خطا ہے ، مفت مرکر ، یار کو دینا رقیبوں کو
ہماری ہم سے پوچھو، کوہکن کی کوہکن جانے
انعام اللہ خان یقین
1727-1755
یقینؔ مظہر جانِ جاناں کے عزیز شاگرد اور میر کے ہم عصر تھے ۔
یقین کے مختصر دیوان میں صرف 170 غزلیں ہیں اور ہر غزل میں صرف پانچ اشعار ہیں
یوں تو شیریں فرہاد کی تلمیح فارسی سے زیادہ اردو شاعروں نے برتی ہے اور اس کو نۓ زاویوں سے پیش کیا ہے لیکن یقینؔ کے اس مختصر دیوان کے 850 اشعار میں اس تلمیح شیریں اور فرہاد پر 38 اشعار ملتے ہیں
…
نہ دیتا عیش کی خسرو کو فرصت قصرِ شیریں میں
جو میں ہوتا بجاۓ شیر جوۓ خوں رواں کرتا
زباں فولاد کی ہو ، تب جوابِ کوہکن دیوے
ستم ہوتا اگر پرویز کو عشق امتحاں کرتا
….
نہ آبِ تیشہ فرہاد اپنے خوں میں گر ملا سکتا
اس آبو رنگ سے کب نقشِ شیریں کو بناسکتا
اجل تھی کوہکن کی وہ جو صورت باندھ آئ تھی
وگرنہ یہ خبر کوئ بھی دشمن کو سنا سکتا؟
یہ عشق سرشکن فرہاد پر لایا جو کچھ لایا
وگرنہ کون ایسی فتح خسرو کو دلاسکتا
اجل نے کوہکن کی ، خوب رکھ لی شرم خسرو کی
وگرنہ اس کے سنگِ زور کو یہ کب اٹھاسکتا
اگر تیشہ نہ کرتا دستگیری اس بچارے کی
یقیں ، فرہاد تیغِ کوہ کے کب منہہ پہ آسکتا
…..
لگے گا ہاتھ پتھر اس طرح کی سعی ناحق سے
پراۓ دلبروں پر سر نہ چیراے کوہکن اپنا
….
کیا گرادی ایک تیشہ سے بنا فرہاد کی
کردیا کس گھر بسی نے خانۂ شیریں خراب
….
محبت کا نہیں ہے ظلم بھی خالی عدالت سے
ہوا پرویز کے جینے کا مرگِ کوہکن باعث
…
پھوڑ ڈالا کوہکن سا لعل یوں پتھر سے ، ہاۓ
کس سے سیکھی تھی یہ شیریں کام فرمانے کی طرح
….
جانتا تھا کوہکن شیریں کی دل سختی کا لطف
جس کو ہو سر پھوڑنا جانے وہ ہی پتھر کی قدر
….
کرے محنت کوئ لذت اٹھاوے یار سے کوئ
کہو اپنے تئیں ضائع نہ کرتا کوہکن کیوں کر
….
اب تلک کرتا ہے تیشہ ، کام میں پتھر کے دخل
مانتا ہے کوہکن کے نقش کو خارا ہنوز
….
یقیں ، اقبال ہاتھ آتا نہین کچھ ، جی کے دینے سے
نہیں ہونے کے ہم فرہاد ، گر سو بار سر چیریں
اس عشق کے کشور میں یکساں ہے حق و باطل
پرویز کو دیں افسر ، فرہاد کا سر چیریں
…..
خسرو کے منہہ پہ چڑھنا اور بیستوں سے بھڑنا
کچھ عاشقی نہیں یہ ، زور آزمائیاں ہیں
….
کیا فرہاد نے جو کچھ ، محبت اس کو کہتے ہیں
دیا جی بات کے کہنے میں ، ہمت اس کو کہتے ہیں
نہ کی تو نے نظر اس کی محبت پر نہ محنت پر
ارے فرہاد کے قاتل ، عدالت اس کو کہتے ہیں ؟
ہوئ جا ، یار شیریں کوہکن کے بعد خسرو کی
وہ کیا تھا زخم تیشہ کا ، جراحت اس کو کہتے ہیں
…..
کوئ مجھ سے نہ بولو ، میں تو اب مرنے کو بیٹھا ہوں
خلافت دے گیا ہے خودکشی کی کوہکن مجھ کو
……
عشق کے جور و ستم میں ، تجھے گر شک ہے یقیں
عیشِ پرویز کو اور محنتِ فرہاد کو دیکھ
یقیں ، فرہاد کو دکھ سے چھڑانا اس کو لازم تھا
زبانِ تیشہ، خسرو کو قیامت تک دعا کرتی
…..
کوئ فرہاد جیسے بے زباں کو قتل کرتا ہے
یقیں ، ہم واں اگر ہوتے ، توایک دو دو بچن کرتے
….
یقیںؔ تقلید میں سر مت پٹک پتھر پہ ، آ ، بس کر
یہ ممکن ہی نہیں ہر سر چرا فرہاد کو پہنچے
….
ٹلا گر بیستوں تو کیا ہوا ، خسرو نہیں ٹلتا
بڑا پتھر ہے چھاتی پر ترے فرہاد کیا کیجے
….
عشق میں راحت نہیں ملتی مگر جوں کوہکن
جانِ شیریں دیجۓ تب خوابِ شیریں کیجۓ
….
مارے ہی جاتے ہیں آخر کوہکن سے سر چرے
خسروِ بیچارہ اور شیریں بچاری کیا کرے
….
نہ بیٹھا کوہکن کا نقش، کچھ اس رنج و محنت سے
اٹھا سکتا نہیں تیشہ سر اپنا اس خجالت سے
….
بتوں کی بادشاہی کے سپہ سالار عاشق ہین
بٹھاے کوہکن نے بیستوں میں نقش شیریں کے
…
کوئ میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگے
کسو نے دم نہ مارا تیشۂ فولاد کے آگے
اکیلا کیونکہ لگتا بیستوں میں دل بچارے کا
نہ ہوتا نقشِ شیریں کا ، اگر فرہاد کے آگے
….
رہے کب ہونگے اب تک بیستوں میں نقش شیریں کے
دل اپنا کس سے کرتا ہوگا ، یاروں ، کوہکن خالی
….
خطا ہے ، مفت مرکر ، یار کو دینا رقیبوں کو
ہماری ہم سے پوچھو، کوہکن کی کوہکن جانے
….
پڑیں پتھر الٰہی اس محبت پر کہ وہ بیکس
مرے اس طرح اور پرویز شیریں کو اٹھا لاوے
…
تحقیق کو ظالم نے ٹک کام نہ فرمایا
فرہاد کے اس ناحق مرجانے کو کیا کہۓ
..
بشکریہ وسیم سیّد

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