۔
”امریکی شہریت رکھنے والا ایک ڈاکٹر ہے ۔“
”اس میں قباحت کیا ہے ….تمھارا باپ ہے،تمھاری بھلائی ہی سوچے گا ۔اور پھر آج کل جو پاکستان کے حالات ہیں تو ایسے میں امریکہ کی شہریت ….میرا خیال ہے آج کل کی لڑکیاں اس سے اچھا سپنا دیکھنا بھی نہیں چاہیںگی ۔“
”بھیا آپ کو تو پتا ہے پھر بھی ؟“حنا کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے ۔
”پاگل بھائیوں کو بھی تو بہنوں کے اچھے مستقبل کی حرص ہوتی ہے ….اسماعیل شاہ تمھیں سوائے غموں کے کیا دے سکتا ہے ؟….پھر وہ مجرم بھی ہے ،گرفتارہو گا یا کسی اندھی گولی کا شکار ہو جائے گا ….میرا مشورہ بھی یہی ہے کہ یہ محبت وغیرہ کے فریب سے باہر نکلو ….اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا ۔“
”اسمعیل شاہ سے اتنی نفرت کا اظہار کس لیے ؟“حنا کے لہجے میں کوئی ایسی بات ضرور تھی جس نے اسے چونکا دیا تھا ادھ چبا نوالہ حلق سے نیچے اتارتے ہوئے اس نے پوچھا ….
”اپنی رہائی کی بابت تمھیں باپ نے کیا بتلایا ہے ؟“حنا کے انداز پراسے مجبوراََ موضوع بدلنا پڑا تھا۔
”پاپا نے جو بات کی وہ وہ رشتوں کا تقدس ختم کرنے والی ہے ،اس لیے وہ راز ہی رہے تو بہتر ہے ۔“
”اوکے پھر چلتا ہوں ….“اس نے اٹھتے ہوئے کہا ۔”یہ تقدس مجھے اتنی جلدی بحال ہوتا نظر بھی نہیں آتا ۔“
وہ اطمینان سے بولی ۔””پہلے مجھے خودکشی کرنے والوں پرہنسی آتی تھی ۔“
عاطف کے باہر کی طرف بڑھتے ہوئے قدم رک گئے ،قریب جا کر وہ اس کی گہری سیاہ آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا ۔
”کیا بھائی کے رشتے سے اعتبار اٹھ گیا ہے ؟“
”نہیں،لیکن جب قرآن مجید ہاتھ میں پکڑ کر کسی کے کردار پرانگلی اٹھائی جاتی ہے تو یقین نہ کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے ۔“
ایک جھماکے کے ساتھ عاطف کو ساری بات سمجھ آگئی ۔وہ اس کے ساتھ ہی بیڈ پربیٹھتا ہوا بولا ۔
”چھوٹی !…. تیز دھوپ میں صحرا یاکسی چٹیل میدان میں سے گزر نے والے آدمی کو اپنے سامنے تھوڑے فاصلے پرصاف و شفاف پانی کی لہریں نظر آتی ہیں۔اسے عرف عام میں سراب یا فریب نظر کہتے ہیں ۔ اور یاد رکھنا یہ فریب نظر کیﺅں کی جان لے چکا ہے ۔“
”بھیا !…. کچھ سمجھ نہیں آرہی میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔“وہ رو پڑی ۔
”اگر مجھے ہلکی سی بھی امید ہوتی کہ تم راز رکھ پاو¿ گی تو میں ساری کہانی بتا دیتا ….یاد رکھنا،میں نہ تو راشی ہوں اور نہ ہی کسی مجرم کے ساتھ رعایت برت سکتا ہوں چاہے وہ مجرم میرا باپ کیوں نہ ہو ….البتہ کسی کو انجانے میں جرم کی راہ پرڈال دیا جائے تو یہ اور بات ہے ۔باقی یقین کرو ،تم مجھے چھوٹی بہن کی طرح ہی عزیز ہو ، میں تمھیں اپنے کسی مقصد کے لیے استعمال نہیں کر رہا ….