درد کی شام سخاوت پہ اتر آئی ہے–!! دھوپ سی قریہء و…


درد کی شام سخاوت پہ اتر آئی ہے–!!
دھوپ سی قریہء وحشت پہ اتر آئی ہے

سرسراتے ہوئے پردے میں عجب گونج سی تھی
میری تنہائی بغاوت پہ اتر آئی ہے—!!!

روز طغیانی کی آواز بلاتی تھی اسے
آنکھ دریا میں سکونت پہ اتر آئی ہے-!!

اتنی مدھم تو نہ تھی زرد مناظر کی صدا
ساری بینائی سماعت پہ اتر آئی ہے–!!!

جسم جلتا ہے اندھیرے کے کفن میں لپٹا
رات دوزخ کی تمازت پہ اتر آئی ہے–!!!

کوئی پیغام سا بھیجا ہے کسی نے شاید
اک اڑن طشتری سی چھت پہ اتر آئی ہے

دل میں دھیمی سی کوئی آنچ دبا رکھی تھی
بجھتے بجھتے بھی قیامت پہ اتر آئی ہے

جیسے تسخیر کئے بیٹھی ہے دونوں عالم
آگہی اپنی عبادت پہ اتر آئی ہے—!!!!!

(یاسمن حبیب)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی