💥 جس دن میں نے اپنے بیٹے کی قبر پر پہلی بار معافی مانگی، اُس دن اسے مرے ہوئے گیارہ سال ہو چکے تھے۔ 🥹💔
میں نے اُس سے پہلے کبھی قبرستان میں کسی مرد کو روتے نہیں دیکھا تھا۔ اُس روز وہاں بھی کوئی نہیں رو رہا تھا۔ دو قبروں کے درمیان جھاڑو دیتا ہوا بوڑھا مالی اپنی دھن میں مصروف تھا، دور کسی قبر پر اگربتی سلگ رہی تھی اور دھوپ میں سنگِ مرمر کی تختیاں اس قدر چمک رہی تھیں جیسے موت نے بھی امیروں اور غریبوں کے لیے الگ الگ انتظام کر رکھا ہو۔
میں اپنے بیٹے کی قبر کے سرہانے بیٹھا تھا۔ میرے ہاتھ میں اُس کی ایک پرانی تصویر تھی، جس میں وہ سترہ برس کا تھا۔ بال ماتھے پر بکھرے ہوئے، آنکھوں میں ایک عجیب سی بے فکری، اور ہونٹوں پر ایسی مسکراہٹ جیسے دنیا ابھی تک اُس کے ساتھ کوئی زیادتی کرنے میں کامیاب نہ ہوئی ہو۔
میں نے تصویر پر ہاتھ پھیرا اور کہا، ’’مجھے معاف کر دینا، حارث۔‘‘
اُسی لمحے میرے پیچھے کسی نے پوچھا، ’’آپ اُن کے والد ہیں؟‘‘
میں نے پلٹ کر دیکھا۔ ایک نوجوان لڑکی کھڑی تھی۔ ہاتھ میں پھولوں کی چھوٹی سی ٹوکری تھی اور آنکھوں میں وہی سوال جو لوگ کسی اجنبی کی قبر پر کسی شناسا کو روتے دیکھ کر پوچھتے ہیں۔
میں نے سر ہلا دیا۔
وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر بولی، ’’اُن کی ایک کہانی میں نے پڑھی تھی۔ بہت پہلے۔ اُس میں ایک باپ تھا جو اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتا تھا، مگر اُسے کبھی بتا نہیں سکا۔‘‘
میرے ہاتھ میں پکڑی تصویر کانپنے لگی۔
میں نے پوچھا، ’’تمہیں اُس کہانی کا عنوان یاد ہے؟‘‘
اُس نے ذرا سوچ کر کہا، ’’شاید… آخری آدمی۔ نہیں، معاف کیجیے، ٹھیک سے یاد نہیں۔ بس آخری جملہ یاد ہے۔‘‘
’’کیا تھا؟‘‘
وہ میری طرف دیکھنے لگی۔
’’باپ اکثر سمجھتے ہیں کہ اُن کے بچے اُن کی خاموشی کو محبت سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ بعض بچے ساری عمر اُس ایک جملے کا انتظار کرتے رہتے ہیں جو اُن کے باپ کے نزدیک کہنا ضروری ہی نہیں ہوتا۔‘‘
میں نے سر جھکا لیا۔
وہ جملہ حارث نے لکھا تھا۔ اور میں اُس کا باپ تھا۔
گیارہ برس پہلے مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ میرا بیٹا کہانیاں لکھتا ہے۔
میرا نام سکندر محمود ہے۔ ریٹائرمنٹ سے پہلے میں محکمۂ مال میں افسر تھا۔ راولپنڈی کے ایک پُرانے محلے میں آبائی گھر تھا، جس کے صحن میں نیم کا درخت اور برآمدے میں میرے والد کی رکھی ہوئی لکڑی کی کرسی اب تک موجود ہے۔ میری زندگی اُن لوگوں جیسی تھی جنہیں معاشرہ کامیاب سمجھتا ہے۔ سرکاری ملازمت، اپنی چھت، بیوی، دو بچے، محلے میں عزت اور رشتہ داروں میں ایک ایسا مقام جہاں شادی بیاہ کے معاملات میں بھی میری رائے کو اہمیت دی جاتی تھی۔
میں اپنے بچوں سے محبت کرتا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں۔
میں نے اُن کی تعلیم پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا، اُن کی ضروریات پوری کیں، اُنہیں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے نہیں دیا۔ بیٹی کی شادی اچھے گھر میں کی۔ بیٹے کو بھی کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔
کم از کم مجھے یہی یقین تھا۔
میرا بیٹا حارث مجھ سے مختلف تھا۔ اُسے پیسے گننے سے زیادہ لفظ گننے کا شوق تھا۔ میں اخبار پڑھتا تو وہ ادبی صفحہ اٹھا لیتا۔ میں شام کو دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر سیاست اور جائیداد کے قصے سناتا تو وہ صحن میں نیم کے نیچے بیٹھا کسی ڈائری میں کچھ لکھتا رہتا۔
میں اکثر اُسے دیکھ کر کہتا، ’’یہ کیا لکھتے رہتے ہو؟ امتحان میں یہ سب نہیں آنا۔‘‘
وہ مسکرا دیتا۔
