بلیک روز سمرین شاہ قسط نمبر 35 اس نے جلدی سے…


???? بلیک روز
???? سمرین شاہ
???? قسط نمبر 35

اس نے جلدی سے فائیق کا ہاتھ ہٹایا
"آپ ! آپ یہاں کیا کررہے ہیں ! اور آپ اندر آے کیسے ؟۔”
وہ دبی ہوی آواز میں چلائی تھی وہ شرارت سے مسکراتے ہوے پیچھے ہوا ۔
"جیسے پہلے آیا تھا ! ویسے ہی آیا ہوں ۔”
"پتا ہے آپ کو کتنی غیر اخلاقی حرکت ہے ! یہ لندن نہیں ! یہ پاکستان ہے ۔”
وہ اس کے تیزی سے بولنے پر دلکشی سے ہنس پڑا اور وہ اس کی ہنسنے پر ڈر گئی ۔
"شش ! امی کی نیند کچی ہے وہ جاگ جاے گی ۔”
وہ انگلی منہ میں رکھ کر اسے تنبیہ کرنے لگی ۔
"لیکن اتنی مسلسل فون بیل سے تو نہیں لگتا کہ ان کی نیند کچی ہے ۔”
وہ مسکراتے ہوے شرارت سے بولا ۔
"آپ لگتا ہے آج کل بہت زیادہ ہی فارغ ، کوی نوکری یہ کیوں نہیں کر لیتے ۔”
وہ جنھجھلا کر کہتے ہوے اس کے سامنے سے گزرتے ہوے بولی ۔
"ہاے اب اتنا بھی ٹھنڈا بزنس نہیں چل رہا ویسے بھی میرے پاس کسی چیز کی کمی تھوڑی ہے ابھی آپ نے میرا گھر اندر سے نہیں دیکھا یہ باہر کے ملک کے جتنے محل ہیں وہ سب بھول جاے گی ۔بگینگم پیلس بھی میرے گھر کے آگے کچھ نہیں ہے ۔”
اس کے اتنے بونگیاں پر وہ اپنی روکتی ہوی ہنسی کو نہیں روک پای تھی۔اس کی ہنسی کی جھنکار پر وہ بولتے ہوے رُک سا گیا ۔ ایک عجیب سی دُھن بن جاتی تھی ۔ جب ہنستے ہوے وہ ہچکی لیا کرتی ، شفق کو زیادہ محسوس نہیں ہوا کرتا تھا مگر فائیق نے اسے اپنے اندر تک محسوس کیا تھا ۔
"مانا کہ آپ رچ ہیں ۔ بٹ اتنا بھی تو نہ چھوڑے ۔”
وہ اپنے ہنسی کو روکتے ہوے بولی ۔
"نہیں نہیں سریسلی میں نے پکڑا ہوا ہے میں چھوڑتا ہرگز نہیں ہوں ، جو چیز میری ہو جاتی ہے میں اسے اپنے ساتھ باندھ دیتا ہوں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔”
مذاق میں بات کرتے کرتے اچانک سنجیدگی اور وارفتگی نے کب موڑ لیا تھا اسے نہیں پتا چلا تھا ۔شفق کے چہرے پہ یک دم سنجیدگی آگئی ۔
"فائیق ! آپ جو کچھ ۔۔۔۔
"میں تم پر کوی زبردستی نہیں کررہا شفق ، میں جانتا اٹس ٹو میچ ایریلی ، مگر میں تم پر یہ ظاہر ہرگز نہیں کرنا چاہتا کہ تمہیں صرف ٹائم پاس سمجھ رہا ہوں ، نو نیور میرے جذبات بالکل خالص اور سچے ہیں اور میں کسی اور کی طرح انھیں ہرگز نہیں چھپانا چاہتا ، دوسرا میں سمجھ سکتا ہوں ابھی تم مجھے اتنا اچھی طرح نہیں جانتی ، نہ ہی تمھاری فیملی اور فیملی ایسے تو اپرو نہیں کرے گی جب تک تم خود دل سے راضی نہ ہو جاو میں تمھیں کسی چیز بھی فورس نہیں کروں گا انتظار کرنے پہ آیا تو ساری زندگی کروں گا ! ۔ ویسے بھی ناٹ آبیڈ آئیڈیا ، بڑھاپے میں شادی کا الگ مزا ہے اس وقت تو محبت کی شدت بھی زیادہ ہوگی ۔”
سنجیدگی سے بات کرتے کرتے وہ اچانک شرارتی ہوگیا ۔وہ عجیب تھا دو سیکنڈ میں اپنے رنگ بدلتا لیکن شفق کو اس کا یہ رنگ بُرا ہرگز نہیں لگتا تھا الٹا وہ اس کی اس بات پہ ہنس پڑی ۔
