~ دردِ محبت کی دوا (افغانستان کے برف پوش فٹ پاتھ سے ایک غریب پٹیشن رائٹر کی کہا…


~ دردِ محبت کی دوا

(افغانستان کے برف پوش فٹ پاتھ سے ایک غریب پٹیشن رائٹر کی کہانی جسے ایک کتیا کی ممتا میں درد محبت کی دوا مل گئی)

__حالیہ برسوں میں برطانوی ادبی کونسل نے افغانستان کی مقامی خواتین کے افسانوں کا ایک مجموعہ طبع کیا ہے۔جس کا عنوان "My Pen is the wing of a bird” ہے.اس انتخاب میں پشتو اور دری (افغانستانی فارسی) سے مترجم کہانیاں شامل کی گئیں ہیں۔یہ کتاب اپنی نوعیت کی پہلی کاوش ہے کہ جس میں افغانستان کی مقامی خواتین کی کہانیاں اور احساسات فکشن کی صورت عالمی ادب میں شامل کیے گئے۔ہر کہانی اپنے اندر ایک زندگی سمیٹے ہوئے تھی۔مصنفہ ” معصومہ کوثری ” کی ایک کہانی جو اصل میں دری میں لکھی گئی تھی، میرے دل کے بہت قریب ہے۔

……………..

صابر چالیس برس کا ایک غریب پٹیشن رائٹر ہے۔سارا دن سخت سردی میں وہ شال لپیٹ کر ایک فٹ پاتھ کے کنارے نیچے بیٹھ کر عدالت میں پٹیشن بھجوانے والوں کا مدعا لکھتا رہتا ہے۔
فٹ پاتھ کے اس کنارے پر ایک دکان کی کنوپی بڑھی ہوئی ہے جو اسے برفباری اور بارش سے بچاتی ہے۔صابر کے پاس ایک میز ، چند کاغذوں اور ایک پرانے قلم کے سوا کچھ نہیں۔اس کا باپ برسوں پہلے ان کو چھوڑ کر جا چکا ہے۔صابر نے کچھ تعلیم پائی مگر پھر غریبی نے آگے نہ پڑھنے دیا۔اس کی ماں اس کے بچپن سے آج تک لوگوں کے گھروں میں کام کرتے کرتے بوڑھی ہو چکی ہے مگر ان کے حالات ایسے ہیں کہ وہ اب بھی روزانہ کام کرنے جاتی ہے۔صابر نے روزگار کے لیے مختلف کام شروع کیے مگر کامیابی نہ ملی۔آخر بڑی مشکل سے وہ میونسپل کمیٹی والوں سے کورٹ کے باہر فٹ پاتھ پر پٹیشن لکھنے کا اجازت نامہ حاصل کر سکا۔
صابر کی زندگی درد سے معمور ہے اور ہر گاہک اپنی پٹیشن لکھوا کر اس کے درد میں مزید اضافہ کرتا ہے : کسی کا وراثتی حق ضبط ہو رہا ہے ، کوئی عورت اپنے خاوند کے مرنے کے بعد اس کے گھر والوں کے مظالم کا شکار ہے ، دوسری بیوہ ہونے کے بعد اپنے دیور کے ہاتھوں اپنی نوجوان بیٹی کی زبردستی شادی رکوانا چاہتی ہے اور کوئی اپنی ہی عزت بچانے کی خاطر انصاف کی طالب ہے۔صابر ایک لمحے ان سب کی درخواست لکھتا ہے ، فوٹو اور تزکیہ لگا کر انگوٹھا لگواتا ہے ، پھر وہ کاغذ اپنی فائل میں رکھ کر نسوار سے گدلا تھوک پھینکتا ہے اور سب کچھ بھول جاتا ہے۔
اسے کبھی احساس نہیں ہوا کہ ان کی پٹیشن منظور بھی ہوئی کہ نہیں۔وہ ماضی اور مستقبل سے بے حس ہو چکا ہے۔سردی کی شدت بڑھتی ہے تو شال کو اپنے جسم پر مضبوطی سے لپیٹ لیتا ہے۔نسوار چباتا ہے ، قریبی ہوٹل سے ایک بولانی (افغانی پراٹھا) لے کر کھا لیتا ہے۔پھر سرکاری عدالت کی دیوار کے نیچے پیشاپ کر کے دوبارہ اپنی کرسی پر آ بیٹھتا ہے۔ جب بھی قریبی مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوتی ہے صابر دوسرے ہم پیشہ آدمیوں کی طرح اپنا میز بھی شاپر سے ڈھک دیتا ہے مگر خود مسلسل کرسی پر ہی بیٹھا رہتا ہے۔مدتوں پہلے اس نے مسجد جانا چھوڑ دیا تھا۔اس کے وجود میں خدا گم ہو چکا تھا۔

