خاک تیری درد مندی خاک تیرا یہ خلوص
تونے گر مجھے سراہا میرے مرجانے کے بعد
…
استاد الشعراء ارشاد جالندھری کا یومِ وفات
October 30, 2015
ارشاد جالندھری پسرام پور ضلع جالندھر 1945 ء میں پیدا ہوئے، نام ارشاد علی رکھا گیا ۔بعد میں اپنے نام کے ساتھ جالندھری لکھنے لگے
ارشاد جالندھری دل کے عارضہ میں مبتلا تھے اور30اکتوبر2015ء کو کسمپرسی کی حالت میں 70 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔
منتخب کلام
..
ڈگمگاتی پھر رہی تھی حسرتوں کی نائو بھی
مل گئے ہیں آپ تو مجھ کو کنارا مل گیا
….
اس سے بڑھ کر خوشی نصیبی اور ہوگی کیا بھلا
ہوگئی ہے دوستی جو گردش ایام سے
…….
میرے مجروح سینے پر تشدد کے نشانوں کو
زمانہ دیکھنے آیا نیتجہ کچھ نہیں نکلا
وہی چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے
بڑا اس دل کو سمجھایا نیتجہ کچھ نہیں نکلا
…..
ہر درد کی ٹیسوں کو میں نے سینے میں چھپانا سیکھ لیا
چہرے پہ مرے ان ٹیسوں کے احساس کی بھی تحریر نہیں
جنھیں ہم روگ سمجھے تھے وہی مشکل میں کام آئے
دکھوں نے میرے دکھ بانٹے غموں نے غمگساری کی
……
وہ بھی اب پچھتارہے ہیںمجھ کو ٹھکرانے کے بعد
میں کچھ سنبھلا ہوا ہوں ٹھوکریں کھانے کے بعد
خاک تیری درد مندی خاک تیرا یہ خلوص
تونے گر مجھے سراہا میرے مرجانے کے بعد
…..
چشمِ تر سے آنسوؤں نے رواں ہونا ہی تھا
آخر اس چشمے نے اک دن بیکراں ہونا ہی تھا
دو قدم ہی چل کے دھوکا دے گیا ہم سفر
راہِ منزل نے بھی تو پھر بے نشاں ہونا ہی تھا
کر لیا جب خود غرض لوگوں پہ اندھا اعتماد
پھر مِری قربانیوں نے رائیگاں ہونا ہی تھا
خود ہی میری خوبیوں کو خامیوں میں ڈھال کر
اس بہانے اس نے مجھ سے بدگماں ہونا ہی تھا
وقت کی مجبوریوں نے جب زباں کھلنے نہ دی
حالِ دل نمناک آنکھوں سے عیاں ہونا ہی تھا
یاس و رنج و غم عطا ہوتے نہ کیوں ارشادؔ کو
اس نے میری بے بسی پر مہرباں ہونا ہی تھا
—
کچھ بول میر کارواں
جب لٹ رہا ہو گلستاں
جب جل رہے ہوآشیاں
جب گر رہی ہو بجلیاں
جب ہو فضائوں میں دھواں
جب شہر ہو آتش فشاں
جب لٹ جائے کون ومکاں
کچھ بول میر کارواں
ہم ہو رہے ہیں بد گماں
…………………………