"کافی فلمی نہیں ہے آپ ۔”
"یہ مجھے نہیں معلوم کیونکہ میں نے زندگی میں ہوم الون کے علاوہ کوی مووی نہیں دیکھی ۔”
وہ اب صوفے پہ بیٹھ چکا تھا جبکہ شفق کا منہ حیرت سے کھل گیا ۔
"واقعی میں ! ایسے کیسے ہوسکتا ہے ۔ ”
"کیوں نہیں ہوسکتا ؟ ۔”
وہ ہنس پڑا
"آپ کے مزاج سے ایسے لگ رہا تھا آپ تو بہت فلمیں اور گانے وغیرہ سُنتے ہونگے ۔”
"نہیں گانے بھی نہیں سُنتا ! ۔”
"اُف آپ تو بہت ہی عجیب ہے پھر ۔”
وہ اس کے میوزک میں بھی نہ انٹرسٹ دیکھ کر مایوس ہوی تھی ۔
"مگر مجھے آپ کی آواز سُنے کا شوق ہے ۔”
وہ اس کے کہنے پر چھینپ گئی ۔
"اب پلیز جاے یہاں سے اس سے پہلے امی آجائے ! کل میں پرامس آپ کے ہوٹل میں آؤں گی اگر کھلا ہوا تو۔”
وہ اسے تنگ کرنا چاہتا تھا مگر اس کی لال تھکی ہوی آنکھوں کو دیکھ کر اُٹھ گیا ۔
"ضرور اسے آپ اپنا ہوٹل ہی سمجھے ! تو کب تک آئے گی ۔”
"جب امی اجازت دے گی ۔”
"اوکے ! جی چلتا ہوں ۔”
"ویسے آپ آتے کیسے ہیں یہاں تو اتنے بھیڑیے ہیں ۔”
وہ بھی اُٹھتے ہوے بولی تھی ۔
"آپ کے گھر کے نیچے چھوٹی سے سڑھیاں ہیں وہاں سے تھوڑی جمپ مارتا ہوں اس کے لیف سائڈ پہ چھوٹا سا وے جو میرے گھر کی طرف جاتا ہے ۔”
"واقعی میں !! ۔”
"جی واقعی میں گڈ نائٹ ! ۔”
وہ اس کو نظروں مین قید کیے چل پڑا اور وہ اسے ہوا کی جھونکے کے طرح جاتا ہوا اور غائب ہوتے ہوے دیکھنے لگی پھر آہستہ سے بولی تھی ۔
"گڈ نائٹ ! ۔”
••••••••••••••••
"ہاں بولو جزلان ! ۔”
دادا زولفقار نے اپنے بندوں کو بھیج کر اس سے بولے جو ان سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا تھا ۔
"ام دادا وہ وہ ۔۔۔”
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیسے بتائے انھیں یا تو وہ اسے مسل کے رکھ دے گے نہ بتانے پر اور اگر بتاے گا تو زلنین نے اس کے ٹکڑے کرنے دینے ہے ۔
"دادا ابو وہ زلنین ہے نا ۔۔۔”
وہ بولتے بولتے ایک بار پھر رُک جاتا ۔ دادا زوالفقار نے اسے حیرت سے دیکھا ۔
"تم کب سے تمہید باندھنے لگے جازی جو کہنا ہے سیدھے طریقے سے کہو اب کیا کیا ہے میرے پوتے نے ۔”
ان کے کہنے پر اس نے اپنی خشک لبوں پہ زبان پھیری
"محبت ہوگی ہے اسے ۔”
وہ تیزی سے بولتے ہوے آنکھیں بند کر چکا تھا اسے لگا اس کہنے کے ساتھ ہی زلنین نے اسے اُٹھا کر دور پھٹکنا تھا مگر کچھ نہ ہونے پر اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولی تو دادا ذوالفقار اسے خاموشی سے دیکھے جارہے تھے ۔
"انسان ہے ! ۔”
ان کی گھمبیر آواز پورے کمرے میں گونجی ۔ اب تو وہ پھنس گیا اسے کیا ضرورت تھی بتانے کی ۔
"بولو جزلان کیا وہ جو کوی بھی ہے انسان ہے ۔”
"انسان ہی ہو شاہد معلوم نہیں ۔”
"تم جانتے ہو اور تم شاہد یہی بتانے آئے ہو ۔”
وہ اضطرابی انداز میں ہنسا ۔
"وہ ۔۔۔