ایک روز سخت برفباری کے بعد ہوا چلنے لگی۔ہر چیز اس کہر میں جم رہی تھی۔پورے دن میں بس ایک دو گاہک آئے۔دوپہر کو جب صابر ہوٹل سے بولانی (افغانی پراٹھا) لا کر کھانے لگا تو ایک کتیا اپنے ننھے بچوں کے جتھے کے ہمراہ اس کی میز کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔صابر کو اس کتیا کو دیکھ کر خیال آیا کہ وہ نہ جانے کتنے ہی دنوں سے اس کے سٹال کے پاس اٹھتی بیٹھتی ہے ، مگر لوگوں کی چہل پہل اور گاہکوں کی آمد میں اس کی توجہ نہیں ہوتی۔اسے رحم آتا ہے کہ اس سخت سردی میں بھلا یہ کیا کھائے گی ؟ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی قوت کہاں سے لائے گی ؟یہ سوچ کر وہ اپنی جیب دیکھتا ہے تو اس کے پاس بمشکل صرف اپنے اور ماں کے رات کے کھانے کے پیسے تھے۔وہ کچھ بولانی کھا کر باقی اس کتیا کے آگے پھینک دیتا ہے اور اپنی مفلسی پر نادم سا ہو جاتا ہے۔ اس کا دل چاہتا ہے کہ وہ ان نازک پلوں اور کتیا کو ساتھ گھر لے جائے تا کہ وہ سردی سے محفوظ رہیں ، مگر پھر اسے اپنی ماں کی ناراضگی اور کتوں سے نفرت کا خیال آتا ہے تو وہ اس خیال کو بھول جاتا ہے۔اسی سوچ میں شام کا اندھیرا ڈھل جاتا ہے۔اس کے سب ساتھی نہ جانے کب سے اپنے میز سمیٹ کر جا چکے تھے۔تاخیر کا افسوس کرتے ہوئے وہ بھی جلدی سے گھر کو روانہ ہوتا ہے۔