اسماعیل شاہ کو تمہاری رضامندی سے گرفتار کیا تھا …. ورنہ اب بھی تم اس کے پاس چند دن گزار کر آئی ہو، کیا میں نے تم سے اسماعیل شاہ کے ٹھکانے کی بابت کچھ دریافت کیا ہے ؟“جواباََحنا کا سر نفی میں ہل گیا ۔عاطف کی بات جاری رہی ۔” صرف ایک ماہ انتظار کرو ساری حقیقت تمھیں بتا دوں گا ….اور پھر یقین مانوتمھیں کم از کم مجھ سے کوئی گلہ نہیں رہے گا ۔ اور ہاں کسی کو بہن کہنے اور سمجھنے میں بہت بڑا فرق ہے۔اور میں تمھیں بہن سمجھتا ہوں ۔“
”پاپا کہہ رہے تھے آپ کے حکم پران کے ساتھ بہت ناروا سلوک کیا گیا ؟“
”ان سب باتوں کی صفائی اگر میں اکھٹے ہی کرنا چاہوں تو کیسا رہے گا ؟….میرا مطلب ہے مہینے بھر بعد ،اس سے پہلے بھی ممکن ہے مگر آخری حد ایک ماہ ہے ۔“
”ٹھیک ہے بھیا ….میں انتظار کروں گی ۔“
”اب بتاو¿ ….ڈاکٹر سے شادی کرنے میں کیا حرج ہے ؟“
” یہ ایک شریف انسان کے ساتھ دھوکا ہوگا ….شایدمیں اس کے حقوق ادا نہ کر سکوں ….اس لیے بہتر یہی ہے کہ میں شادی نہ کروں ….اسماعیل شاہ پاپا کا دشمن سہی مگر میں نا دستگی میں بہت آگے بڑھ چکی ہوں ، اب وہ ….یا پھر کوئی نہیں والی بات ہو گی۔“
”معاف کرنا ، اگر وہ تمھارے والد کے قاتل کے روپ میں سامنے آ یا پھر ؟“
”مرد کے بغیر زندگی گزارنا بہ ہر حال اتنا بھی مشکل نہیں ہے….اور بالفرض کوئی مشکل نظر آئی بھی تو شادی بعد میں بھی تو کی جا سکتی ہے ۔بیس ،اکیس سال کوئی اتنی بڑی عمر نہیں ہے کہ بھائی ،بہن کی شادی کی فکر میں گھلنا شروع کر دے ۔“ آخری فقرہ کہتے ہوئے اس کے لبوں پرمسکراہٹ کھلنے لگی تھی ۔
ََعاطف کے ہونٹوں پربھی تبسم کھلنے لگااس نے کہا۔”میں نہیں اس فکر میں تمہارا باپ گھل رہا ہے ….البتہ میں اس کی تائید کر رہا ہوں کیونکہ لڑکیاں جتنی اپنے گھر بسا لیں اتنا بہتر ہوتا ہے ۔“
”بھیا !….پاپا نے مجھے صرف دو ہفتے کی مہلت دی ہے ،اس کے بعد وہ ڈاکٹر کی فیملی کو بلالیں گے اور بھری محفل میں انکار کرنے پرپاپاکی جتنی انسلٹ ہوگی ….؟میں کیسے اتنی جرا¿ت کر پاو¿ںگی۔“
عاطف مسکرایا۔”تو ہاں کر دینا۔“
”بھیا پلیز۔“
”اچھا یوں کرو ….اپنی مما سے مل کر ساری صورت حال انھیں بتا دو ،وہ خود تمھارے پاپا سے بات کر لیں گی ۔“
”اگر مما کا بھی یہی فیصلہ ہوا تو ؟“
”تو یہ کہ…. اپنے والدین سے خود نبٹو ….تم جانو اور تمھارے ممی پپا ۔“یہ کہہ کر وہ کھڑ اہو گیا ۔ ”مجھے بھی اب اجازت دو ؟“
”ٹھیک ہے بھیا ….میں ایک دفعہ مما سے بات کر لوں ۔“خلاف توقع اس نے عاطف کو روکنے کی ضد نہیں کی تھی ۔عاطف اس کے سر کو سہلاتا ہوا وہاں سے نکل آیا ۔
٭….٭….٭
”یس ؟“سیٹھ فاضل انجان نمبر کی کال اٹینڈ کرتے ہوئے بولا۔
”سیٹھ صاحب میں چوکیدار شاہین بات کررہا ہوں ۔“
