تاریخ زماں A brief history of time قسط 1 ایک معر…

تاریخ زماں A brief history of time قسط 1

ایک معروف سائنسدان (شائد برٹرینڈ رسل ) ایک دفعہ فلکیات پہ ایک لیکچر دے رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے زمین سورج کے گرد گھومتی ہے اور اسکے مقابلے میں سورج، ستاروں کے ایک وسیع جھڑمٹ جسے ہم کہکشاں کہتے ہیں اسکے مرکز کے گرد کیسے گھومتا ہے۔

اس لیکچر کے اختتام پہ ایک بوڑھی عمر کی عورت کھڑی ہو کر بولیں کہ “جو کچھ تم نے ہمیں بتایا ہے وہ سب کچھ بکواس سے بڑھ کر کچھ نہیں، دنیا بالکل چپٹی پلیٹ ہے اور اس پلیٹ کو ایک بہت بڑے کچھوے نے اٹھا رکھا ہے” اس پر وہ سائنسدان مسکرایا اور بولا، “پھر کچھوا کس پر کھڑا ہے؟” “تم بہت ہوشیار ہو لڑکے،بہت ہی ہوشیار!” بُڑھیا نے جواب دیا “لیکن یہ نیچے تک کچھووؤں کی ہی تہہ ہے۔”

بہت سے لوگ اس لامحدود کچھوؤں کے ٹاور والے تصور کو کافی عجیب سمجھیں گے لیکن ہم کس بنیاد پہ یہ سوچتے ہیں کہ اب ہم ماضی سے بہتر جانتے ہیں؟ ہم اس کائنات کے بارے میں کیا جانتے ہیں اور یہ سب ہم کیسے جانتے ہیں؟یہ کائنات کیسے وجود میں آئی اور اسکا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا یہ ایک دن فنا ہو جائے گی؟ کیا ہم ماضی میں واپس جا سکتے ہیں؟ جدید فزکس انقلابی تکنیکوں کی مدد سے ان میں سے کچھ سوالوں کا جواب دینے کے قابل ہو چکی ہے۔ ایک دن یہ سب جواب ہمارے لئے اظہر من الشمس ہونگے بالکل ویسے ہی جیسے سورج کے گرد زمین گھومتی ہے یا اتنے ہی عجیب و غریب جتنا کچھوؤں والا تصور تھا۔ اور اس سب کا تعین وقت ہی کرے گا۔

اسٹیفن ہاکنگ کی شہرہ آفاق کتاب A brief history of time کا اردو ترجمہ حیرت کدہ پہ قسط وار روزانہ شائع کیا جائے گا!

ہزاروں سال پہلے 340 قبل مسیح کی بات ہے جب ارسطو اپنی کتاب”On the heavens” میں زمین کے گول سفئیر (کرہ) ہونے کے بارے میں یہ دو مضبوط دلائل دینے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اس نے مشاہدہ کیا کہ چاند گرہن کی وجہ دراصل زمین ہے جوکہ سورج اور اسکے بیچ آجاتی ہے۔ اور زمین کا سایہ ہمیشہ چاند پر گول ہی رہا ہے۔اور یہ بات تب ہی درست ہو سکتی ہے جب زمین ایک کروی شکل رکھتی ہوگی۔ اگر زمین ایک فلیٹ ڈسک کی طرح ہوتی تو اسکا چاند پہ پڑنے والا سایہ ہمیشہ ہی لمبوترا ہوتا ،اور گرہن تب تک نا ہوتا جب تک سورج اس ڈسک کے مرکز کے نیچےنہ آجایا کرتا ۔ دوسری بات یہ کہ یونانی اپنے سفر کے طویل تجربوں کے نتیجے میں یہ بات جان چکے تھے کہ قطبی ستارہ شمال میں قطب جنوبی کے مقابلے میں ہمیشہ نیچے ہی دکھائی دیتا تھا۔(چونکہ قطبی ستارہ قطب جنوبی میں ہی پایا جاتا ہے اس لئے جنوبی قطب میں یہ ہمیشہ مشاہدہ کرنے والے شخص کے سر کے عین اوپر ہوگا جبکہ وہیں زمین کے مرکز سے دیکھنے والے شخص کو یہ ستارہ افق میں نظر آئے گا۔) مصر اور یونان میں اس قبطی ستارے کی جگہ میں اس فرق کی وجہ سے ارسطو نے زمین کے اس قطعے کا فاصلہ کا بھی اندازہ لگا لیا تھا جو کہ اس نے اپنی کتاب میں چار لاکھ stadiaبتایا۔ ہمیں نہیں علم کے پیمائش کے اس پیمانے جس کا نام سٹیڈم stadiumہے اس کی اصل پیمائش کیا ہے مگر یہ دو سو yard تک آ سکتی ہے اس کیمطابق ارسطو کی بتائی گئی پیمائش آج کی پیمائش سے بس دو گنا زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ یونانی ایک تیسری دلیل بھی پیش کرتے تھے کہ زمین اس لئے گول ہے کیونکہ ہم کسی بھی کشتی کے بادبان سب سے پہلے دیکھتے ہیں اور اسکا ڈھانچہ بعد میں دیکھتے ہیں۔