اُس کی یہ مسکراہٹ مجھے اُس وقت بے فکری لگتی تھی۔ اب سوچتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ میرے سامنے اپنی شکست چھپانے کا سب سے آسان طریقہ جان گیا تھا۔
ایک بار اُس نے کالج کے ایک ادبی مقابلے میں انعام جیتا۔ گھر آ کر اُس نے سرٹیفکیٹ میرے سامنے رکھا۔ اُس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔
میں نے سرٹیفکیٹ دیکھا، پھر پوچھا، ’’اچھا، پڑھائی میں کتنے نمبر آئے ہیں؟‘‘
اُس کی آنکھوں کی چمک ایک لمحے میں بجھ گئی۔
’’جی، وہ بھی ٹھیک ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہیں کا کیا مطلب؟ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ زندگی میں مقابلے جیتنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ اصل کامیابی وہ ہے جس سے گھر چلتا ہے۔‘‘
اُس نے سرٹیفکیٹ تہہ کیا اور اپنی جیب میں رکھ لیا۔
میں نے اُس دن اُسے ایک نصیحت کی تھی۔ وہ شاید اُسی دن پہلی بار اپنے باپ سے کچھ چھپا کر گھر لوٹا تھا۔
وقت گزرتا رہا۔ حارث نے جامعہ میں داخلہ لیا۔ وہ اردو ادب پڑھنا چاہتا تھا، مگر میری ضد پر اُس نے کاروبار کی تعلیم اختیار کر لی۔ میں چاہتا تھا کہ وہ کسی بینک میں ملازمت کرے، پھر ترقی کرے، پھر گھر بنائے، شادی کرے اور ایک ایسی زندگی گزارے جس میں کسی کو اُس کے مستقبل کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
میں نے اُس کے لیے ایک نقشہ بنا رکھا تھا۔
مجھے یہ خیال کبھی نہیں آیا کہ شاید وہ اپنی زندگی کا نقشہ خود بنانا چاہتا ہے۔
وہ اکثر رات کو دیر تک جاگتا۔ میں کمرے کے باہر سے گزرتا تو دروازے کے نیچے سے روشنی آتی دکھائی دیتی۔ کبھی خیال آتا کہ جا کر پوچھوں، مگر پھر سوچتا کہ جوان لڑکوں کی یہی عادتیں ہوتی ہیں۔ صبح جلدی اٹھنے کا کہہ کر اپنے کمرے میں چلا جاتا۔
اُس کی میز پر کتابیں، کاغذ اور ایک پرانی سی ڈائری رہتی تھی۔ میں نے کبھی اُسے کھول کر نہیں دیکھا۔
میں سمجھتا تھا کہ باپ ہونے کے ناتے مجھے اپنے بیٹے کے بارے میں سب کچھ معلوم ہے۔
آدمی اپنی اولاد کے بارے میں سب سے زیادہ غلط فہمی اسی وقت پالتا ہے جب اُسے یقین ہو جائے کہ وہ اُسے اچھی طرح جانتا ہے۔
حارث کی موت سے تین دن پہلے کی بات ہے۔
وہ ایک ناشر کے دفتر گیا تھا۔ وہاں اُس کی کہانیوں کا ایک مجموعہ زیرِ غور تھا۔ اُسے امید تھی کہ کتاب شائع ہو جائے گی۔ واپسی پر اُس نے امی کو بتایا تو وہ خوشی سے بولیں، ’’اللہ کرے تمہارا شوق پورا ہو جائے۔‘‘
میں نے یہ بات سن لی۔
رات کو کھانے کی میز پر میں نے اُس سے پوچھا، ’’یہ کتاب کا کیا چکر ہے؟‘‘
اُس نے خوشی چھپانے کی کوشش کی۔ ’’ابو، ایک ناشر سے بات ہوئی ہے۔ اُنہیں میری کچھ کہانیاں پسند آئی ہیں۔ شاید کتاب چھاپ دیں۔‘‘
’’اور تمہیں لگتا ہے کہ کتابیں لکھ کر گھر چل جائے گا؟‘‘
’’میں نے ایسا کب کہا ہے؟ میں نوکری بھی کروں گا۔ بس لکھنا نہیں چھوڑنا چاہتا۔‘‘
’’تمہیں شوق پورا کرنا ہے تو چھٹی کے دن کر لیا کرو۔ پہلے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاؤ۔ ہر وقت خواب دیکھنے سے کچھ نہیں ہوتا۔‘‘
وہ خاموش رہا۔
میں نے اُس کی خاموشی کو اپنی بات کی تائید سمجھا اور مزید کہا، ’’دیکھو حارث، میں تمہارا دشمن نہیں ہوں۔ میں نے ساری عمر دھکے کھائے ہیں۔ میں جانتا ہوں دنیا کیسے چلتی ہے۔ تم ابھی بچے ہو، تمہیں تجربہ نہیں۔‘‘
اُس نے پہلی بار میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا، ’’ابو، میں چوبیس سال کا ہوں۔‘‘
مجھے اُس کے لہجے میں اعتراض محسوس ہوا۔
’’تو کیا ہوا؟ چوبیس سال میں عقل نہیں آ جاتی۔ باپ کا تجربہ بھی کوئی چیز ہوتا ہے۔‘‘
اُس نے کھانا چھوڑ دیا اور اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔
اُس کی ماں نے آہستہ سے کہا، ’’آپ کبھی اُس کی بات بھی سن لیا کریں۔‘‘
