خموشی سے
میرے
کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے
سایہ شام غریباں کی طرح
شورش دیدہ گریاں کی طرح
موسم کنج بیاباں کی طرح
کتنا بے نطق ہے یادوں کا ہجوم
جیسے ہونٹوں کی فضا یخ بستہ
جیسے لفظوں کو گہن لگ جائے
جیسے روٹھے ہوۓ رستوں کے مسافر چپ چاپ
جیسے مرقد کے سرہانے کوئی خاموش چراغ
جیسے سنسان سے مقتل کی صلیب
جیسے کجلائی ہوئی شب کا نصیب
/
میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے
پھر سے
میرے زخموں کی قطاریں جاگیں
اول شام چراغوں کی طرح
ہر نئے زخم نے پھر یاد دلایا مجھہ کو
اسی کمرے میں کبھی
محفل احباب کے ساتھہ
گنگناتے ہوۓ لمحوں کے شجر پھلتے تھے
رقص کرتے ہوۓ جذبوں کے دہکتے لمحے
قریہ جاں میں لہو کی صورت
شمع وعدوں کی طرح جلتے تھے… More