💥 بینچ پر بیٹھے اسے اچانک مہرین یاد آ گئی۔ اور اسکا جملہ: ہر لڑائی محبت سے نہیں جیتی جا سکتی، حارث 🥹💔
کچھ لوگ ہماری زندگی سے رخصت ہوتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے وہ اپنے ساتھ ہمارا کوئی حصہ بھی لے گئے ہوں۔ حالانکہ وہ صرف ایک اسٹیشن پر اترے ہوتے ہیں، سفر ابھی باقی ہوتا ہے۔
اس روز ریلوے اسٹیشن پر غیر معمولی رش تھا۔ لوگ اپنے اپنے سامان کے ساتھ بھاگ رہے تھے۔ کوئی کسی کو رخصت کرنے آیا تھا، کوئی کسی کے انتظار میں بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا۔
بینچ پر بیٹھے حارث نے سامنے کھڑی ٹرین کو دیکھا تو اسے اچانک مہرین یاد آ گئی۔
سات برس پہلے اسی اسٹیشن پر وہ دونوں ساتھ بیٹھے تھے۔ مہرین نے ٹرین کے ڈبوں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تھا، ’’تمہیں کبھی حیرت ہوتی ہے کہ اتنے سارے لوگ ایک ہی ٹرین میں سفر کرتے ہیں، مگر سب کی منزل الگ ہوتی ہے؟‘‘
حارث ہنس دیا تھا۔ ’’جن کی منزل ایک ہو، وہ ساتھ سفر کرتے ہیں۔‘‘
مہرین نے اس کی طرف دیکھا تھا، مگر کچھ کہا نہیں تھا۔
تب حارث کو کہاں معلوم تھا کہ ایک دن یہی جملہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا مغالطہ بن جائے گا۔
مہرین اس کی زندگی میں تب آئی تھی جب وہ اپنے والد کی وفات کے بعد ٹوٹا ہوا تھا۔ وہ اس کی خاموشی سمجھتی، اس کے ادھورے جملے مکمل کرتی اور معمولی سی بات پر اسے ہنسا دیتی تھی۔ حارث کو پہلی بار محسوس ہوا تھا کہ کسی کے ساتھ ہونا شاید اسی کا نام ہے کہ آپ کو ہر وقت اپنی موجودگی ثابت نہ کرنی پڑے۔
وہ دونوں مستقبل کے خواب دیکھتے تھے۔ چھوٹے سے گھر، کتابوں کی الماری، سردیوں کی دھوپ اور شام کی چائے کے خواب۔
پھر ایک دن مہرین نے بتایا کہ اس کے گھر والے اس کی شادی طے کر رہے ہیں۔
’’تم منع نہیں کر سکتیں؟‘‘ حارث نے پوچھا تھا۔
’’کوشش کی ہے۔‘‘
’’پھر؟‘‘
مہرین نے نظریں جھکا لی تھیں۔ ’’ہر لڑائی محبت سے نہیں جیتی جا سکتی، حارث۔‘‘
وہ اسے روکنا چاہتا تھا، مگر اس کے پاس وعدوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ مہرین کے پاس بھی چاہت تھی، مگر اپنے فیصلے کرنے کی آزادی نہیں۔
چند ہفتوں بعد وہ رخصت ہو گئی۔
حارث نے کئی مہینے اس کے پیغامات کا انتظار کیا۔ پھر انتظار عادت بن گیا، اور عادت آہستہ آہستہ زندگی کے معمولات میں دفن ہو گئی۔ اس نے نوکری بدلی، شہر بدلا، نئے لوگوں سے ملا، مگر کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جو دل کے کسی کونے میں کرائے کے بغیر رہتی ہیں۔
اس دن اسٹیشن پر بیٹھے بیٹھے اس نے اپنے اردگرد لوگوں کو دیکھا۔
ایک بوڑھا شخص اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر اسے ڈبے میں چڑھا رہا تھا۔ ایک چھوٹا بچہ کھڑکی سے اپنے باپ کو ہاتھ ہلا رہا تھا۔ دو نوجوان دوست گلے مل رہے تھے اور بار بار کہہ رہے تھے کہ رابطہ رہے گا۔
حارث مسکرا دیا۔
اسے پہلی بار سمجھ آیا کہ زندگی واقعی ٹرین کے سفر جیسی ہے۔ کچھ لوگ ابتدا ہی سے ہمارے ساتھ ہوتے ہیں، کچھ درمیان میں ملتے ہیں، کچھ چند اسٹیشنوں بعد اتر جاتے ہیں۔ اور بعض ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ ہم پوری زندگی کا تصور باندھ لیتے ہیں، مگر انہیں ہماری منزل تک آنا ہی نہیں ہوتا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سفر جھوٹا تھا۔