میں نے غصے سے دیکھا۔ ’’تم نے اسے سر پر چڑھا رکھا ہے۔ کل کو زندگی کی کوئی ٹھوکر لگے گی تو خود سمجھ جائے گا۔‘‘
مجھے معلوم نہیں تھا کہ زندگی کی ٹھوکر لگنے سے پہلے ہی میں اُس کے دل پر کتنی ٹھوکریں لگا چکا تھا۔
اگلی صبح حارث ناشتے کی میز پر آیا تو معمول سے زیادہ خاموش تھا۔ میں اخبار پڑھ رہا تھا۔ اُس نے چائے کا کپ اٹھایا، پھر کچھ سوچ کر واپس رکھ دیا۔
’’ابو، ایک بات کہوں؟‘‘
میں نے اخبار سے نظریں اٹھائیں۔ ’’کہو۔‘‘
وہ چند لمحے رکا، جیسے الفاظ کو ترتیب دے رہا ہو۔
’’اگر میں کبھی ناکام ہو گیا تو کیا آپ پھر بھی مجھ سے محبت کریں گے؟‘‘
مجھے اُس وقت یہ سوال عجیب لگا۔ میں نے ہنس کر کہا، ’’یہ کیسی باتیں کر رہے ہو؟ باپ اولاد سے محبت نہیں کرے گا تو کس سے کرے گا؟‘‘
اُس نے میری طرف دیکھا۔ اُس کی آنکھوں میں کچھ تھا جسے میں آج تک بھول نہیں سکا۔
’’پھر آپ کبھی ایسا کہتے کیوں نہیں؟‘‘
میں نے اخبار تہہ کر دیا۔
’’اب اس عمر میں تمہیں یہ بھی بتانا پڑے گا؟ کیا تمہارے لیے اتنا کافی نہیں کہ میں تمہاری ہر ضرورت پوری کرتا ہوں؟‘‘
اُس نے سر جھکا لیا۔
’’جی، ابو۔‘‘
وہ اٹھا، میرے قریب آیا، جیسے میرے کندھے پر ہاتھ رکھنا چاہتا ہو۔ پھر جانے کیا سوچ کر رک گیا۔
دروازے تک پہنچ کر اُس نے کہا، ’’اچھا، میں چلتا ہوں۔‘‘
میں نے جواب دیا، ’’ہاں، اور شام کو وقت پر گھر آنا۔‘‘
یہ ہماری آخری گفتگو تھی۔
اُسی شام دفتر سے واپسی پر ایک تیز رفتار گاڑی نے اُس کی موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی۔ کسی راہ گیر نے اُس کے موبائل سے گھر فون کیا۔ میں اسپتال پہنچا تو حارث آپریشن تھیٹر میں تھا۔ ڈاکٹر نے بہت کوشش کی، مگر رات ہونے سے پہلے مجھے بتا دیا گیا کہ میرا بیٹا اب اس دنیا میں نہیں رہا۔
اُس وقت میں نے کچھ نہیں کہا۔
میں نے ڈاکٹر سے سوال کیے، کاغذات پر دستخط کیے، پولیس کو بیان دیا، رشتہ داروں کو فون کیے۔ میں نے جنازے کے انتظامات کیے، لوگوں کو راستہ بتایا، قبر کے لیے جگہ منتخب کی اور تدفین کے بعد سب کے ساتھ گھر واپس آ گیا۔
لوگ کہتے رہے، ’’سکندر صاحب، آپ بہت مضبوط آدمی ہیں۔‘‘
میں سر جھکا دیتا۔
مجھے معلوم تھا کہ میں مضبوط نہیں تھا۔ میں صرف اتنا جانتا تھا کہ اگر ایک لمحے کے لیے بھی رونے بیٹھ گیا تو شاید دوبارہ اٹھ نہ سکوں۔
مگر اس سے بھی بڑا خوف کچھ اور تھا۔
اگر میں رو پڑا تو مجھے حارث یاد آئے گا۔ اور اگر حارث یاد آیا تو مجھے اُس کا آخری سوال یاد آئے گا۔
اگر میں کبھی ناکام ہو گیا تو کیا آپ پھر بھی مجھ سے محبت کریں گے؟
میں نے زندگی میں کئی لوگوں کے سامنے اپنے فیصلوں کا دفاع کیا تھا۔ اُس دن سے میں اپنے ہی سامنے صفائی پیش کرنے لگا۔
وہ میرا بیٹا تھا۔ میں اُس سے محبت کرتا تھا۔ میں نے اُس کے لیے سب کچھ کیا تھا۔ میں اُس کا برا نہیں چاہتا تھا۔
میں ہر روز یہی کہتا۔
اور ہر رات میرا دل مجھ سے پوچھتا:
اگر تم اُس سے محبت کرتے تھے تو اُسے اس محبت کا یقین کیوں نہیں تھا؟
حارث کے جانے کے بعد گھر میں سب کچھ اپنی جگہ موجود تھا۔ اُس کا کمرہ، اُس کی کتابیں، میز پر رکھا قلم، الماری میں لٹکی ہوئی قمیصیں۔ اُس کی ماں کئی ماہ تک اُس کے کمرے کی صفائی خود کرتی رہی۔ کبھی اُس کی کتابیں سمیٹتی، کبھی بستر کی چادر بدلتی، اور کبھی اُس کی کوئی چیز ہاتھ میں لے کر خاموش بیٹھ جاتی۔
میں اُس کمرے میں جانے سے گریز کرتا تھا۔
ایک روز اُس کی ماں نے مجھ سے کہا، ’’حارث کی چیزیں سمیٹ دیں؟ کمرہ ویسے کا ویسا پڑا ہے۔‘‘
میں نے سختی سے جواب دیا، ’’رہنے دو۔‘‘
وہ کچھ نہ بولی۔
رات کو میں نے اُسے حارث کے کمرے میں بیٹھے دیکھا۔ اُس کے ہاتھ میں ایک ڈائری تھی۔ وہ صفحات پلٹ رہی تھی اور آنسو اُس کے دوپٹے پر گر رہے تھے۔