ارسطو کے مطابق زمین ساکت ہے اور سورج، چاند سیارے اور ستارے اسکے گرد گردش میں ہیں۔ ارسطو نے تصور صوفیانہ خیالات کے باعث دیا کہ زمین اس کائنات کا مرکز ہے اور مرکز کے گرد ہر چیز کا گردش کرنا ہی بہترین ہوگا۔ اسکے خیال کو بطلیموس نے دوسری صدی عیسوی میں ایک مکمل کائناتی ماڈل بنا کر پیش کیا جس میں زمین ایک مرکز کے طور پہ درمیان میں تھی اور اسکے گرد سورج، چاند ،ستارے اور اس وقت کے پانچ آشنا سیارے عطارد زہرہ،مریخ ،مشتری اور زحل تھے۔

آسمان پہ دیکھے جانے والے پیچیدہ راستوں کے مقابلے میں اس ماڈل میں بیان کئے گئے یہ سیارے اپنے اپنے متعلقہ کرُوں میں چھوٹے چھوٹے دائروں کے اندر گھوم رہے تھے۔ سب سے آخر دائرہ فکسڈ سیاروں پہ مشتمل تھا جوکہ زمین کے گرد ایک ساتھ اپنی جگہ پہ جم کر گردش کرتے ہیں ۔ اس دائرے کے پار کیا تھا اس بات کو کبھی بھی نہیں بتایا گیا تھا لیکن کہا جا سکتا ہے کہ یہ کائنات میں موجود حصہ انسان کے کام کا نہیں تھا۔
????
بطلیموس کے اس ماڈل نے ہمیں آسمان پہ موجود سیاروں اور ستاروں کی جگہ اور اس متوقع نظام کے بارے میں بہت اچھا تصور دیا۔ لیکن ان کی جگہوں کا ٹھیک سے تعین کرنے کے لئے بطلیموس نے یہ مفروضہ دیا کہ چاند ایک ایسے راستے پہ چلتا ہے جو کہ اسے دوسرے فلکی اجسام کے مقابلے میں اکثر اوقات زمین کے بالکل نزدیک لے آتا ہے۔ اور اسی وجہ سے اکثر اوقات چاند باقی کے فلکی اجسام سے بڑا دکھائی دیتا ہے۔ بطلیموس اپنے ماڈل میں موجود اس عیب کو تسلیم کرتا تھا مگر اسکے باوجود اسکے ماڈل کو زیادہ تر جگہوں پہ مان لیا گیا۔ اس کو چرچ نے تسلیم کیا جہاں صحائف میں بتائی گئی کائناتی تصویر کو اسی ماڈل کے مطابق بیان کیا گیا اور اس میں ایک اور بات بچ جاتی تھی کہ وہ جگہ جو فکسڈ ستاروں کے بعد آتی تھی چرچ نے اس میں اپنی جنت اور دوزخ کے لئے جگہ ڈھونڈ لی۔
جاری ہے۔۔۔!
قسط دوئم کا لنک (یہاں کل پوسٹ کی جائے گی)
https://hairatkadah.com/archives/2066
Zaigham Qadeer


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2962268480670332