جس دن دادی فوت ہوئیں، اُس دن حرا کو پہلی بار احساس ہوا کہ بعض لوگوں کی قدر ہمیں اُن کے زندہ ہوتے ہوئے نہیں، اُن کے مر جانے کے بعد سمجھ آتی ہے—اور تب تک معافی مانگنے کے لیے بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
دادی زبیدہ کی میت گھر کے صحن میں رکھی تھی۔ سفید چادر کے نیچے اُن کا چہرہ چھپا ہوا تھا، مگر حرا کو یوں لگ رہا تھا جیسے ابھی چادر ہٹے گی، دادی اپنی مخصوص خفگی سے اُسے دیکھیں گی اور کہیں گی:
’’لو بھئی، اب آ گئی ہو؟ جب زندہ تھی تو فرصت ہی نہیں ملتی تھی تم لوگوں کو!‘‘
حرا کے ہاتھ میں دادی کی وہی پرانی تسبیح تھی جس کے دانے برسوں سے اُن کی انگلیوں کے لمس سے چمکنے لگے تھے۔ اُس نے تسبیح کو مٹھی میں بند کیا تو ایک دانہ ناخن کے نیچے چبھ گیا۔ درد معمولی تھا، مگر اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
اُسے یاد آیا، پچھلی عید پر دادی نے فون کیا تھا۔
’’حرا بیٹا، عید پر آؤ گی نا؟ تمہارے لیے سویاں بناؤں گی۔‘‘
’’دادی، دیکھیں گے۔ یونیورسٹی کے کام ہیں، پھر دوستوں کے ساتھ بھی پروگرام ہے۔‘‘
’’اچھا، تمہارے پروگرام ختم ہوں تو اپنی بوڑھی دادی کو بھی یاد کر لینا۔‘‘
دادی نے ہنس کر کہا تھا۔ حرا بھی ہنس دی تھی۔
اُس وقت اُسے کیا معلوم تھا کہ بعض جملے مذاق میں نہیں کہے جاتے، بس کہنے والا اپنی محرومی کو ہنسی میں چھپا لیتا ہے۔
حرا کی دادی اُن لوگوں میں سے تھیں جنہیں گھر کے سب افراد چاہتے تو تھے، مگر اپنے اپنے طریقے سے اُن سے بچتے بھی تھے۔
دادی کو ہر بات کی خبر چاہیے ہوتی۔ کس کے گھر رشتہ آیا، کس کی بہو میکے گئی، کس کا بیٹا امتحان میں فیل ہوا، محلے کی کس لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کر لی—اُن کے پاس ہر قصے کا ایک تبصرہ موجود ہوتا۔
حرا کو دادی کی یہ عادتیں سخت ناگوار گزرتی تھیں۔
وہ جب بھی اُن کے پاس بیٹھتی، دادی کبھی اُس کے لباس پر رائے دیتیں، کبھی بالوں پر، کبھی موبائل پر جھکے رہنے پر۔
’’یہ کیا ہر وقت اس ڈبے میں گھسی رہتی ہو؟ ہماری عمر میں لڑکیاں شام کو چھت پر بیٹھ کر ایک دوسرے سے باتیں کیا کرتی تھیں۔‘‘
حرا دل ہی دل میں جھنجھلا جاتی۔
’’دادی، اب زمانہ بدل گیا ہے۔‘‘
’’ہاں بیٹا، زمانہ تو بدل گیا ہے، بس بوڑھے لوگ نہیں بدلتے۔ وہ تو پرانے زمانے کی چیزوں کی طرح گھر کے کسی کونے میں پڑے رہتے ہیں۔‘‘
یہ کہتے ہوئے دادی کی آنکھوں میں جو سایہ سا اُتر آتا، حرا اُسے کبھی ٹھیک سے دیکھ نہ پائی۔ وہ سمجھتی تھی، یہ بھی دادی کی اُنھی جذباتی باتوں میں سے ایک ہے جن سے وہ دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتی ہیں۔