وہ نخوت سے بولا۔”جلدی بولو کیا بات ہے ؟“
”سیٹھ صاحب ….کوئی منور صاحب ایک نئی کار لے کر آئے ہیں ،کہہ رہے ہیں کہ یہ کار آپ کی ہے ….بیگم صاحبہ بھی اسے نہیں جانتیں ،انھوں نے کہا ہے آپ سے پوچھ کو گیراج میں کھڑی کرا دوں….وہ خود اس وقت مہمانوں کے ساتھ بیٹھی ہے ۔“
اس نے کہا۔”جو بندہ کار لے کے آیا ہے اسے فون دو ۔“
”جی سیٹھ صاحب ۔“اسے منور کی آواز سنائی دی ۔”آپ کا نمبر بند مل رہا تھا اس لیے مجبوراََ چوکیدار کا سہارا لینا پڑا ۔“
”بڑی جلدی آگئے ہو ؟….ابھی تو گیارہ بھی نہیں بجے ۔“
”سیٹھ صاحب ساری رات مصروف رہا ہوں ….سخت تھکا ہوا ہوں ….اگر آرام کے لیے لیٹ جاتا تو شاید وقت پرنہ پہنچ سکتا ….اس لیے سوچا امانت آپ کے حوالے کر کے ہی آرام کروں گا ۔“
”فنکشن میں کوئی نئی بات ؟“
”کوئی نہیں وہی پرانا طریقہ کار ہے ۔“
”ٹھیک ہے فون چوکیدار کو دو ۔“اور منور نے موبائل چوکیدار کی طرف بڑھا دیا ۔
”شاہین اسے کار صحن میں کھڑی کرنے دو۔اوراس کی چابی اپنے پاس رکھ لینا۔میں بس گھنٹے دو میں پہنچتا ہوں ۔“
”جی سیٹھ صاحب ۔“وہ مو¿دبانہ لہجے میں بولا مگر اس کی بات پوری ہونے سے پہلے فاضل خان فون بند کر کے سامنے بیٹھے شخص کی طرف متوجہ ہو گیا تھا۔
”تو ہم کہہ رہے تھے اسفند یار صاحب ….ریٹ آپ نے بہت زیادہ بڑھا دیا ہے ۔“
”سیٹھ صاحب ہماری مجبوری بھی سمجھنے کی کوشش کریں ….خود کو موت کے منہ میں دھکیلنا اتنا آسان کام نہیں ۔“
”وہ ہم بھی جانتے ہیںکہ موت کے منہ میں کون جا رہا ہے ۔“
”سیٹھ صاحب آپ کو پتا ہے ایک آدمی کو تیار کرنے کے لیے ہمارا کتنا خرچہ ہو جاتا ہے ؟“
”چلو ….دس لاکھ پرڈن ہو گیا ۔“
”لاسٹ پندرہ لاکھ ….اس سے ایک پائی بھی کم نہیں لوں گا ۔“
” وہ ڈرائیونگ تو کر لے گا نا؟“
اسفند یار نے جواب دیا۔”بالکل ۔“
”اچھا یوں ہے کہ کل ظہر کی نماز کے بعد جلوس نکلے گا اوراسے لے کر دس بجے ہمارے پاس پہنچ جانا تاکہ فنکشن کے بارے آپ کو بریف کردیں ۔“
”وہی پرانا طریقہ ہے نا؟….ٹیپ ریکارڈ کے آف ہوتے ہی دھماکا ہو گا ؟“
”ہاں ….وہی ہے ۔“
”بس بریفنگ کی ضرورت نہیں ۔“اسفند یار اطمینان سے بولا ۔
”پھر ہمیں اجازت ؟“سیٹھ فاضل اٹھنے لگا ۔
”کھانا کھائے بغیر ،ناممکن ۔“اسفند یار حتمی لہجے میں بولا ۔اور سیٹھ فاضل واپس بیٹھ گیا تھا ۔ اسے اطمینان تھا کہ اگلے دن نکلنے والے فقہ جعفریہ کے جلوس کے اندر دھماکے کا پروگرام فائنل ہو گیا تھا ۔ اور یہ کام جلتی پرتیل ڈالنے کے مترادف تھا ۔ملک میں پہلے ہی اس بارے فضا کشیدہ تھی ،اس دھماکے نے حالات بگاڑنے میں سونے پرسہاگہ کا کردار ادا کرنا تھا۔
