جگر بسوانی شبِ غم کی درازی’ زلفِ جاناں کون دیکھے گ…


جگر بسوانی
شبِ غم کی درازی’ زلفِ جاناں کون دیکھے گا
لگا کرتم سے دل’ خوابِ پریشان کون دیکھے گا
…..
سرگزشتِ غم ہماری کس قدر دلچسپ تھی
آج وہ سنتے رہےہم سے فسانہ رات بھر
…..
کل نہیں معلوم کیا انجام ہو
آج وہ کر لیں جو کرنا چاہیے
……
داستانِ دل غمناک سنائیں تم کو
ہم تو روئے ہیں بہت آج رلائیں تم کو