اُسے اپنی نانی بھی یاد تھیں۔ نانی کے ہاں جانا اُسے ہمیشہ اچھا لگتا تھا۔ نانی کے گھر میں اُس کے لیے نہ کوئی نصیحت تھی، نہ لباس پر تبصرہ، نہ وقت پر واپس آنے کی پابندی۔ وہاں بس محبت تھی، کھانے کی خوشبو تھی اور وہ بے فکری جس میں انسان خود کو ہر غلطی کے باوجود قبول شدہ محسوس کرتا ہے۔
نانی جب بیمار ہوئیں تو حرا کئی ہفتے اُن کے پاس رہی تھی۔ نانی کے ہاتھوں میں جان نہیں رہی تھی، مگر وہ حرا کے ماتھے پر ہاتھ پھیرنا نہیں بھولتی تھیں۔ اُن کی آنکھیں کمزور ہو گئی تھیں، مگر حرا کے قدموں کی آہٹ پہچان لیتی تھیں۔
دادی کے معاملے میں حرا نے ہمیشہ سوچا تھا کہ ابھی تو وقت ہے۔
نانی کے لیے اُس نے وقت نکالا تھا، دادی کے لیے وقت بچا کر رکھا تھا۔
فرق صرف اتنا تھا کہ نانی کی محبت اُسے آسان لگتی تھی، دادی کی محبت کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی آتی تھیں۔
اور انسان اکثر آسان محبت کو دل سے لگاتا ہے، مشکل محبت کو کل پر چھوڑ دیتا ہے۔
دادی کے انتقال کی خبر حرا کو یونیورسٹی میں ملی تھی۔ ابو کی آواز فون پر کانپ رہی تھی۔
’’حرا، فوراً گھر پہنچو۔ دادی نہیں رہیں۔‘‘
بس اتنا ہی کہا تھا انہوں نے۔
حرا نے پہلی بار اپنے باپ کو یوں خاموش ہوتے سنا تھا۔ وہی باپ جو معمولی چوٹ پر بھی اُسے حوصلہ دیتا، ہر مشکل میں مضبوطی سے کھڑا رہتا تھا۔ اُس دن فون بند ہونے کے بعد حرا کافی دیر تک اپنی جگہ بیٹھی رہی۔ اُس کے اردگرد لوگ آ جا رہے تھے، کوئی ہنس رہا تھا، کوئی کسی اسائنمنٹ کی بات کر رہا تھا، مگر اُسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے دنیا اچانک کسی ایسے کمرے میں چلی گئی ہو جہاں سے آوازیں تو آتی ہیں، معنی نہیں۔
گھر پہنچی تو ابو دادی کے سرہانے بیٹھے تھے۔ اُن کے ہاتھ میں دادی کا چشمہ تھا۔
’’یہ کل رات بھی مجھ سے کہہ رہی تھیں کہ حرا کو کہنا، کبھی آ کر بیٹھ جایا کرے۔ میں نے کہا، امی، آ جائے گی۔‘‘
ابو کی آواز ٹوٹ گئی۔
’’میں نے ہمیشہ یہی کہا کہ آ جائے گی۔‘‘
پھر وہ چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگے۔
حرا نے اپنے باپ کو بچپن سے دیکھا تھا۔ اُس نے اُنہیں غصے میں دیکھا تھا، پریشان دیکھا تھا، تھکا ہوا دیکھا تھا؛ مگر اس طرح روتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اُسے اُس لمحے سمجھ آیا کہ جس عورت کو وہ محض ایک بوڑھی، ضدی دادی سمجھتی رہی، وہ کسی کی ماں بھی تھی۔ کسی کی پوری دنیا کا وہ حصہ، جس کے ہٹ جانے سے آدمی اچانک اپنے اندر سے یتیم ہو جاتا ہے، چاہے اُس کے اپنے بچے اور پوتے پوتیاں موجود ہی کیوں نہ ہوں۔