میں نے پوچھا، ’’کیا ہوا؟‘‘
اُس نے ڈائری بند کر دی۔
’’کچھ نہیں۔ اُس کی لکھی ہوئی باتیں پڑھ رہی تھی۔‘‘
میں نے ڈائری لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا، مگر اُس نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔
’’یہ رہنے دیں۔‘‘
میں نے پہلی مرتبہ اپنی بیوی کی آنکھوں میں ایسا دکھ دیکھا جس تک میری رسائی نہیں تھی۔
’’مجھے بھی دکھ ہے،‘‘ میں نے کہا۔
وہ میری طرف دیکھنے لگی۔
’’مجھے معلوم ہے،‘‘ اُس نے جواب دیا، ’’مگر حارث آپ سے کچھ کہنا چاہتا تھا۔ آپ نے کبھی وقت ہی نہیں دیا۔‘‘
میں غصے میں آ گیا۔
’’اب تم بھی مجھے قصوروار ٹھہراؤ گی؟ کیا میں نے اُس کے لیے کچھ نہیں کیا؟‘‘
وہ خاموش رہی۔ پھر بولی، ’’آپ نے اُس کے لیے بہت کچھ کیا، سکندر۔ بس ایک بات نہیں کی۔ آپ نے کبھی اُسے یہ نہیں بتایا کہ وہ جیسا ہے، آپ کے لیے کافی ہے۔‘‘
میں نے اُس دن اُس سے بات کرنا چھوڑ دی۔
مجھے اپنے بیٹے کی موت کا دکھ تھا، مگر اُس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ کہیں نہ کہیں میں جانتا تھا، میری بیوی سچ کہہ رہی ہے۔
تدفین کے چالیس دن بعد میں نے حارث کی الماری صاف کرنے کا فیصلہ کیا۔
میں نہیں جانتا کہ مجھے کس چیز نے مجبور کیا۔ شاید گھر میں ہر طرف اُس کی موجودگی کا احساس ناقابلِ برداشت ہو گیا تھا۔ شاید میں اُس کے کمرے کو دیکھ کر یہ تسلیم نہیں کر پا رہا تھا کہ اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔
میں نے اُس کی کتابیں ایک طرف رکھیں، کپڑے تہہ کیے، درازیں کھولیں۔ آخری دراز میں ایک موٹی سی ڈائری رکھی تھی جس کے سرورق پر کوئی عنوان نہیں تھا۔
میں نے اسے کھولا۔
پہلے چند صفحات پر کہانیاں تھیں۔ کچھ مکمل، کچھ ادھوری۔ پھر ایک صفحے پر میری نظر رک گئی۔
اُس پر لکھا تھا:
’’میرے ابو بُرے آدمی نہیں ہیں۔ شاید یہی بات مجھے اُن سے شکایت کرنے نہیں دیتی۔ وہ میری فیس وقت پر جمع کرواتے ہیں، میری ضرورت کی ہر چیز خرید دیتے ہیں، میری بیماری میں رات بھر جاگتے ہیں۔ اگر کوئی مجھ پر انگلی اٹھائے تو سب سے پہلے میرے دفاع میں کھڑے ہوں گے۔
مگر میں نہیں جانتا کہ اُن کے سامنے اپنے دل کی بات کیسے کروں۔
جب میں کوئی خواب بتاتا ہوں تو وہ اُس میں خطرہ تلاش کرنے لگتے ہیں۔ جب میں خوش ہوتا ہوں تو وہ پوچھتے ہیں کہ اس خوشی سے حاصل کیا ہوگا۔ جب میں ناکام ہوتا ہوں تو وہ سمجھاتے ہیں کہ مجھے پہلے ہی معلوم ہونا چاہیے تھا۔
شاید وہ ٹھیک کہتے ہیں۔ شاید میں واقعی نادان ہوں۔
لیکن میں کبھی کبھی چاہتا ہوں کہ وہ مجھے نصیحت نہ کریں۔ بس میرے پاس بیٹھیں اور پوچھیں کہ میں کیسا ہوں۔
میں اُنہیں بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے ڈر لگتا ہے۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ اگر میں وہ نہ بن سکا جو وہ چاہتے ہیں تو وہ مجھ سے مایوس ہو جائیں گے۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ میری ساری زندگی اُنہیں خوش کرنے کی کوشش میں گزر جائے گی اور آخر میں مجھے معلوم ہوگا کہ میں نے اپنی زندگی جی ہی نہیں۔
میں اپنے ابو سے بہت محبت کرتا ہوں۔
میں چاہتا ہوں کہ ایک دن وہ میرے سامنے اپنی کمزوری تسلیم کریں۔ مجھے بتائیں کہ انہیں بھی ڈر لگتا ہے، انہیں بھی کبھی سمجھ نہیں آتی کہ کیا کرنا چاہیے، وہ بھی غلطیاں کرتے ہیں۔
شاید اُس دن میں اُن کے قریب ہو سکوں گا۔
ابھی تو میں اُن کے سامنے بیٹھا ہوتا ہوں، مگر ایسا لگتا ہے جیسے ہمارے درمیان کوئی بہت لمبا راستہ ہے جسے ہم دونوں میں سے کوئی طے نہیں کرنا چاہتا۔‘‘
میں نے ڈائری بند کر دی۔
کمرے میں خاموشی تھی۔ باہر نیم کے پتوں سے ہوا گزر رہی تھی۔ کہیں دور اذان ہو رہی تھی۔
