بہار کی زبان
نوبل انعام یافتہ جرمن شاعر اور ادیب ہیرمان ہَیسے کی ایک نظم
(Sprache des Frühlings / Hermann Hesse)
ہر بچہ جانتا ہے، بہار کہتی کیا ہے:
جیو، پھولو پھلو، پرامید رہو، محبت کرو
خوش رہو، نئے جذبوں کی پیروی کرو
مزاحمت چھوڑ دو اور زندگی سے ڈرو مت
ہر بوڑھا جانتا ہے، بہار کہتی کیا ہے:
اے بوڑھے، اب خود کو دفن ہونے بھی دو
چھوڑو اپنی جگہ، چاک و چوبند لڑکوں کے لیے
مزاحمت چھوڑ دو اور مرنے سے ڈرو مت
(جرمن سے اردو ترجمہ: مقبول ملک
نوٹ: ہیرمان ہَیسے نے انیس سو اڑتالیس میں ایسٹر کے دنوں میں اپنے کم عمر دوست اور سوئس ادیب کارل کلوٹر کے نام ایک خط میں بہار، بڑھاپے، زندگی اور موت کے بارے میں اپنی رائے اس طرح لکھی تھی:
’’بہار کا موسم بوڑھے لوگوں کے لیے اکثر کوئی آرام دہ عرصہ نہیں ہوتا۔ جیسے بہت تیز ہوا میں درخت جھومنے لگتے ہیں، تو ہوا ہر پرانے پیڑ کی ایک ایک ٹہنی کو تھپیڑے مارتی یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتی ہے کہ کیا وہ اسے توڑ نہیں سکتی؟ اسی طرح بہار کا موسم بھی بوڑھے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے، یہ اندازہ لگانے کی کوشش میں کہ آیا جلد ہی وہ بھی کافی حد تک بوسیدہ ہو چکے ہوں گے۔ اس کے باوجود بہار خوبصورت ہوتی ہے۔‘‘)
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2751888248375024

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