اگلے دن کرسی پر بیٹھے ہوئے وہ دیکھتا ہے کہ سامنے گلی سے کالج کی دو لڑکیاں گزر رہیں ہیں۔ایک لڑکی زمین سے برف اٹھا کر دوسری پر پھینکتی ہے تو وہ ہنسنے لگتی ہے۔اس کی ہنسی سے صابر اپنے کالج دور میں کھو جاتا ہے…اسے اپنی محبوبہ مینا یاد آتی ہے جس کے گالوں پر ہنستے ہی گڑھے آویزاں ہو جاتے تھے۔وہ ہر روز اپنے دوست کی سائیکل لے کر اس کے پیچھے جایا کرتا تھا۔وہ ہر وقت خاموش اور سہمی سہمی رہتی تھی۔اس دنیا میں وہ لڑکی اسے سب سے پیاری لگتی تھی۔وہ اس کے گھر والوں کو بھی جانتا تھا۔دن یوں ہی گزرتے رہے۔ایک دن اسے معلوم ہوا کہ مینا کی شادی اس کے کسی رشتے دار سے طے پا چکی ہے جو بیرون ملک رہتا ہے، اور مینا بھی اب اس کے پاس وہاں جانے کی تیاری کر رہی ہے۔صابر نے اپنے حالات دیکھے ، اور وہ مینا یا اس کے گھر والوں سے ایک لفظ بھی نہ کہہ سکا۔
صابر سوچتا ہے ، کیا کبھی اسے زندگی میں محبت ملی ؟ اس کا باپ انہیں اکیلا بے آسرا چھوڑ کر چلا گیا ۔اس کی ماں اس پر ساری عمر لعنت کرتی رہی کہ اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو وہ دوسری شادی کر کے کہیں سکون سے بسر کر لیتی ، اور لوگوں کے کپڑے دھو دھو کر اس کے ناخن نہ گھستے۔اس کے اساتذہ نے بھی کبھی اسے محبت سے نہ دیکھا بلکہ ہمیشہ درماندہ اور غریب جان کر ترس کھاتے رہے۔اس کے دوست اور ہم جماعت اس کا مذاق اڑاتے اور اسے کے لمبے قد کو دیکھ کر اسے "صابر کبڑا !!” کہتے۔ صابر ایک تجسس بھری نظر سے پھر کہیں دور مینا کو دیکھنے لگا…
وہ سوچتا ہے کہ اس نے کبھی اپنے باپ کے جرم پر آنسو نہیں بہائے اور نہ اپنی ماں کی کسی بات کا غصہ کیا ہے۔ نہ وہ کسی ایسے انسان سے نفرت کرنا چاہتا ہے جو اس سے نفرت کرتا ہے۔وہ کبھی محبت نہ ملنے کا شکوہ زباں پر نہیں لائے گا اور نہ کبھی کسی کو بددعا دے گا۔ وہ صرف اس لڑکی مینا کو خوش دیکھنے کا آرزو مند ہے۔ وہ ہمیشہ اس کی خوشی کا متمنی ہو گا ، چاہے وہ لڑکی جہاں بھی رہے۔کتیا اس کے پاس آکر بیٹھ گئی اور محبت سے اس کا ہاتھ چاٹنے لگی۔

اس لمحے صابر کی آنکھوں کے سامنے مینا کا چہرہ کھلنے لگا ، اس کے چمکیلے ریشمی بال مینڈھیوں سے چھوٹ کر لہرا رہے تھے اور وہ ان پر سکارف درست کر رہی تھی۔صابر ایک عجیب خوشبو کے نشے میں ان بالوں کو چھونے اور چومنے لگا تھا____کتیا اس کے ہاتھوں کا لمس پا کر اور قریب ہو گئی____ جب صابر کو تخیل سے ہوش آیا تو اس نے دیکھا کہ وہ کتیا کی سیاہ چمکیلی جلد چوم رہا ہے اور بچے اسے اپنی ماں سے پرے ہٹا رہے ہیں۔وہ ہنستے ہوئے اٹھ گیا۔کتیا اپنے بچوں کو لے کر فٹ پاتھ کی طرف چلی گئی ؛ آج صابر کے پاس بولانی بھی نہیں تھی۔


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3847705325459972


Comments

5 responses to “~ دردِ محبت کی دوا (افغانستان کے برف پوش فٹ پاتھ سے ایک غریب پٹیشن رائٹر کی کہا…”

  1. ڈاری نھی دری / پٹیشن رائٹر نھی عریضه نویس

  2. کیا اس کتاب کا اردو ترجمہ ہوچکا ہے؟

  3. یہ کہانی مجھے اپنے دل کے بہت ہی قریب لگی کہانی پڑھکر ایسا لگا جیسے میں زندگی کے جانے * پہچانے سفر پر روانہ*دواں تھا*** بے حد عمدہ افسانہ شکریہ خلیق صاحب آپکا تہ دل سے شکریہ

  4. ڈاری نہیں یہ دری کہلاتی ہے