درُود کا جَھونکا
سکوتِ رف کو اذنِ بیان دیتا ہے
وہ دشتِ فکر میں اب بھی اُذان دیتا ہے
سیہ ش کی ہتھیلی پہ کاڑھ کر جُگنو
وہ رہروؤں کو سحر کا نشان دیتا ہے
کبھی جو مُجھ سے اُلجھتا ہے دو پہر کا عذاب
وہ میرے سر پہ کرم اپنا تان دیتا ہے
ہُہی تو ہے جو رُتوں کے شِکار کرنے کو
گھٹا کے ہاتھ دھنک کی کمان دیتا ہے
مِری خطا کو ہے محشر میں جُستجو اُسکی
جو لغزشوں کو ہمیشہ امان دیتا ہے
میں پ شکستہ سہی ، اُس کی شہر میں ہوں جہاں
زمیں پہ بھی وہ مُجھے آسمان دیتا ہے
ازل سے دل ہے اُسی مہرباں سخی کا اسیر
جو حوصلوں کو ابد تک اُڑان دیتا ہے
میں حَرف و صَوت کی خیرات اُس سے مانگتا ہوں
جو پتھروں کو بھی رِزقِ زبان دیتا ہے
کٹے جو ہجر تو کُچھ اجرِ انتظار ملے
کہ لمحہ لمحہ یہ دل امتان دیتا ہے
سکوتِ شب میں اُبھرتے دُرود کا جھونکا
سماعتوں کو تِری داستان دیتا ہے
میں بے بساط بشر تج پہ کیا نثار کروں
تِری ادا پہ تو جبریل جان دیتا ہے
شبِ سیاہ میں طوفاں ہو جب ستارہ شکار
وہ کشتیوں کو وہاں بادبان دیتا ہے
کُچھ اسلیے بھی میں اب اُس پہ سوچتا ہوں بُہت
مُجے یقین کی دولت ، گمان دیتا ہے
مِرا سخی مرے ہر شعر کی عَوِض مُحسن
مُجے ہہشتِ بریں میں مکان دیتا ہے
مڭسن نقوی

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