خواجہ عزیز الحسن مجذوبؔ کی برسی August 17, 1944 آ…


خواجہ عزیز الحسن مجذوبؔ کی برسی
August 17, 1944

آئے تھے کہنے حالِ دل بیٹھے ہیں لب سئے ہوئے
نیچی نظر کئے ہوئے اپنا سا منہ لئے ہوئے

چھیڑو نہ ہم کو زاہدو بیٹھے ہیں ہم پئے ہوئے
چاہتے ہو جو لَوٹنا زہد کو تم لئے ہوئے

کیسے گئے تھے شوق سے لینے اس آشنا کو ہم
ویسے کے ویسے آگئے اپنا سا منہ لئے ہوئے

جان سے عزیز کیوں مجھ کو نہ ہوں یہ داغِ دل
ہائے کسی کو کیا خبر کس کے ہیں یہ دئے ہوئے

کہنے کو ہجر ہے مگر دل کی کسی کو کیا خبر
پھرتے ہیں اُس نگار کو پہلو میں ہم لئے ہوئے

ہوگئے زندہ مردہ دل جب یہ سنا کہ وہ آئیں گے
جب یہ سنا نہ آئیں گے مر گئے پھر جئے ہوئے

چاہتے ہیں نہ فاش ہو اُن کو جو مجھ سے ربط ہے
رہتے ہیں سب کے سامنے خود کو جو وہ لئے ہوئے



Comments

One response to “خواجہ عزیز الحسن مجذوبؔ کی برسی August 17, 1944 آ…”

جواب دیں