خدایا معاف کر دینا!!! – عظمی نقوی سنا ہے پچھلے وق…

خدایا معاف کر دینا!!! – عظمی نقوی

سنا ہے پچھلے وقتوں سے
خدا ناراض ہو جائے تو رازق تب بھی رہتا ہے
کریمی ذات ہے اُس کی،
وہ روٹی تنگ نہیں کرتا نہ
پانی بند کرتا ہے۔۔
مگر اظہارِ خفگی میں جبینیں روک دیتا ہے،وہ سجدے چھین لیتا ہے۔۔۔
میری تشویش خالص ہے
قیامت سر پہ آ ئی ہے۔۔۔۔
تُو ہی مالک تُو ہی رازق ۔۔۔
مگر توفیقِ سجدہ سے ترے
محروم یہ بندے
تیرے کعبے کی جالی تک رسائی کر نہیں سکتے
در ِمولود ِکعبہ میں پرندے جھوم سکتے ہیں
بجا۔۔ خوش کُن ہے یہ منظر
مگر تیرا خلیفہ تو، وبا کے خوف میں گھِر کر
عِبادت رُوک بیٹھا ہے۔۔
مجھے تسلیم ہے مالک!
مُنافق ہیں، ہم غَاصب ہیں، بہت ہے ظلم پر, اپنی زُباں کو بند رکھتے ہیں۔
یہ مشترکہ گناہ ہیں جو تُجھےجبَّار کر بیٹھے،
تیرے نادان تیرے قہر کو آواز دے بیٹھے۔۔

اے ربِّ اغفر و َارحم!
کریمی ذات ہے تیری!
حبیب ِقُدس کے صدقے پنجتن پاک کے صدقے
مجھے واپس پلٹنے دے!
اے ربِّ اغفر و َارحم!
تو اپنی کُن سے کہہ دینا
تیری کُن سے پلٹنا ہے
وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