دادی کو دفن کرنے کے بعد جب سب گھر لوٹے تو صحن میں خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔ خواتین باورچی خانے میں کھانے کا انتظام کر رہی تھیں۔ رشتہ دار دھیمی آواز میں باتیں کر رہے تھے۔ کوئی چائے بنا رہا تھا، کوئی برتن نکال رہا تھا۔ غم کے ایسے موقعوں پر بھی پاکستانی گھروں میں زندگی اپنے معمولی کاموں کے ساتھ چلتی رہتی ہے؛ کسی کے ہاتھ میں پانی کا گلاس ہوتا ہے، کسی کے ہاتھ میں چائے کی ٹرے، اور کسی کے دل میں ایک ایسی کمی جس کا ذکر کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔
حرا دادی کے کمرے میں چلی گئی۔
بستر کے سرہانے قرآنِ پاک رکھا تھا۔ کھڑکی کے پاس اُن کی عینک، تکیے کے نیچے تہہ کیا ہوا رومال اور الماری پر دوائیوں کی شیشیاں رکھی تھیں۔ کمرے میں دادی کی خوشبو ابھی باقی تھی—عرقِ گلاب، پرانے کپڑوں اور کسی مانوس سی چیز کی ملی جلی خوشبو۔
حرا نے الماری کھولی تو نیچے ایک چھوٹا سا ڈبہ رکھا تھا۔ اُس میں پرانی رسیدیں، چند تصویریں، ایک ٹوٹی ہوئی چوڑی اور کپڑے میں لپٹا ہوا لفافہ تھا۔
لفافے پر اُس کا نام لکھا تھا۔
’’میری حرا کے لیے۔‘‘
حرا کے ہاتھ کانپنے لگے۔
خط میں دادی کی لکھائی جگہ جگہ لرز گئی تھی۔
’’میری پیاری حرا،
تم جب چھوٹی تھیں تو میرے پیچھے پیچھے پھرتی تھیں۔ میں جہاں جاتی، تم بھی آ جاتیں۔ تمہیں یاد نہیں ہو گا، مگر تم میرے دوپٹے کا پلو پکڑ کر سویا کرتی تھیں۔ پھر تم بڑی ہو گئیں۔ یہ اچھی بات ہے، بیٹا۔ بچوں کو بڑا ہونا ہی چاہیے۔ بس کبھی کبھی دل یہ نہیں مانتا کہ جن بچوں کو گود میں کھلایا ہو، اُن سے ملنے کے لیے بھی وقت مانگنا پڑے۔
تمہیں میری باتیں بری لگتی ہیں، مجھے معلوم ہے۔ میں کبھی کبھی زیادہ بول جاتی ہوں۔ عمر کے ساتھ انسان کے پاس کہنے کو بہت کچھ رہ جاتا ہے اور سننے والے کم ہوتے جاتے ہیں۔ پھر وہ ہر بات کہہ دیتا ہے، چاہے کسی کو اچھی لگے یا بری۔
میں تمہیں روکنا نہیں چاہتی۔ تم پڑھو، آگے بڑھو، اپنی زندگی بناؤ۔ بس کبھی میرے پاس بیٹھ کر اپنے دن کی باتیں بھی کر لیا کرو۔ تمہارے قصے سن کر مجھے لگتا ہے کہ میں ابھی بھی اس دنیا کا حصہ ہوں۔
اور ہاں، تم جب آتی ہو نا، تو میں تمہارے لیے سویاں اس لیے نہیں بناتی کہ تمہیں بہت پسند ہیں۔ میں اس لیے بناتی ہوں کہ تمہارے آنے کی خوشی میں میرے ہاتھ خالی نہیں رہتے۔
اللہ تمہیں خوش رکھے۔
تمہاری دادی۔‘‘
خط ختم ہو گیا تھا، مگر حرا کی آنکھوں کے سامنے الفاظ دھندلا رہے تھے۔
اُس نے خط سینے سے لگا لیا۔
اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ دادی کی شکایتیں دراصل اُن کے اندر بچی ہوئی زندگی کی آواز تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ کوئی اُن کی بات کا جواب دے، اُن سے اختلاف کرے، اُن کے ساتھ بیٹھے، اُن پر ہنسے بھی، مگر اُنہیں نظرانداز نہ کرے۔ اُن کی ضد کے پیچھے شاید یہ خوف تھا کہ ایک دن گھر میں سب موجود ہوں گے، مگر اُن کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں ہو گا۔