منو ر اور اسفند یار اس کے پرانے واقف کار تھے ۔منور مختلف بارودی پھندے تیار کرنے کا ماہر تھا تو اسفند یار ان پھندوں کو استعمال کرنے کے لیے افراد تیار کرتا تھا ۔ ان میں خود کش اور ریموٹ کے ذریعے دھماکا کرنے والے سب شامل تھے ۔
کھانا کھانے کے بعد کچھ دیر پینے پلانے کا شغل چلا اور پھر اسفند یار سے رخصت لے کر وہ واپس گھر کی طرف چل پڑا ۔اس کی کار کے آگے اور پیچھے محافظوں کی ایک ایک جیپ چل رہی تھی جس میں چار چار ہتھیار بندافراد سوار تھے۔ان کی گاڑیوں کو دیکھتے ہی چوکیدار نے سرعت سے دروازہ کھول دیا تھا ۔صحن میں گاڑی روک کر اس کے محافظ نے جلدی سے اس کے لیے دروازہ کھولا ۔نیچے اتر کر وہ اس محافظ سے مخاطب ہوا۔
”چوکیدار کو ہمارے پاس بلاو¿ ۔“
”جی سیٹھ صاحب ۔“کہہ کر اس نے وہیں سے آواز دی ۔”شاہین ….ادھر آو¿ سیٹھ صاحب یاد فرما رہے ہیں ۔“ اور شاہین بھاگ کر نزدیک آگیا ۔
”نئی کار کی چابی ہمارے حوالے کرو ….اور کار کہاں کھڑی کی ہے ؟“
چوکیدار جلدی سے بولا۔” کار تو بیگم صاحبہ لے گئیں ہیں انھوں نے ڈاکٹر صاحب کے پاس جانا تھا۔ ان کی اپنی گاڑی میں کوئی گڑ بڑ تھی تو وہ نئی کار لے کے چلی گئیں …….. ۔“
”اچانک فاضل کو زمین آسمان گھومتے نظر آئے ….“
”تت ….تم ….تم ….“مگر اس سے زیادہ وہ کچھ نہ کہہ سکا اور سینے پرہاتھ رکھ کر نیچے جھکتا چلا گیا ۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کی بیوی رخشندہ دوران سفر میوزک سننے کی دلدادہ تھی ۔
٭….٭….٭
”سر !ایک آدمی نئی سوزکی کار میں آیاتھا ….چوکیدار اور فاضل خان کے گھر والے اسے نہیں جانتے تھے ۔ چوکیدار نے فون پر فاضل خان سے پوچھ کے وہ کار کوٹھی میں کھڑی کروا دی ہے ….اب کار لانے والا واپس جا رہا کیا اس کا تعاقب کرنے کی ضرورت ہے ….؟دانش فاضل خان کے پیچھے گیا ہوا ہے اور میں اس وقت اکیلا ہوں؟“اختر،عاطف کو تفصیلی رپورٹ دیتا ہوا مستفسر ہوا ۔
عاطف نے پوچھا۔”فاضل خان کہاں گیا ہوا ہے ؟“
اختر نے جواب دیا ۔”یہ تو دانش کو پتا ہو گا ۔“
”اوکے ….بندہ مشکوک لگ رہا ہے …. فاضل خان جیسے آدمی سوزکی کار استعمال نہیں کرتے ،تم اس کا تعاقب کرو،فاضل خان کے تعاقب میں یوں بھی دانش موجود ہے ۔“اور پھر اختر کی ”ٹھیک ہے سر “سنتے ہی اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
”راجہ! فاضل خان کی کوٹھی پرکسی کو نگرانی کے لیے بھیج دو ۔“وہ ٹی وی پرخبریں سنتے راجہ ذیشان سے مخاطب ہوا ۔
”جی سر “کہہ کر اس نے موبائل نکالا اور آگے حکم پاس کرکے دوبارہ خبریں دیکھنے میں مصروف ہو گیا ۔
تھوڑی دیر کے بعد عاطف دوبارہ اس سے مخاطب ہوا۔”دانش کی بھی خیر خبر لے لو ؟“
اور وہ ایک مرتبہ پھر ”جی سر “کہہ کر دانش کا نمبر ڈائل کرنے لگا ۔چند منٹ اس کے ساتھ مصروف گفتگو رہنے کے بعد وہ رابطہ منقطع کرتے ہوئے عاطف کی طرف متوجہ ہوا ….