میں نے زندگی میں پہلی بار محسوس کیا کہ میرا بیٹا مجھ سے دور کسی دوسرے شہر میں نہیں رہتا تھا۔ وہ تو میرے ساتھ اسی گھر میں رہتا تھا۔ اسی دسترخوان پر کھانا کھاتا تھا۔ میرے سامنے سے گزرتا تھا، مجھ سے بات کرتا تھا، میری آواز سنتا تھا۔
اور پھر بھی میں اُس تک نہیں پہنچ سکا تھا۔
میں نے ڈائری دوبارہ کھولی۔ اگلے صفحے پر صرف ایک جملہ تھا:
’’اگر ابو کبھی میری کوئی کہانی پڑھیں تو شاید انہیں معلوم ہو کہ میں اُن سے ناراض نہیں ہوں۔ میں صرف چاہتا ہوں کہ وہ مجھے ایک بار سمجھنے کی کوشش کریں۔‘‘
میں اُس رات اپنے کمرے میں نہیں سویا۔
حارث کے بستر پر بیٹھا رہا، ڈائری گود میں رکھی، اور صبح کی اذان تک روتا رہا۔
میں نے اُس سے کبھی معافی نہیں مانگی تھی۔
اور اب، جب مانگنا چاہتا تھا، میرے پاس صرف اُس کی تحریر باقی تھی۔
اُس واقعے کے تقریباً تین سال بعد مجھے ایک بیماری کے شبہے کی وجہ سے بڑے اسپتال میں کئی ٹیسٹ کروانے پڑے۔ ڈاکٹروں نے کچھ عرصہ نگرانی میں رہنے کا مشورہ دیا۔ حتمی طور پر کوئی خطرناک بیماری ثابت نہیں ہوئی، مگر اس انتظار نے میرے اندر ایک ایسا خوف جگا دیا جس سے میں پہلے کبھی اس طرح آشنا نہیں ہوا تھا۔
اسپتال کے کمرے میں رات کے وقت جب سب مریض سو جاتے، میں چھت کو دیکھتا رہتا۔
مجھے اپنے والد یاد آتے، جو ساری زندگی ایک سخت مزاج آدمی رہے تھے۔ اُنہوں نے کبھی میرے سر پر ہاتھ پھیر کر یہ نہیں کہا تھا کہ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ میرے لیے اُن کی محبت کا ثبوت یہ تھا کہ اُنہوں نے مجھے پڑھایا، میری ملازمت کے لیے لوگوں سے بات کی، میری شادی کی، میرے لیے گھر بنایا۔
میں نے بھی تو وہی کیا تھا۔
میں نے وہی زبان سیکھی تھی جو مجھے ورثے میں ملی تھی۔ میں نے اپنے باپ کی خاموشی کو ذمہ داری سمجھا، اُن کی سختی کو تربیت، اُن کی بے اعتنائی کو خودداری۔ پھر میں نے یہی سب کچھ اپنے بیٹے کو دے دیا، اس یقین کے ساتھ کہ میں اُسے بہتر انسان بنا رہا ہوں۔
شاید ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے والدین کی غلطیوں کو اُن کے مرنے کے بعد پہچانتے ہیں، اور اپنی غلطیوں کو اُس وقت جب ہمارے بچے ہمیں چھوڑ کر جا چکے ہوتے ہیں۔
میں نے اسپتال کے بستر پر لیٹے ہوئے سوچا کہ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو میرے بچے میرے بارے میں کیا کہیں گے؟
یہ کہ ان کے باپ نے اُن کے لیے بہت کچھ کیا؟
یا یہ کہ وہ اُن سے محبت کرتے تھے، مگر اُنہیں کبھی یہ محسوس نہ ہونے دیا؟
اُسی رات میں نے پہلی بار اپنی بیٹی کو فون کیا اور پوچھا، ’’مریم، تم خوش ہو؟‘‘
وہ کچھ دیر خاموش رہی۔
پھر بولی، ’’ابو، کیا ہوا ہے؟‘‘
’’کچھ نہیں۔ بس تمہاری یاد آ رہی تھی۔‘‘
اُس کی آواز بدل گئی۔
’’آپ ٹھیک ہیں نا؟‘‘
میں نے کہا، ’’ہاں، بیٹا۔ بس تم سے بات کرنا چاہتا تھا۔‘‘
ہم تقریباً آدھا گھنٹہ بات کرتے رہے۔ اُس نے اپنے بچوں کے بارے میں بتایا، اپنے شوہر کے کام کے بارے میں، گھر کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے بارے میں۔ میں سنتا رہا۔
فون بند کرنے سے پہلے اُس نے کہا، ’’ابو، آپ پہلے کبھی اس طرح بات نہیں کرتے تھے۔‘‘
میں نے پوچھا، ’’کیا مطلب؟‘‘
’’کچھ نہیں۔ اچھا لگ رہا ہے۔‘‘
فون بند ہوا تو میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
مجھے احساس ہوا کہ بعض رشتوں میں فاصلے کسی ایک بڑے حادثے سے پیدا نہیں ہوتے۔ وہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی خاموشیوں سے بنتے ہیں۔ ایک سوال نہ پوچھنے سے، ایک جواب نہ سننے سے، ایک گلے نہ لگانے سے، ایک بار یہ نہ کہنے سے کہ تم جیسے بھی ہو، مجھے عزیز ہو۔
اور پھر ایک دن آدمی مڑ کر دیکھتا ہے تو دونوں کناروں کے درمیان دریا بہہ رہا ہوتا ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد میں نے لکھنا شروع کیا۔
