خراماں خراماں معطر معطر
نسیم آ رہی ہے کہ وہ آ رہے ہیں
….
ساغر نظامی کا یوم وفات
27 فروری 1984ء
(پیدائش: 21 دسمبر، 1905ء- وفات: 27 فروری، 1984ء)
……
———-
منتخب کلام
———-
آنکھ تمہاری مست بھی ہے اور مستی کا پیمانہ بھی
ایک چھلکتے ساغر میں مے بھی ہے مے خانہ بھی
———-
سجدے مری جبیں کے نہیں اس قدر حقیر
کچھ تو سمجھ رہا ہوں ترے آستاں کو میں
———-
آؤ اک سجدہ کروں عالم بد مستی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں
———-
وہ مری خاک نشینی کے مزے کیا جانے
جو مری طرح تری راہ میں برباد نہیں
—
سجدے مری جبیں کے نہیں اس قدر حقیر
کچھ تو سمجھ رہا ہوں ترے آستاں کو میں
—
گیسو کو ترے رخ سے بہم ہونے نہ دیں گے
ہم رات کو خورشید میں ضم ہونے نہ دیں گے
—
کافر گیسو والوں کی رات بسر یوں ہوتی ہے
حسن حفاظت کرتا ہے اور جوانی سوتی ہے
—
آنکھ تمہاری مست بھی ہے اور مستی کا پیمانہ بھی
ایک چھلکتے ساغر میں مے بھی ہے مے خانہ بھی
—
یہی صہبا یہی ساغر یہی پیمانہ ہے
چشمِ ساقی ہے کہ مے خانے کا مے خانہ ہے
—
خراماں خراماں معطر معطر
نسیم آ رہی ہے کہ وہ آ رہے ہیں
—
ڈھونڈھنے کو تجھے او میرے نہ ملنے والے
وہ چلا ہے جسے اپنا بھی پتا یاد نہیں
—
تخلیق اندھیروں سے کئے ہم نے اجالے
ہر شب کو اک ایوانِ سحر ہم نے بنایا
—
تیرے نغموں سے ہے رگ رگ میں ترنم پیدا
عشرتِ روح ہے ظالم تری آواز نہیں
—
سیلابِ تبسم سے درمانِ جراحت کر
ٹکڑے دل بسمل کے آلودۂ خوں کب تک
—
گل اپنے غنچے اپنے گلستاں اپنا بہار اپنی
گوارا کیوں چمن میں رہ کے ظلم باغباں کر لیں
—
نظرِ کرم کی فراوانیوں پہ پڑتی ہے
پھر اپنے دامنِ خاکی کو دیکھتا ہوں میں
—
حسن نے دستِ کرم کھینچ لیا ہے کیا خوب
اب مجھے بھی ہوس لذتِ آزار نہیں
—
وہ سوالِ لطف پر پتھر نہ برسائیں تو کیوں
ان کو پروائے شکست کاسۂ سائل نہیں
—
تو یہ نہ سمجھ للہ کہ ہے تسکین ترے دیوانوں کو
وحشت میں ہمارا ہنس پڑنا دراصل ہمارا رونا ہے
—
یوں نہ رہ رہ کر ہمیں ترسائیے
آئیے آ جائیے آ جائیے
—
حیرت سے تک رہا ہے جہانِ وفا مجھے
تم نے بنا دیا ہے محبت میں کیا مجھے
—
ہم آنکھوں سے بھی عرض تمنا نہیں کرتے
مبہم سا اشارہ بھی گوارا نہیں کرتے
—
لاکھوں کا سہارا ہے یہی جامِ سفالیں
ساغرؔ کو کبھی ساغرِ جم ہونے نہ دیں گے
……
آنکھ تمہاری مست بھی ہے اور مستی کا پیمانہ بھی
ایک چھلکتے ساغر میں مے بھی ہے مے خانہ بھی
بے خودیٔ دل کا کیا کہنا سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں
ہستی سے مانوس بھی ہوں ہستی سے بیگانہ بھی
حسن نے تیرے دنیا میں کیسی آگ لگا دی ہے
برق بھی شعلہ برپا ہے رقص میں ہے پروانہ بھی
وسعت وحشت تنگ ہوئی بگڑا گھر دیوانوں کا
نجد کے اک سودائی نے لوٹ لیا ویرانہ بھی
آج محبت رسوا ہے ہاتھوں سے ہوشیاروں کے
عشق کی پہلی دنیا میں تھا کوئی دیوانہ بھی
دل کی دنیا ہلتی ہے روکو اپنی نظروں کو
کافر لوٹے لیتی ہیں آج تجلی خانہ بھی
گردش مست نگاہوں کی آخر وجد انگیز ہوئی
چکر میں ساغرؔ بھی ہے دور میں ہے پیمانہ بھی
———-
حیرت سے تک رہا ہے جہان وفا مجھے
تم نے بنا دیا ہے محبت میں کیا مجھے
ہر منزل حیات سے گم کر گیا مجھے
مڑ مڑ کے راہ میں وہ ترا دیکھنا مجھے
کیف خودی نے موج کو کشتی بنا دیا
ہوش خدا ہے اب نہ غم ناخدا مجھے
ساقی بنے ہوئے ہیں وہ ساغر شب وصال
اس وقت کوئی مری قسم دیکھ جا مجھے
———-
ہم آنکھوں سے بھی عرض تمنا نہیں کرتے
مبہم سا اشارہ بھی گوارا نہیں کرتے
حاصل ہے جنہیں دولت صد آبلہ پائی
وہ شکوۂ بے رنگئ صحرا نہیں کرتے
صد شکر کہ دل میں ابھی اک قطرۂ خوں ہے
ہم شکوۂ بے رنگئ دنیا نہیں کرتے
مقصود عبادت ہے فقط دید نہیں ہے
ہم پوجتے ہیں آپ کو دیکھا نہیں کرتے
کافی ہے ترا نقش قدم چاہے جہاں ہو
ہم پیروئ دیر و کلیسا نہیں کرتے
سجدہ بھی ہے منجملۂ اسباب نمائش
جو خود سے گزر جاتے ہیں سجدا نہیں کرتے
جن کو ہے تری ذات سے یک گونہ تعلق
وہ تیرے تغافل کی بھی پروا نہیں کرتے
یہ لمحۂ حاضر تو ہے کونین کا حاصل
ہم حال کو نذر غم فردا نہیں کرتے
———-
دوستو درد پلاؤ کہ کڑی رات کٹے
مے میں کچھ اور ملاؤ کہ کڑی رات کٹے
آنسوؤں سے یہ کڑی رات نہیں کٹ سکتی
آج مے خانہ لنڈھاؤ کہ کڑی رات کٹے
نغمے بازار میں مہنگے ہیں تو کیا غم یارو
نوحے کو نغمہ بناؤ کہ کڑی رات کٹے
زیست اور موت اساطیر کہن ہیں یارو
نیا افسانہ سناؤ کہ کڑی رات کٹے
کوئی مشہود ہے اب اور نہ کوئی شاہد
اور اگر ہے تو دکھاؤ کہ کڑی رات کٹے
یہ بھی ایمان ہی کا دوسرا رخ ہے لوگو
کفر کو دین بناؤ کہ کڑی رات کٹے
یہ اندھیرا یہ سمندر یہ تلاطم آؤ
آؤ اور مجھ میں سماؤ کہ کڑی رات کٹے