حرا کو دادی کی وہ تمام باتیں یاد آنے لگیں جن پر وہ آنکھیں گھماتی تھی۔ وہ بار بار فون، وہ غیر ضروری سوال، وہ ہر ملاقات پر لمبی نصیحتیں۔ وہ سب باتیں جن سے بچنے کے لیے وہ جلدی میں رخصت ہو جاتی تھی۔
اُس نے سوچا، کاش ایک بار پھر دادی اُس سے پوچھیں کہ یونیورسٹی میں کیا ہوا۔ کاش وہ پھر اُس کے کپڑوں پر اعتراض کریں۔ کاش وہ پھر کہیں کہ موبائل ایک طرف رکھو اور میرے پاس بیٹھو۔
وہ اُن کی ہر بات سن لے گی۔
اُن سے بحث بھی کر لے گی۔
بس ایک بار۔
مگر موت انسان کو آخری موقع نہیں دیتی۔ وہ بس دروازہ بند کرتی ہے اور پیچھے رہ جانے والوں کے ہاتھ میں یادوں کی ایک بھاری چابی تھما دیتی ہے۔
رات گئے گھر میں رشتہ داروں کی آوازیں دھیمی پڑ گئیں۔ حرا دادی کے کمرے میں بیٹھی رہی۔ ابو اندر آئے تو اُس نے خط اُن کی طرف بڑھا دیا۔
ابو نے پڑھا تو اُن کی آنکھیں پھر بھر آئیں۔
’’تمہاری دادی کو تم سے بہت محبت تھی،‘‘ انہوں نے کہا، ’’بس اُنہیں محبت جتانے کا سلیقہ نہیں آتا تھا۔‘‘
حرا نے دھیرے سے پوچھا، ’’ابو، آپ کو کیسے پتا چلتا تھا کہ دادی آپ سے محبت کرتی ہیں؟ وہ تو آپ کو بھی ہر وقت ڈانٹتی تھیں۔‘‘
ابو کے لبوں پر ایک اداس سی مسکراہٹ آ گئی۔
’’میں جب نوکری کے سلسلے میں پہلی بار دوسرے شہر گیا تھا تو مہینوں بعد گھر آیا۔ تمہاری دادی نے مجھے دیکھتے ہی کہا، اتنے دن کہاں مرے ہوئے تھے؟ پھر میرے لیے کھانا گرم کیا، میرے کپڑے دھوئے، اور جب میں سو گیا تو ساری رات میرے سرہانے بیٹھی رہیں۔ صبح پوچھا تو کہنے لگیں، نیند نہیں آ رہی تھی۔‘‘
وہ کچھ دیر خاموش رہے۔
’’ماں باپ اکثر محبت کا نام نہیں لیتے، بیٹا۔ وہ بس ہمارے لیے اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے حصے قربان کرتے رہتے ہیں۔ اور ہم اُن قربانیوں کو معمول سمجھنے لگتے ہیں۔‘‘
حرا نے سر جھکا لیا۔
اُسے لگا، اُس نے دادی کو کھویا نہیں تھا؛ اُس نے اُن کے ساتھ گزارے جا سکنے والے بے شمار دن کھو دیے تھے۔ وہ دن جو کسی بڑی تقریب کے محتاج نہیں تھے۔ بس ایک فون، ایک ملاقات، ایک کپ چائے، ایک بے مقصد سی گفتگو۔ محبت ہمیشہ بڑے وعدوں میں نہیں رہتی۔ کبھی وہ کسی کے لیے سویاں پکانے میں ہوتی ہے، کبھی دروازے کی طرف بار بار دیکھنے میں، کبھی ایک ایسے سوال میں جس کا جواب دینے کے لیے ہمارے پاس ہمیشہ وقت ہوتا ہے—ہم سمجھتے ہیں۔
اگلی صبح حرا نے دادی کی تسبیح اپنے بیگ میں رکھ لی۔ پھر وہ باورچی خانے میں گئی اور امی سے پوچھا:
’’امی، دادی سویاں کیسے بناتی تھیں؟‘‘
امی نے چونک کر اُسے دیکھا۔
’’کیوں؟‘‘
’’مجھے سیکھنی ہیں۔‘‘