”سر دانش بتا رہا ہے کہ وہ کسی اسفند یار نامی بیوپاری کی کوٹھی میں موجود ہے ….ان کے درمیان ہونے والی گفتگو سننے کی کوئی صورت موجود نہیں ہے ….دانش کوٹھی کے باہر اس کا منتظر ہے ۔“
”ایسا کرو ….اس اسفند یار کی نگرانی کے لیے بھی کسی کو بھیج دو کیونکہ دانش تو فاضل خان کی ہی نگرانی کرے گا ۔“ اور راجہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے الیاس کو اس کی نگرانی کا بتانے لگا ۔
ایک بجے جب وہ ذیشان کے ساتھ ڈائنگ ہال کا رخ کر رہا تھا تو اسے فاضل خان کی واپسی کی اطلاع ملی اس کے ساتھ اسے فاضل خان کی بیوی کے بھی کہیں جانے کی خبر ملی ۔گو عاطف جانتا تھا کہ وہ بے ضرر عورت ہے اس کے باوجود اس نے ،اس کی نگرانی کرانی ضروری سمجھی تھی۔
وہ بہ مشکل کھانے کھا کر فارغ ہوئے تھے جب اسے ذکا ءاللہ کی طرف سے یہ روح فرسا خبر ملی کہ فاضل خان کی بیوی کی کار ایک زور دار دھماکے سے اڑ گئی ہے ۔
”کیا کہہ رہو ؟“وہ حیرانی سے اچھل پڑا تھا ۔”کس جگہ پرہوا ہے یہ دھماکہ؟۔“
”سر ڈاکٹر درانی کے کلینک کی پارکنگ میں ….یہ تو شکر ہے میں باہر ہی رک گیا تھا ورنہ شاید میں بھی شدیدزخمی یا ہلاک ہو جاتا ۔“
”دھماکہ خیز مواد فاضل خان کی بیوی کی کار میں ہی تھا ؟“
”مجھے تو ایسا ہی لگا ….۔“
”اوکے ہم وقوعہ پرپہنچ رہے ہیں ۔“رابطہ منقطع کر کے وہ جلدی جلدی راجہ کو ساری صورت حال سے آگاہ کرنے لگا ….چند لمحوں بعد ان کی گاڑیاں وقوعہ کی طرف رواں دواں تھیں ۔وہ رستے میں ہی تھا کہ اسے اطلاع ملی فاضل خان کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے ۔
”اس تک اتنی جلدی یہ خبر کیسے پہنچ گئی ؟“اس نے خود کلامی کی تھی مگر اسے اطلاع دینے والا دانش حیرانی سے مستفسر ہوا ۔
”کون سی خبر سر ؟“
”اس کی بیوی کی کار میں دھماکا ہوا ہے ۔“
”اوہ ….“اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا ”بہر حال کچھ کہہ نہیں سکتے سر ! ….اسے کیسے معلوم ہوا ؟“
”اوکے اس کے ساتھ ساتھ رہو ۔“کہہ کر اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
دھماکے کی جگہ پولیس نے گھیراو¿ کیا ہوا تھا مگر ان کے سروس کارڈ دیکھنے کے بعد وہ انھیں روکنے کی جرا¿ت نہ کر سکے ۔پارکنگ ایریا میں ذکاءانھیں اپنا منتظر نظر آیا۔دھماکا اتنا شدید تھا کہ پارکنگ ایریا کے ساتھ ملی کلینک کی دیوار بھی گر گئی تھی۔
”بارود فاضل خان کی بیوی کی کار میں ہی تھا ۔“وقوعہ کا جائزہ لیتے ہی عاطف وثوق سے بولا ۔
ذیشان نے کہا۔”سر ! ویسے بات کچھ عجیب سی ہے ….فاضل خان اب اتنا گر گیا ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو ہی دہشت گردی کے لیے استعمال کر ڈالا ؟“
”شاید اصل بات کچھ اور ہو ….لیکن اتنا کنفرم ہے کہ فاضل خان کو پہلے سے اس حادثے کے بارے معلوم تھا ۔“ عاطف کی بات ان کے لیے حیرانی کا باعث بنی تھی ۔ذکاءمستفسر ہوا۔
”وہ کیسے سر ؟“
جواباََعاطف انھیں فاضل خان کو ہارٹ اٹیک ہونے کی خبر سنانے لگا۔