شروع میں یہ صرف حارث کے لیے تھا۔ میں اُس کے نام خط لکھتا، اپنے دن کی باتیں بتاتا، اُس سے شکایت کرتا کہ وہ مجھے اتنی جلدی چھوڑ کر کیوں چلا گیا۔ پھر آہستہ آہستہ میں اپنے بارے میں لکھنے لگا۔
میں نے لکھا کہ مجھے بچپن میں اپنے والد سے ڈر لگتا تھا۔ میں نے لکھا کہ جب میں نے پہلی بار ملازمت میں غلطی کی تھی تو کئی راتیں سو نہیں سکا تھا۔ میں نے لکھا کہ میں ہمیشہ لوگوں کے سامنے مضبوط دکھائی دینا چاہتا تھا، کیونکہ مجھے یقین تھا کہ اگر کسی نے میری کمزوری دیکھ لی تو وہ میری عزت نہیں کرے گا۔
میں نے یہ بھی لکھا کہ میں نے اپنی پوری زندگی دوسروں کی نظر میں اچھا آدمی بننے کی کوشش کی، مگر کبھی خود سے نہیں پوچھا کہ میرے قریب رہنے والے لوگ میرے ساتھ کیسا محسوس کرتے ہیں۔
ایک روز میری پوتی زینب میرے پاس آئی۔ وہ کالج میں پڑھتی تھی اور اُسے بھی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا۔ اُس نے اپنی ایک تحریر مجھے پڑھنے کے لیے دی۔
میں نے پڑھ کر کہا، ’’یہ بہت اچھی ہے۔‘‘
وہ خوش ہوئی۔
پھر میں نے محسوس کیا کہ میری زبان پر پرانا جملہ آنے والا ہے: تمہیں ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے، اس میں یہ کمی ہے، اس میں وہ خامی ہے۔
میں رک گیا۔
زینب میری طرف دیکھ رہی تھی۔
میں نے کاغذ ایک طرف رکھا اور کہا، ’’تمہیں لکھتے رہنا چاہیے۔ مجھے اچھا لگا کہ تم نے یہ مجھے پڑھنے کے لیے دیا۔‘‘
اُس کے چہرے پر جو خوشی آئی، وہ مجھے حارث کے اُس سرٹیفکیٹ کی یاد دلا گئی جو میں نے برسوں پہلے دیکھ کر ایک طرف رکھ دیا تھا۔
زینب نے پوچھا، ’’دادا، آپ نے کبھی کہانی لکھی ہے؟‘‘
میں نے کہا، ’’ہاں۔‘‘
’’کس بارے میں؟‘‘
میں نے جواب دیا، ’’ایک ایسے باپ کے بارے میں جو اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتا تھا، مگر اُسے یہ بتانے میں دیر کر گیا۔‘‘
وہ خاموش ہو گئی۔
پھر آہستہ سے بولی، ’’کیا وہ بیٹا مر گیا تھا؟‘‘
میں نے اُس کی طرف دیکھا۔
’’ہاں۔‘‘
زینب نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔
’’دادا، آپ نے اُسے بتایا کیوں نہیں؟‘‘
میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
وہ بچی تھی۔ اُس کے لیے محبت کا مطلب ابھی اتنا پیچیدہ نہیں ہوا تھا کہ اُسے ذمہ داریوں، تربیت، مستقبل اور معاشرتی توقعات کے پردوں میں چھپانا پڑتا۔
اُس نے بس اتنا کہا، ’’میں ہوتی تو روز بتاتی۔‘‘
میں نے اُس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔
میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
وہ گھبرا گئی۔ ’’دادا، آپ رو رہے ہیں؟‘‘
میں نے پہلی بار کسی بچے کے سامنے اپنے آنسو چھپانے کی کوشش نہیں کی۔
’’ہاں، بیٹا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
میں نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
’’کیونکہ کچھ باتیں انسان کو بہت دیر سے سمجھ آتی ہیں۔‘‘
اب میں اکہتر برس کا ہوں۔ حارث کی قبر پر جاتا ہوں تو اکثر اُس سے باتیں کرتا ہوں۔ کبھی اُس کی ماں بھی ساتھ ہوتی ہے۔ وہ اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ حارث کے جانے کے بعد اُس کی ہنسی میں ایک مستقل تھکن اتر آئی ہے۔ مگر جب وہ اپنے نواسوں کے ساتھ ہوتی ہے تو کبھی کبھی اُس کے چہرے پر وہی پرانی روشنی لوٹ آتی ہے۔
میں نے حارث کی کچھ کہانیاں ایک کتاب کی صورت میں شائع کروانے کی کوشش کی تھی۔ اُس کے دوستوں نے مدد کی، کچھ کہانیاں ایک ادبی رسالے میں شائع بھی ہوئیں۔ کتاب چھپی تو اُس کے نام کے نیچے میں نے اپنے نام کے بجائے صرف یہ لکھوایا:
’’اُس باپ کے نام، جو اپنے بیٹے کو اُس وقت سمجھا جب وہ سننے کے لیے دنیا میں موجود نہیں تھا۔‘‘