ایک دم دروازہ کھلا اور زلنین اندر داخل ہوا ۔ وہ اس وقت کالی شلوار قمیض میں ملبوس بالکل تیار تھا واہ مطلب موصوف سچ میں نکاح کرنے لگے ہیں ۔
"اسلام و علکیم دادا زوالفقار ! ۔”
"وعلیکم سلام برخودار آپ کو میری یاد آگئی ۔”
دادا زوالفقار اپنے خوبرو پوتے کو دیکھ کر نہال ہوگے
جو بھی تھا انھیں وہ فائیق جتنا ہی عزیز تھا ۔
"یاد تو ان کو کیا جاتا ہے دادا جنھیں ہم بھول جاتے ہیں ، تو میں آپ کو بھولا تھوڑی ہوں ۔”
وہ جزلان کو ایک نظر دیکھتے ہوے ان کے پاس آیا ۔
"اچھی بات ہے بیٹا ! ورنہ کوی مجھ بوڑھے کو پوچھتا ہی نہیں ہے ، سب اپنے مطلب کے لیے آتے ۔”
جزلان اچھل پڑا ۔ زلنین نے غور نہیں کیا وہ ان کے ساتھ بیٹھ گیا ۔
"میں کوی بھی کام آپ سے پوچھے بغیر نہیں کرنا چاہتا بس آپ سے ایک اجازت چاہیے ۔”
وہ دھیمے آواز میں ہمیشہ وہی تعبدار والا زلنین لگ رہا تھا ۔جزلان کو کچھ گڑبڑ لگ رہی تھی ۔
"ہاں بولو ! بیٹے ۔”
"میں نکاح کرنا چاہتا ہوں دادا زوالفقار ! اور وہ لڑکی انسان ہے ۔”
اس کی بات پہ جیسے کمرے سکوت چھا گیا تھا جزلان تو شاکڈ سے ہل ہی نہیں پایا تھا ۔
"میں فائیق زوالفقار جیسی غلطی نہیں کروں گا دادا ! میں آپ کو بتا کر یہ سب کررہا ہوں اور میں چاہتا ہوں مجھے آپ دعا دیں ، آپ کی دعاوں سے ہی کوی بھی بلا میرا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی ۔”
زوالفقار صاحب بے تاثر چہرہ لیے اسے سُن رہے تھے انھیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کہے کہنے کو رہ کیا گیا تھا ۔
"زلنین ! ۔”وہ کچھ کہنا چاہتا تھا زلنین نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
"ساری زندگی دُکھ میں گزار دی دادا یہ بیس سال میں سکون کو ترسا ہوں دادا ، میرے دل کا راحت ہما ہے ، میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا دادا اور میں واقعی سچ کہہ رہا ہوں خود نہیں ماروں گا اپنے آپ کو اس کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی اس کی دوری ہی میرے وجود کو ختم کردے گی فائیق زوالفقار والی تو نوبت ہی نہیں آئے گی ۔”
اس کے سنجیدگی میں دکھ تھا اور یہ دُکھ ان ماضی میں لے گیا تھا ۔ مگر زلنین نے انھیں ماضی کی یادوں سے نکال دیا ۔
"ابھی ہونے والا ہے ، مگر ابھی اسے معلوم نہیں ہے میں کیا ہوں ، وقت آنے پر اس کا اعتماد لے کر اس کو بتادوں گی ۔”
"زلنین ! یہ ۔۔۔
"جانتا ہوں بہت غلط ہے ، مگر میں اسے کھوں نہیں سکتا دادا زوالفقار ، اس کے بعد اسے سب سچ بتا دوں گا ۔”
"تو تم شادی کررہے ہے کون تمھیں ملا کہاں سے ۔”
اب زلنین خاموش ہوگیا ، جزلان نے اسے دیکھا اب وہ منتظر تھا وہ کیا بولے گا ۔
"میری دوست ہے یہی پاس ہی رہتی ہے اچھی لڑکی اپنی نانی کے ساتھ آی تھی ۔ نانی کی ڈیتھ ہوگی اکیلی ہوتی ہے ۔”
"کون کس کی بیٹی ۔”
اب وہ کسی ڈر کے باعث تیزی سے بولی ۔