”واقعی سر ….اگر فاضل خان اس سے بے خبر نہیں ہو سکتا ….اتنی جلدی اسے کیسے پتا چل سکتا ہے ، اگر ذکاءاس کا تعاقب نہ کر رہا ہوتا تو ہم بھی اب تک اس سے بے خبر ہوتے ….بلکہ ابھی تک تو پولیس کو بھی پتا نہیں چلا ہے کہ دھماکہ کس کی کار میں ہوا ہے ۔“وہ تمام پارکنگ ایریا کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر اس پرتبصرہ کر رہے تھے۔
عاطف نے کہا ۔”مجھے ایک اور شک ہو رہا ہے ….بلکہ امید واثق ہے ایسا ہی ہوا ہوگا ۔“
وہ بیک زبان بولے۔”وہ کیا سر ؟“
”فاضل خان کی بیوی جس سوزوکی میں سوار تھی یہ کچھ دیر پہلے ہی ایک مشکوک شخص لے کے آیا تھا، اور اس کار کے اندر فاضل خان کے حکم پرہی بارود فٹ کیا گیا ہو گا….اب اس کی بیوی اس بات سے انجان تھی ،وہ ڈاکٹر کو ملنے آئی تو اس نے سوچا ہو گا کہ نئی کار کو ہی استعمال کر لوں یا پھر اس کی اپنی گاڑی میں کوئی خرابی ہو گئی ہو گی ۔اس بات کی تصدیق یوں بھی ہوتی ہے کہ گھر آتے ہی جب فاضل خان کو یہ معلوم ہوا کہ اس کی بیوی یہ کار لے کے ڈاکٹر کے پاس گئی ہے تو یہ سنتے ہی اسے ہارٹ اٹیک ہو گیا ۔“
ذیشان نے کہا۔”یعنی کار لانے والے کو اٹھوا لیا جائے؟“
”ہاں ….تم دونوں اختر کے پیچھو پہنچو ،عمران اور اکرم کو بھی بلا لینا ….میں فاضل خان کی کوٹھی سے ہو کر آتا ہوں۔“ٹھیک ہے سر کہتے ہوئے دونوں اپنی گاڑیوں کی طرف بڑھ گئے جبکہ وہ اپنی کار میں بیٹھ کر فاضل خان کی کوٹھی کی طرف روانہ ہو گیا ۔ کوٹھی کے گیٹ پرہی اسے اس پائیویٹ ہاسپیٹل کا ایڈریس معلوم ہو گیا جہاںاسے لے جایا گیا تھا ، تھوڑی دیر بعد وہ اس کے کمرے میں داخل ہو رہا تھا ،دروازے پرکھڑے فاضل خان کے محافظوں نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر اس کا سروس کارڈ دیکھ کر پیچھے ہو گئے ۔فاضل خان آنکھیں بند کئے چت لیٹا تھا جبکہ حنا باپ کے سرہانے کے جانب کرسی پرسوگوار بیٹھی تھی۔عاطف کو اندر آتے دیکھ کر وہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی۔
”آئیں بھیا ….۔“اسے دیکھ کر عاطف کو اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ وہ اس حادثے سے لا علم تھی۔
عاطف نے اس کا سر اپنی چھاتی سے لگاکر اس کے سر پرہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔
”چھوٹی ! ….قسمت کا لکھا کوئی نہیں ٹال سکتا،اللہ تمھیں صبر دے ۔“
”آمین “وہ خشوع و خضوع سے بولی ”بہر حال بھیا ڈاکٹر کہتے ہیں کہ خطرے کی کوئی بات نہیں ۔“
”چھوٹی ! ….تمھاری ممی نہیں رہیں ۔“عاطف نے بہ مشکل فقرہ پورا کیا تھا ۔
”بب ….بھیا کک ….کیا کہہ رہے ہو؟۔“عاطف کی بات سن کر حنا کو اپنی سماعتوں پریقین نہیں آیا ۔
”ہاں گڑیا ….اسی وجہ سے تمھارے ڈیڈی کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے ….تمھاری ماں دہشت گردی کا شکار ہوئی ہے ۔“ اصل بات بتانے سے اس نے گریز کیا تھا ۔
”نہیں ….“کہتے ہوئے وہ عاطف کے بازوو¿ں میں جھول گئی تھی۔اس کی چیخ سن کر فاضل خان کامحافظ بھی سرعت سے اندر داخل ہوا ۔