مہرین کے ساتھ گزارے ہوئے دن بھی سچے تھے۔ اس کی ہنسی، اس کی باتیں، اس کا خیال رکھنا، سب سچ تھا۔ صرف ہمیشہ ساتھ رہنے کا تصور سچ نہیں نکلا تھا۔
اچانک اس کے فون پر پیغام آیا۔
اس کی چھوٹی بہن کا پیغام تھا:
’’بھائی، امی پوچھ رہی ہیں تم کب آؤ گے؟ تمہارے لیے کھانا کیا بنائیں؟۔‘‘
حارث نے پیغام پڑھا اور کچھ دیر اسکرین کو دیکھتا رہا۔ پھر اس نے فون جیب میں رکھا اور گھر جانے والی ٹرین کے بجائے اپنی منزل کی طرف جانے والی گاڑی میں سوار ہو گیا۔
اسے یاد آیا کہ پچھلے کئی مہینوں سے وہ ماں کے فون مختصر کر دیتا تھا۔ وہ ہر بار کہتی تھیں، ’’بیٹا، کبھی فرصت سے بیٹھ کر بات بھی کر لیا کرو۔‘‘ اور وہ ہر بار جواب دیتا تھا، ’’امی، پھر سہی۔‘‘
وہ ہمیشہ سمجھتا رہا کہ زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہیں نہیں جاتے۔ وہیں رہتے ہیں، ہمارا انتظار کرتے ہیں، ہماری واپسی کے لیے دروازہ کھلا رکھتے ہیں۔
مگر آج اسے احساس ہوا کہ انسان دوسروں کے جانے کا دکھ مناتے مناتے، ان لوگوں کی موجودگی کو بھول جاتا ہے جو اب بھی اس کے ساتھ ہیں۔
ٹرین چل پڑی۔
حارث نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ پلیٹ فارم پیچھے ہٹ رہا تھا، لوگ چھوٹے ہوتے جا رہے تھے، اور چند لمحوں بعد اسٹیشن نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
اس نے فون نکالا اور ماں کو کال کر دی۔
’’امی، کھانا کھا لیا؟‘‘
دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی، پھر ماں کی آواز آئی، ’’نہیں بیٹا، تمہارا انتظار کر رہی تھی۔‘‘
حارث نے آنکھیں بند کر لیں۔
اسے پہلی بار کسی کے بچھڑنے کا نہیں، کسی کے موجود ہوتے ہوئے بھی اسے وقت نہ دینے کا دکھ محسوس ہوا۔
اور اس روز اس نے اپنے دل میں ایک بات بٹھا لی: ہر اتر جانے والے کے پیچھے بھاگنا ضروری نہیں، کبھی کبھی اپنے ساتھ سفر کرنے والوں کی طرف دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
کیونکہ زندگی کی سب سے بڑی محرومی ہمیشہ یہ نہیں ہوتی کہ کوئی ہمیں چھوڑ گیا۔
کبھی کبھی اصل محرومی یہ ہوتی ہے کہ جو ہمارے ساتھ موجود تھے، ہم ان کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی کہیں اور جانے کی تیاری کرتے رہے۔
ٹرین اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی۔
حارث نے ماں سے کہا، ’’امی، میں کل آ رہا ہوں۔ اس بار جلدی واپس نہیں جاؤں گا۔‘‘
ماں ہنس پڑیں۔ ’’اچھا، اب یہ بھی بتا دو کہ کھانا کیا پکاؤں؟‘‘
حارث بھی ہنس دیا۔
کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جنہیں نبھانے کے لیے بڑے وعدوں کی نہیں، بس وقت پر کی گئی ایک فون کال کی ضرورت ہوتی ہے۔
اور کچھ اسٹیشن ایسے ہوتے ہیں جہاں پہنچ کر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم کس کو کھوتے رہے، اور کس کو نظر انداز کرتے رہے۔
اب سوال یہ ہے: آپ کی زندگی میں وہ کون سا شخص ہے جس کے چلے جانے کا دکھ آج بھی باقی ہے، اور وہ کون ہے جو اب بھی آپ کے ساتھ ہے مگر آپ اسے وقت دینا بھول گئے ہیں؟