حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستورِ وفا ہے
تو مثل رگِ جاں ہے تو کیوں مجھ سے جدا ہے
…
عرشؔ صدیقی کا یومِ ولادت
21؍جنوری 1927
منتخب اشعار
…
اٹھتی تو ہے سو بار پہ مجھ تک نہیں آتی
اس شہر میں چلتی ہے ہوا سہمی ہوئی سی
—
اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا
اے سنگِ دل تجھے بھی خبر ہے کہ کیا ہوا
—
ایک لمحے کو تم ملے تھے مگر
عمر بھر دل کو ہم مسلتے رہے
—
بس یوں ہی تنہا رہوں گا اس سفر میں عمر بھر
جس طرف کوئی نہیں جاتا ادھر جاتا ہوں میں
—
دیکھ رہ جائے نہ تو خواہش کے گنبد میں اسیر
گھر بناتا ہے تو سب سے پہلے دروازہ لگا
—
زمانے بھر نے کہا عرشؔ جو، خوشی سے سہا
پر ایک لفظ جو اس نے کہا سہا نہ گیا
—
وہ عیادت کو تو آیا تھا مگر جاتے ہوئے
اپنی تصویریں بھی کمرے سے اٹھا کر لے گیا
—
منزلِ مرگ میں جینے کی ادا رکھتا ہوں
یعنی ہر حال میں انداز جدا رکھتا ہوں
—
میں پیروی اہلِ سیاست نہیں کرتا
اک راستہ ان سب سے جدا چاہئے مجھ کو
—
ہاں سمندر میں اتر لیکن ابھرنے کی بھی سوچ
ڈوبنے سے پہلے گہرائی کا اندازہ لگا
—
کیا ساتھ ترا دوں کہ میں اک موجِ ہوا ہوں
بس ایک نفسِ عرضِ تمنا کو رکا ہوں
—
ہم نے چاہا تھا تیری چال چلیں
ہائے ہم اپنی چال سے بھی گئے
—
ہم کہ مایوس نہیں ہیں انہیں پا ہی لیں گے
لوگ کہتے ہیں کہ ڈھونڈے سے خدا ملتا ہے
—
آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھا
وہ مجھ سے جدا ہو کے پشیماں تو نہیں تھا
—
وہ جس کی داستاں پھیلی دل دیوانہ میرا تھا
زبانیں دشمنوں کی تھیں مگر افسانہ میرا تھا
—
پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑ
مطربہ طرز عاشقانہ چھیڑ
—
بیٹھا ہوں وقفِ ماتمِ ہستی مٹا ہوا
زہر وفا ہے گھر کی فضا میں گھلا ہوا
—
جوشِ جنوں بھی گردشِ دوراں سے کم نہ تھا
دل تھا تو دشت غم بھی گلستاں سے کم نہ تھا
—
روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیں
جسم افلاک میں ہم صورت جاں رہتے ہیں
—
حصارِ دل سے ادھر بھی حقیقتیں ہیں بہت
ترے بغیر بھی جینے کی صورتیں ہیں ہیں
—
حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستورِ وفا ہے
تو مثل رگِ جاں ہے تو کیوں مجھ سے جدا ہے
—
مہک ہے تیرے شبستاں کی بوئے زُلفِ صبا
چلی ہے بادِ صبا اک شکستہ پا کے لئے
—
بندھا ہے عہدِ جنوں چشمِ اعتبار کے ساتھ
اسے کہو کہ جئے عزمِ استوار کے ساتھ
—
عرشؔ میں خود ہوں سدا اپنے سکوں کا دشمن
دست امید بھی بر دوش ہوا رکھتا ہوں
—
یوں نہ کوئی تری محفل میں پریشاں ہو جائے
جیسے آوازِ صبا دشت میں حیراں ہو جائے
—
سوزش درد میں ہے عرشؔ قیامت پنہاں
وہ بھی کیا ہوں گے جو اس درد کا درماں ہوں گے
………………………………..