”جلدی کرو ڈاکٹر کو بلاو¿۔“عاطف تیز لہجے میں بولا اور محافظ جس تیزی سے آیا تھا اسی تیزی سے باہر نکل گیا ۔ حنا کو صوفے پرلٹا کے وہ اس کے جوتے اتارنے لگا ۔ڈاکٹر کو جانے کیا کہا گیا تھا کہ اس نے آنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
”ڈاکٹر صاحب ! ….اسے چیک کریں ۔“اسے فاضل خان کی طرف بڑھتا دیکھ کر عاطف نے اسے حنا کی طرف متوجہ کیا ۔
”اسے کیا ہوا ؟۔“وہ قریب آکر اس کی نبض چیک کرنے لگا ۔
”اسے ابھی ابھی اپنی ماں کے مرنے کی خبر ملی ہے ۔“
”اوہ ….سن کر افسوس ہوا ….بہ ہر حال خطرے کی کوئی بات نہیں یہ وقتی شاک کے زیر اثر ہے ،میں سکون آور انجیکشن لگا دیتا ہوں اٹھنے پربہتر محسوس کرے گی ۔“یہ کہہ کر اس نے پاس کھڑی نرس کو مخصوص انجیکشن لانے کو کہا اور خود فاضل خان کا معائنہ کرنے لگا ۔جب تک وہ اس کے معائنے سے فارغ ہوتا نرس مطلوبہ انجیکشن لے آئی تھی ۔
حنا کو انجیکشن لگا کر وہ عاطف سے مخاطب ہوا ۔
”کیا اس کے لیے بھی ادھربیڈ لگو ا دیں ؟“
وہ انکار میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔”نہیں ڈاکٹر صاحب ….یہ صوفے پرایزی رہے گی ۔“
ڈاکٹر کے جانے کے بعد وہ فاضل خان کے محافظ سے بولا۔
”ماسی کو گھر سے بلالو ….میں تھوڑی دیر تک واپس آتا ہوں….حنا میرے بارے پوچھے تو بتا دینا اس کی امی کی لاش کے سلسلے میں ضروری کارروائی کر رہا ہوں۔“
”ٹھیک ہے سر ۔“محافظ نے اثبات میں سر ہلا کر کہا۔اور عاطف ہاسپیٹل سے باہر نکل آیا ۔اس کے بعد اپنے اختیارات بروئے کار لاتے ہوئے اس نے حنا کی والدہ کی لاش وصول کی تاکہ اس کی آخری رسومات کی ادائیگی ہو سکے ۔لاش کیا تھی گوشت کے لوتھڑے ، چند چورا ہڈیاں اور لباس کی ادھ جلی دھجیاں تھیں ۔دایاں ہاتھ جس میں سونے کی انگوٹھی جگمگا رہی تھی سلامت رہ گیا تھا ۔چمڑے کا پرس بھی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیاتھا مگر اس میں موجود شناختی کارڈ نسبتاََ بچ گیا تھا ۔فاضل خان کی بیوی کا تابوت اس کے گھر میں رکھوا کر جب عاطف واپس ہاسپیٹل پہنچا تو حنا کو ہوش آگیا تھا ۔ عاطف کو دیکھتے ہی وہ چیخ مار کر اس سے لپٹ گئی تھی ۔فاضل خان بھی حسرت و یاس کی تصویر بنا بیڈ پر لیٹا ہوا تھا اس کی بوئی ہوئی فصل اس کی بے گناہ بیوی کو کاٹنی پڑ گئی تھی۔
”اللہ کو یہی منظور تھا چھوٹی ۔“عاطف حنا کے سر پرہاتھ پھیرکر اسے تسلی دینے لگا ۔حنا صرف روتی رہی تھی ۔
”سیٹھ صاحب !….آنٹی کی لاش گھر پہنچ گئی ہے آخری رسومات کا کیا کرنا ہوگا ؟“
”فاضل خان نے خالی خالی نظروں سے اس کے جانب دیکھا اور پھر آہستہ سے بولا ۔
”مہربانی عاطف صاحب ….بس ڈاکٹر کو بتا کر گھر چلتا ہوں ۔“عاطف سر ہلاتے ہوئے حنا کے ساتھ صوفے پربیٹھ گیا تھا ۔
