خورشیدؔ بیگ میلسوی میں فانی ہوں کہ لافانی، نمی …


خورشیدؔ بیگ میلسوی

میں فانی ہوں کہ لافانی، نمی دانم، نمی دانم
اے میرے یار من جانی، نمی دانم، نمی دانم

سرِ محفل تری رُسوائی کا باعث نہ بن جائے
یہ میری چاک دامانی، نمی دانم، نمی دانم

کہیں یہ پیش خیمہ ہی نہ ہو ترکِ تعلق کا
محبت کی فراوانی، نمی دانم، نمی دانم

ابھی تک پردہِ اسرار میں تخلیقِ آدم ہے
یہ ثانی ہے کہ لاثانی، نمی دانم، نمی دانم

فصیلِ ذات میں کس دم مجھے محصور کر ڈالے
مجھے میری تن آسانی، نمی دانم، نمی دانم

مبادا یہ کسی بنجر زمیں کے کام آ جائے
یہ میری اشک افشانی، نمی دانم، نمی دانم

اگر واقف ہے یہ دنیائے دُوں کی بے ثباتی سے
تو کیوں خلقت ہے دیوانی، نمی دانم، نمی دانم

ترے دربار تک ہر چند میری بھی رسائی ہے
مگر آدابِ سلطانی، نمی دانم، نمی دانم

المرسل: فیصل خورشید