بچپن میں ہمیں اپنے والدین کی باتیں سخت، بے جا اور پرانی سوچ لگتی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ وہ ہمیں سمجھتے نہیں، ہماری آزادی چھین رہے ہیں، یا ہر خوشی پر پابندی لگا رہے ہیں۔ ہم ان کی نصیحتوں کو ڈانٹ سمجھتے ہیں اور ان کے خوف کو اپنی راہوں کی رکاوٹ۔
پھر وقت گزرتا ہے عمر، حالات اور ذمہ داریاں انسان کو وہاں لا کھڑا کرتی ہیں جہاں کبھی اس کے والدین کھڑے تھے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ رات دیر سے گھر آنے پر ماں کیوں جاگتی رہتی تھی، باپ کیوں ہر غلط دوست سے خبردار کرتا تھا، اور کیوں ہر فیصلہ جذبات کے بجائے عقل سے کرنے کا مشورہ دیتا تھا۔
لیکن زندگی کی سب سے تلخ سچائی یہ ہے کہ جب آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ کے والدین صحیح تھے، تب آپ کے اپنے بچے اس عمر میں داخل ہو چکے ہوتے ہیں جہاں وہ آپ کو غلط سمجھنے لگتے ہیں۔
وہ بھی آپ کی فکر کو پابندی سمجھتے ہیں، آپ کی نصیحت کو مداخلت، اور آپ کے تجربے کو “پرانا زمانہ” کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
تب انسان خاموشی سے مسکرا دیتا ہے، کیونکہ اب وہ جان چکا ہوتا ہے کہ والدین کی محبت اکثر اُس زبان میں بولتی ہے جسے اولاد بہت دیر سے سمجھتی ہے۔
وقت نسلیں بدل دیتا ہے، مگر والدین کے دل کبھی نہیں بدلتے۔
ہر ماں باپ اپنی اولاد کو صرف وہ درد نہیں دینا چاہتے جو وہ خود سہہ چکے ہوتے ہیں۔ مگر افسوس… یہ بات سمجھنے کے لیے اکثر انسان کو خود ماں باپ بننا پڑتا ہے۔
عرفان_بن_رشید
Source