تھوڑی دیر بعد وہ ہاسپیٹل سے رخصت ہو رہے تھے ۔وہ دن اور اس سے اگلا دن عاطف نے حنا کی کوٹھی میں ہی گزارا اورتیسرے دن وہ حنا سے اجازت لے کے واپس آگیا ۔فاضل خان کی بیوی کی موت کا اسے دلی افسوس ہوا تھا ۔سوزکی کار لانے والے آدمی نے تھوڑی سی مار کھانے کے بعد ہی اصل بات اگل دی تھی ۔ یہ بات ذیشان نے اسے فون پربتا دی تھی ، اس کے بعد اس نے اسفند یار کی گرفتاری کا حکم بھی دے دیا ….فاضل خان کو اس نے چند دن نہ چھیڑنے کا فیصلہ کیا تھا ….وہ جانتا تھا کہ اس کی گرفتاری سے حنا خود کو کوئی جسمانی نقصان بھی پہنچا سکتی تھی ۔جبکہ ہفتے ڈیڑھ بعد وہ اسے اعتماد میں لے کر ساری صورت حال سے آگاہ کر کے فاضل خان کو گرفتار کر سکتا تھا ۔
٭….٭….٭
روہیت کا گرفتار ہوئے چوتھا دن تھا اس دوران اس سے کسی قسم کی باز پرس نہیں کی گئی تھی ۔اور یہ خاموشی اسے کسی طوفان کا پیش خیمہ لگتی تھی ۔اس نے ایک دو دفعہ کھانا لانے والوں سے عاطف سے ملاقات کی تمنا ظاہر کی تھی مگر وہ خاموش رہے تھے ۔اور پھر چوتھے دن جب اسے گن مینوں کے نرغے میں کمرے سے باہر نکالا گیا تو وہ جان گیا کہ اس کی کم بختی کی شروعات ہو نے والی ہے، وہ ذہنی طور پر ہر بری صورت حال کے لیے تیار ہو گیا۔مگر جب ہتھیار برداراسے لے کے ایک بڑے ہال میں پہنچے تو وہ حیران رہ گیا ۔اس کی بیڑیاں کھول کے اسے ہال میں بند کر دیا گیا ،تھوڑی دیر گزرنے کے بعد ہال کا دروازہ کھلا اور عاطف درجن بھر افراد کے ساتھ اندر داخل ہوا ۔
”ہاں بھئی میجر صاحب ! کیا حال ہیں آپ کے ؟“اند رداخل ہوتے ہی اس نے پوچھا ۔
”مسٹر عاطف ! خود کو مسلمان کہلا کر تمھاری یہ دھوکا دہی واقعی افسوس ناک ہے ….اور پھر تمھارے جیسے ایجنٹ سے مجھے یہ توقع نہیں تھی ۔“
”یار وہ کیا کہتے ہیں کہ ”جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہو تا ہے ….یا اسی طرح کا کوئی اور مقولہ بہر حال صحیح یاد نہیں آرہا ۔“
”ہونہہ! اپنی بزدلی اور دھوکے پرپردہ ڈالنے کے لیے تم کچھ بھی کہہ سکتے ہو ؟“روہیت کے لہجے میں نفرت ابل رہی تھی۔
”میجر صاحب ….ان تین چار دنوں میں میرے خیال میں تمھیں کسی نے ہاتھ نہیں لگایا“
”بالکل ….لیکن میں قید تو ہوں ناں….جبکہ آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ مجھے رہا کر دیں گے ۔“
”ہاں ….مگر اس کے لیے کچھ طے بھی ہوا تھا ۔“
”تو اس سے پہلو تہی کس نے کی ؟“
”پہلو تہی نہیں میجر صاحب ….صر ف مو¿خر کیا تھا ….اور اب وہ وقت آگیا ہے ….تم مجھ پرقابو پا کے رہائی پا سکتے ہو ….لیکن یاد رہے مجھے شکست دینے کے بعد میرے آدمی تمھیں سرحد پار کرا دیں گے واپس آنے کی صورت میں تم خود جوابدہ ہو گے ۔“
”منظور ….۔“میجر روہیت زہر خند لہجے میں بولا۔اس کے ہونٹوں پراستہزائی ہنسی چھا گئی تھی ۔ عاطف کے اشارے پراس کے تمام آدمی دیواروں کے ساتھ پھیل کر کھڑے ہو گئے تھے ۔جبکہ وہ تن کر میجر روہیت کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔ میجر روہیت سے کافی حساب کتاب بقایا تھے مگر وہ اسے زبان دے چکا تھا اور زبان سے پھر کر وہ اپنی کردار کشی نہیں کر سکتا تھا ۔
جاری ہے

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