تم بھلائے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔محمو
تم بھلائے گئے۔۔۔
یوں بھلائے گئے جیسے تھے ہی نہیں
تم بھلائے گئے
جیسے(کھنڈرات میں) پنچھیوں کی قضا
یا کنیسے کی خاموش،گم سم فضا
راہ چلتی محبت(پراگندہ خواب)
رات کے (ہاتھ میں جیسے)کالے گلاب
تم بھلائے گئے
نجمہ ثاقب
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3835657999998038

Comments
One response to “تم بھلائے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔محمود درویش تم بھلائے گئے۔۔۔ یوں بھلائے گئے جیسے تھے ہی ن…”
واہ کیا شاندار ترجمہ ہے