امی نے کچھ کہنا چاہا، مگر پھر خاموشی سے پتیلی نکال دی۔
حرا نے دودھ چولہے پر رکھا، سویاں توڑیں اور چمچ ہلانے لگی۔ مقدار کا اسے اندازہ نہیں تھا۔ چینی کبھی زیادہ ہو جاتی، کبھی کم۔ امی اسے سمجھاتی رہیں اور وہ ہر بار ہنسنے کی کوشش کرتی رہی، یہاں تک کہ دودھ میں اُبال آیا اور پتیلی کناروں سے بھرنے لگی۔
اُس نے جلدی سے چولہا بند کیا۔
پھر اچانک اُس کے دل میں ایک خیال آیا۔
دادی کی زندگی میں کتنی بار ایسا ہوا ہو گا کہ اُن کے دل میں محبت کا اُبال آیا ہو اور ہم نے اسے محض اُن کی عادت سمجھ کر نظرانداز کر دیا ہو۔
وہ چولہے کے پاس کھڑی روتی رہی۔
اُس دن حرا نے پہلی بار سمجھا کہ کسی اپنے سے محبت کرنا صرف اُس کی خوبیوں کو پسند کرنا نہیں ہوتا؛ اُس کی کمزوریوں، تکرار، ضد اور بے وقت کی باتوں کے لیے بھی دل میں جگہ رکھنا ہوتا ہے۔ کیونکہ جب انسان چلا جاتا ہے تو اُس کی خامیاں بھی یاد آنے لگتی ہیں—اور پھر اُنہی خامیوں کی واپسی کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں۔
کچھ ہفتے گزر گئے۔ زندگی آہستہ آہستہ اپنی رفتار پر لوٹنے لگی۔ یونیورسٹی، اسائنمنٹس، دوستوں کے پیغامات، روزمرہ کی بھاگ دوڑ۔ مگر حرا کے اندر کچھ بدل گیا تھا۔ اب جب ابو دیر سے گھر آتے تو وہ اُن کے ساتھ بیٹھ کر چائے پیتی۔ جب امی کوئی پرانی بات دہراتیں تو وہ موبائل ایک طرف رکھ دیتی۔ اور جب نانی کا فون آتا تو وہ جلدی میں گفتگو ختم کرنے کے بجائے پوچھتی، ’’نانی، پھر کیا ہوا تھا؟ مجھے پوری بات سنائیں۔‘‘
ایک دن نانی نے ہنستے ہوئے کہا، ’’آج بڑی فرصت ہے تمہیں!‘‘
حرا کی آنکھیں بھیگ گئیں، مگر اُس نے آواز سنبھال کر جواب دیا:
’’نانی، اب میں فرصت نہیں ڈھونڈتی۔ وقت نکالتی ہوں۔‘‘
فون بند کرنے کے بعد وہ دیر تک دادی کی تسبیح انگلیوں میں پھیرتی رہی۔
اُسے اب بھی دادی کی یاد آتی تھی۔ بعض راتوں میں وہ خط نکال کر پڑھتی، بعض دنوں میں سویاں بناتے ہوئے اُن کی آواز سنائی دیتی۔ غم ختم نہیں ہوا تھا؛ بس اُس نے غم کے ساتھ جینا سیکھنا شروع کر دیا تھا۔
اور شاید دادی کی سب سے بڑی میراث وہ تسبیح، وہ خط یا سویاں بنانے کا طریقہ نہیں تھا۔
وہ یہ احساس تھا کہ محبت کرنے والوں کو ہمیشہ بڑے تحفے نہیں چاہییں۔ کبھی کبھی انہیں صرف اتنا چاہیے ہوتا ہے کہ جب وہ پکاریں تو کوئی جواب دے دے۔
کیونکہ قبرستان میں جا کر ہم اپنے پیاروں کے لیے جتنے آنسو بہا لیں، وہ اُن کی زندگی میں دیا جانے والا ایک گھنٹہ واپس نہیں لا سکتے۔
اور حرا کو اب سمجھ آیا تھا کہ بعض لوگ مرنے کے بعد ہماری زندگی سے نہیں جاتے—وہ ہماری ہر اُس مصروفیت میں زندہ ہو جاتے ہیں جسے ہم نے کبھی اُن کے لیے چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔
افسانہ: دادی