کتاب کی پہلی تقریب میں لوگ آئے۔ کسی نے حارث کی تحریروں کی تعریف کی، کسی نے مجھے حوصلہ دیا۔ میں سب کی باتیں سنتا رہا۔
تقریب کے بعد ایک نوجوان میرے پاس آیا۔ اُس نے بتایا کہ وہ بھی لکھنا چاہتا ہے، مگر اُس کے والد اس کے شوق کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔
میں نے اُس سے پوچھا، ’’تم نے اُن سے بات کی؟‘‘
اُس نے کہا، ’’کئی بار۔ وہ نہیں سمجھتے۔‘‘
میں نے اُسے مشورہ دینے کے بجائے صرف اتنا کہا، ’’اپنے والد سے بات کرتے رہنا۔ اور اگر کبھی تمہارے والد تم سے اپنی بات کہیں تو اُنہیں بھی سننا۔ ہم باپ کبھی کبھی اپنی محبت کے شور میں بچوں کی آواز سننا بھول جاتے ہیں۔‘‘
وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر میرے گلے لگ گیا۔
میں اُسے جانتا نہیں تھا۔ شاید دوبارہ کبھی نہ دیکھتا۔
مگر اُس لمحے مجھے لگا کہ حارث کی کہانی صرف میری نہیں رہی۔
میں اُس کا باپ تھا، اُس کی موت کا غم میرے حصے میں آیا تھا، مگر اُس کی خاموشی میں ایسے بہت سے بچوں کی آوازیں چھپی تھیں جن کے گھروں میں محبت موجود تھی، صرف اظہار کی جگہ نہیں تھی۔
میں گھر واپس آیا تو اُس رات حارث کے نام خط لکھا۔
’’بیٹا، آج ایک لڑکا ملا تھا۔ تمہاری طرح کہانیاں لکھنا چاہتا ہے۔ اُس کے باپ کو اُس کی بات سمجھ نہیں آتی۔ میں نے اُسے تمہاری کہانی سنائی نہیں، بس اتنا کہا کہ اپنے باپ سے بات کرتا رہے۔
مجھے نہیں معلوم وہ لڑکا کامیاب ہوگا یا نہیں۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ میں تمہیں کبھی صحیح طرح سمجھ پایا تھا یا نہیں۔
بس اتنا جانتا ہوں کہ اب جب کوئی بچہ اپنے خواب کی بات کرتا ہے تو میں اُس کے خواب کی قیمت نہیں پوچھتا۔
میں اُس سے پوچھتا ہوں کہ وہ خوش ہے یا نہیں۔
کاش، یہ سوال تم سے بھی پوچھا ہوتا۔‘‘
میں نے خط مکمل کیا اور ڈائری میں رکھ دیا۔
پھر دیر تک حارث کی تصویر دیکھتا رہا۔
مجھے اب بھی اُس کی یاد آتی ہے۔ کبھی اُس کی ہنسی یاد آتی ہے، کبھی اُس کا غصہ، کبھی وہ انداز جس سے وہ چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے انگلیوں سے پیالی کے کنارے پر دستک دیتا تھا۔ کبھی اُس کی آواز سنائی دیتی ہے، ’’ابو، ایک بات کہوں؟‘‘
اور میں ہر بار دل ہی دل میں جواب دیتا ہوں:
ہاں، بیٹا۔ کہو۔
میں سن رہا ہوں۔
اب میں سن رہا ہوں۔
قبرستان میں اُس روز جو لڑکی مجھ سے ملی تھی، اُس کے جانے کے بعد میں کافی دیر حارث کی قبر کے پاس بیٹھا رہا۔
پھر میں نے اُس کی تصویر نکالی۔ تصویر میں وہی مسکراہٹ تھی، وہی بے فکری، وہی آنکھیں جن میں زندگی کے لیے ایک خاموش سی امید تھی۔
میں نے آہستہ سے کہا، ’’حارث، میں نے تمہیں کھو کر بہت کچھ سیکھا ہے۔ مگر اگر مجھے ایک موقع اور ملتا تو میں تمہیں یہ سب سکھانے کے بجائے تمہارے ساتھ بیٹھ کر چائے پیتا۔ تمہاری کہانیاں سنتا۔ تمہارے خوابوں پر ہنستا نہیں، تمہارے ساتھ ہنستا۔ اور جب تم پوچھتے کہ اگر تم ناکام ہو گئے تو کیا ہوگا، تو میں کہتا کہ کچھ نہیں ہوگا، بیٹا۔ تم پھر کوشش کرنا۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘
میری آواز بھرّا گئی۔
میں نے قبر کی مٹی پر ہاتھ رکھا۔
’’تمہیں معلوم ہے، میں نے اپنی زندگی میں بہت سے فیصلے کیے۔ لوگوں کے گھر بچائے، لوگوں کے مقدمے لڑے، لوگوں کو انصاف دلانے کی کوشش کی۔ مگر اپنے گھر میں ایک بات سمجھ نہ سکا۔ محبت صرف کسی کے لیے سب کچھ کرنے کا نام نہیں۔ محبت کبھی کبھی اُس کے پاس بیٹھ کر کچھ نہ کرنے کا نام بھی ہے۔ نہ نصیحت، نہ فیصلہ، نہ اصلاح۔ صرف ساتھ۔‘‘
ہوا چل رہی تھی۔ نیم کے پتے سرسرا رہے تھے۔
میں نے تصویر واپس جیب میں رکھی اور اٹھنے لگا تو میری نظر قبر کے کتبے پر پڑی۔ حارث کا نام، تاریخِ پیدائش، تاریخِ وفات۔
