تحقیقات بتاتی ہیں کہ آج دُنیا کے نقشے پر "صحارا" کے نام سے دکھائی دینے والا عظیم صحرا، سینکڑوں سال قبل اپنے سینے پر مختلف انواع کی زندگی سجائے رکھتا تھا، یہاں درختوں کی لمبی قطاریں موجود تھیں۔ اِن درختوں میں سے ایک "وہ" بھی تھا، اُس نے جب آنکھیں کھولیں تو اس نے آس پاس اپنے جیسے کئی درختوں کو کھڑا پایا لیکن پھر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نے اِس خطے کو اپنی لپیٹ میں لے کربرباد کردیا۔آج یہاں دنیا کا سب سے بڑا اور خوفناک صحرا آباد ہے، جہاں بھٹک جانے کا انجام موت ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث جب یہاں سے جانداروں کو صفایا ہورہا تھا تو اس دوران ایک ایک کرکے تمام درخت سُوکھتے چلے گئے۔ آخر کار "وہ" اکیلا رہ گیا، یہ طنیرے کا درخت تھا جسے علم نہیں تھا کہ کیسے اُس نے اب اِس بے رحم صحرا کے بیچوں بیچ سینکڑوں سال تک تن تنہا کھڑا ہوکر ہر طرح کے مصائب کا سامنا کرنا ہے!
اِس درخت کے آس پاس کے 400 کلومیٹر تک کے علاقے میں کوئی دوسرا درخت نہ بچا تھا، اس امر کا اندازہ ایسے لگا سکتے ہیں کہ آپ اسلام آباد سے ملتان کی جانب سفر کو نکلیں اور اس پورے سفر میں ہر طرف صحرا ہو اور صرف لاہور میں آپ کو ایک درخت کھڑا دکھائی دے۔ صحارا کا سفر کرنے والوں کے بقول یہ صحرا اتنا ہولناک ہے کہ یہاں آپ کو دورانِ سفر کئی دنوں تک کوئی درخت تو دُور کوئی پرندہ بھی دکھائی نہیں دے گا۔ جہاں کی وحشت کا یہ عالم ہے، وہاں کیکر کا یہ سخت جان درخت کئی صدیوں تک موت کی وادی میں زندگی کی جنگ لڑتا رہا، یہاں سے گزرنے والوں کے لئے یہ زندگی کی امید تھا۔ اِسی خاطر یہاں سے گزرنے والے کسی قافلے نے کبھی اس کی لکڑیوں کو توڑ کر جلانے کےلئے استعمال نہ کیا، اور نہ ہی کسی جانور یا اونٹ نے اس کی لکڑیوں کو بطور خوراک استعمال کرنےکی جسارت کی۔ یہ اِن سب کےلئے راحت کا باعث تھا، سینکڑوں کلومیٹر سفر کرکے آنے والوں کے لئے شیلٹر کا کام کررہا تھا۔
دُنیا نے جدت کی جانب قدم بڑھایا تو علاقے کی نقشہ کشی کرتے ہوئے اس درخت کو سنگ میل کی حیثیت حاصل ہوئی،اسے بینچ مارک کی حیثیت دیتے ہوئے دُور دراز مقامات کو ملانے والی سڑک کو اس کے قریب سے گزارا گیا، بعدازاں اس کے قریب کنویں کی کھُدائی کے باعث یہ مقام مزید اہمیت اختیار کرگیا۔قافلے جب بھی گزرتے تو اس کے قریب پڑاؤ ڈالتے ، پانی پیتے،کچھ دیر اس کی چھاؤں میں سستاتے اور اسے حسرت سے تکتے رہتے۔مِشل لیسورڈ جنہوں نے 1939 میں اس درخت کو دیکھا، وہ لکھتے ہیں: "جب تک اس درخت کو آپ خود دیکھ نہ لیں، آپ یقین نہیں کر سکیں گے کہ یہ کیسا نظارہ ہے۔ اس کا راز کیا ہے؟ یہ کیسے کھڑا ہے؟ یہاں سے اونٹوں کے قافلے گزرتے ہیں۔ بھٹکے ہوئے اونٹ اس کے کانٹے اور پتے کیوں نہیں کھا چکے؟ قافلے اس کی شاخیں کاٹ کر اس کو چائے بنانے کے لئے کیوں استعمال نہیں کرتے؟ اس لئے کہ اس کی عزت کی جاتی ہے۔ یہ زندہ روشنی کا مینار ہے۔"
وقت کا پہیہ چلتا رہا، اونٹوں کی جگہ گاڑیوں نے لے لی۔ ایک دن صحرا میں آوارہ بھٹکتا کوئی ٹرک اِس درخت سے آٹکرایا، لیکن یہ سخت جان تھا، عظیم صحرا کے بیچوں بیچ تنہا کھڑے اس درخت نے یہ درد خاموشی سے سہہ لیا، کسی سے کوئی گلہ نہ کیا، اس حادثے میں اسکا آدھا حصہ ٹوٹ کر الگ ہوگیا۔ کتنا بڑا المیہ ہے کہ مشینی زندگی کے وائرس نے انسانی آبادی سے سینکڑوں کلومیٹر دُور اس درخت کو بھی نہ چھوڑا۔ انسانی مشینری نے اِتنے کھلے علاقے میں اِسی درخت کو چُن کر نشانہ بنایا گیا۔ اس ٹکر کے باوجود طنیرے کے اس درخت نے دوبارہ اٹھنے کی ہمت کی، زخموں کو مرہم کیا ۔ یہ زندگی کی جنگ لڑتا رہا، انسانوں کو سایہ فراہم کرتا رہا۔ لیکن پھر 1973ء میں لیبیا سے تعلق رکھنے والے ایک ڈرائیور نے نشے میں دُھت ہوکر ٹرک اس درخت پر دے مارا ، اب کی بار یہ صدمہ سہہ نہ سکا اور جڑ سے اُکھڑ گیا! سینکڑوں سال تک مصائب کا سامنا کرنے والا درخت انسانی مشینی زندگی کے سامنے ہار گیا!
نائیجیریا کی حکومت نے اس کے باقی ماندہ تنے کو اٹھا کر عجائب گھر میں رکھ دیا، جہاں آج بھی یہ ہمارے لئے حوصلے کی لازوال داستان کے طور پر پڑا ہے۔ جس مقام پر یہ موجود تھا، نائیجرین حکومت نے اب وہاں لوہے کا ایک کھمبا نصب کیا ہوا ہے۔مگر دھات بھلا کہاں وہ راحت دے سکتی ہے جو یہ سینکڑوں سال تک انسانوں میں بانٹتا رہا۔ قدرت کی خوبصورت نشانی کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے تباہ کردیا۔
محمد شاہ زیب صدیقی
دُنیا کے تنہا ترین درخت کی داستان ِ غم کے متعلق اُردو ڈاکومنٹری "دشت تنہائی" دیکھنے کےلئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجئے:
https://youtu.be/-IjixhTp0d4
بشکریہ: وکی پیڈیا، سر وہارہ امباکر، سر ندیم رزاق کھوہارا۔
زیب نامہ
#زیب_نامہ
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2822952267935288

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