دو تاریخوں کے درمیان ایک لکیر۔
میں نے ہمیشہ سمجھا تھا کہ انسان کی زندگی ان دو تاریخوں کے درمیان ہونے والی کامیابیوں، ناکامیوں، محنت اور جدوجہد کا نام ہے۔
اب مجھے لگتا ہے کہ اصل زندگی شاید ان دو تاریخوں کے درمیان اُن لمحوں میں چھپی ہوتی ہے جب ہم کسی کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے اہم ہے۔
اور شاید انسان کی سب سے بڑی محرومی کسی اپنے کو کھو دینا نہیں ہوتی۔
سب سے بڑی محرومی یہ ہوتی ہے کہ وہ شخص زندہ تھا، آپ کے پاس تھا، آپ سے محبت کرتا تھا، آپ کی آواز پر پلٹ کر دیکھتا تھا، آپ کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھتا تھا—اور آپ کو اُس وقت تک معلوم ہی نہ ہو سکا کہ وہ آپ سے کیا مانگ رہا ہے۔
میں قبرستان کے دروازے کی طرف چل پڑا۔
راستے میں ایک چھوٹا سا بچہ اپنے باپ کا ہاتھ پکڑے جا رہا تھا۔ اُس نے کسی بات پر ضد کی تو باپ نے جھک کر اُسے گلے لگا لیا۔ بچہ ہنسنے لگا۔
میں وہیں رک گیا۔
میرے اندر کچھ ٹوٹا نہیں تھا۔ وہ تو بہت پہلے ٹوٹ چکا تھا۔
بس ایک پرانا زخم تھا جو آج بھی زندہ تھا، اور اُس زخم کے اندر ایک ایسی بات روشن ہو گئی تھی جسے میں اپنی پوری زندگی نہیں سمجھ سکا تھا۔
میں نے آنکھیں بند کیں اور پہلی بار اپنے آپ سے کہا:
’’سکندر، تم بُرے باپ نہیں تھے۔ تم صرف یہ سمجھتے رہے کہ محبت کا ثبوت دینا ضروری نہیں، بس محبت کرنا کافی ہے۔‘‘
پھر میں نے خود ہی اپنے اس جملے کی تردید کر دی۔
نہیں۔
محبت کرنا کافی نہیں ہوتا۔
کسی کو یہ معلوم بھی ہونا چاہیے کہ وہ محبوب ہے۔
میں گھر واپس آ گیا۔ حارث کی ڈائری میز پر رکھی تھی۔ میں نے آخری صفحہ کھولا، قلم اٹھایا اور اُس کے نیچے ایک جملہ لکھ دیا:
’’بیٹا، تم نے اپنی پوری زندگی مجھ سے یہ پوچھنے میں گزار دی کہ کیا تم میرے لیے کافی ہو۔ اور میں اپنی پوری زندگی تمہیں یہ ثابت کرنے میں لگا رہا کہ تم ابھی کافی نہیں ہو۔ اب تم نہیں ہو، اور میرے پاس ثابت کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا۔‘‘
میں نے قلم رکھ دیا۔
کمرے میں خاموشی تھی۔
اور پہلی بار مجھے اس خاموشی سے خوف نہیں آیا۔
کیونکہ اب میں جانتا تھا کہ بعض کہانیاں ختم نہیں ہوتیں۔ وہ انسان کے اندر رہ جاتی ہیں، اُس کی آواز بدل دیتی ہیں، اُس کے رویّے بدل دیتی ہیں، اور کبھی کبھی اُسے وہ شخص بنا دیتی ہیں جو اُسے بہت پہلے بن جانا چاہیے تھا۔
مگر زندگی کا المیہ یہ ہے کہ بعض سبق سیکھنے کے بعد انسان اُن لوگوں کے پاس واپس نہیں جا سکتا جن کے لیے وہ سیکھے گئے تھے۔
حارث واپس نہیں آ سکتا تھا۔
میں اُسے گلے نہیں لگا سکتا تھا۔
اُس کے سر پر ہاتھ رکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ تم ناکام بھی ہو جاؤ تو میرے بیٹے رہو گے۔
میرے پاس صرف اُس کی قبر تھی، اُس کی ڈائری تھی، اور ایک ایسی زندگی تھی جس کے باقی دنوں میں مجھے دوسروں کو سننا تھا۔
شاید یہی میری معافی تھی۔
شاید یہی میری سزا بھی۔
اور اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ میں نے اپنے بیٹے کی موت سے کیا سیکھا، تو میں اسے کوئی بڑی بات نہیں بتاؤں گا۔ نہ زندگی کی ناپائیداری پر تقریر کروں گا، نہ تقدیر کے فیصلوں پر بحث۔
میں صرف اتنا کہوں گا:
جس شخص سے محبت کرتے ہو، اُسے اپنی محبت کا یقین دلانے کے لیے اُس کے مرنے کا انتظار مت کرنا۔
کیونکہ قبرستان میں بیٹھ کر کہے گئے سب سے سچے جملے بھی اُس شخص تک نہیں پہنچتے جسے زندگی میں صرف ایک بار سننے کی ضرورت تھی۔
اور بعض اوقات، انسان کی پوری زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا صرف تین لفظ ہوتے ہیں۔
وہ تین لفظ جو اُس نے کبھی کہے ہی نہیں۔
’’مجھے تم پر فخر ہے۔‘‘
افسانہ: فخر
انتخاب سخن