"یہاں پہلی بار آئے ہیں ، یہ ساتھ والے وہ آپ کے پُرانے نیبر نہیں تھے ان میں سی کسی ریحان صاحب نے انھیں کرایہ پہ رکھا ہے ۔”
اس نے پہلی بار ان سے جھوٹ بولا تھا ۔اور اسے تکلیف ہورہی تھی مگر مجبوری تھی ۔اب ان کے چہرے پہ آسودگی پھیلی اگر ایسا ہوتا جو وہ سوچ رہے تھے تو قیامت آجانی تھی ۔
"ٹھیک ہے زلنین میں تمھاری خوشیوں میں رکاوٹ نہیں بنوں گا ، ایک میرے بچے خوشیوں سے محروم رہے ، میں نہیں چاہتا میرے پوتے ، کے ساتھ ایسا ہو جاؤ زلنین میں نے تمھیں اجازت دی اور فکر مت کرو اگر وہ لڑکی یہاں آتی رہے گی اسے کسی دوسری مخلوق کی بھنک نہیں پڑنے دے گے ۔”
وہ کچھ سوچتے ہوے اسے بولے زلنین خوشی سے نہال ہوگیا اور ان کے گالوں پہ پیار کیا جیسے وہ بچپن میں کیا کرتا تھا ۔
‏You’re the best thing happen to me grand pa
وہ اس کے کندھے پہ دھپ لگانے لگے ۔
"اس لڑکی کو کہو جس کی وجہ سے برسوں بعد میرے پوتے کا چہرہ کھل اُٹھا ۔”
اور جزلان تو بس حیرت سے منہ کھولے زلنین کے کام ایک دم سیدھے ہوجائے پر حیران تھا ، زلنین نے مڑ کر اسے جتاتی نظروں سے دیکھا وہ اس کی نظروں سے خائف ہوکر نظریں چرا چکا تھا ۔
•••••••••••••••••••
"ارے تم کیسے میری یاد آگئی ۔”
زرمین کو دیکھ کر شفق خوشگوار حیرت لیے اسے سے گلے ملی ۔
"بس یار تم نے تو میرے غریب خانے میں آنے کی زحمت نہیں کرنی تو میں نے سوچا میں آجاوں باقی سب کہا ہے ۔”
وہ اندر اس کے ساتھ چلتے ہوے آئی ۔
"ماما اور بابا تو کسی کی ڈیتھ میں گئے ہیں ، اور میں ابھی نوٹس کمپلیٹ کر کے کافی بنانے لگی اب تم آگئے تو چلو کوی بوریت نہیں ۔”
"خالی ہولی کافی دو گی اچھا سا کچھ کھلاؤ بھی قسم سے امی نے جب ٹینڈے گوشت بناے تو دل خراب ہوگیا وہاں سے اس سڑے کھڑوس نیبر کے پاس گئی تو کچھ کھانے کو نہیں دیا اب تم تھی تو سوچا کیوں نا تمھارے گھر ہی آکر بھوکوں کی طرح کھانے کا پوچھوں ۔”
شفق ہنس پڑی
"پاگل ! جب دل کریں آجایا کرو ! اور کھڑوس کس کی بات کررہی ہوں ۔”
"کس کی بات کروں گی فائیق زوالفقار اُف میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ لے کر جاتی ہوں مگر خود پوچھنے پر آتی تو ایسے بے خیر دفع کرو اس کا ذکر کرتے ہی میرا خون کھول اُٹھتا ہے۔”
شفق کو پہلی بار فائیق کے لیے ایسے الفاظ کچھ اچھے نہیں لگے تھے ۔
” تم ان کے بارے میں ایسا کیوں کہہ رہی ہو ! ۔”
اس کے تیز لہجے پہ زرمین رُک گئی ۔
"کیونکہ وہ ہے ہی ایسا تو اس کو ایسا ہی کہو گی ۔”
وہ کندھے اچکاتے ہوے بولی ۔شفق کو نجانے کیوں اس پر غصہ آیا ۔
"ایسا کیا کہا ہے تمھیں انھوں نے جو تم زہر لگتے ہیں ۔”
"عورتوں کو تو وہ اپنی پاؤں کی جوتی سمجھتا ہے شفق تم اس کے گڈ لُکس اور سمائل پہ مت جاؤ ! بہت ہی بد اخلاق انسان ہے ۔”
"سٹاپ اٹ ! ۔”
شفق پر اختیار نہ رہا تو وہ چیخ پڑی زرمین رُک پڑی
"تم غلط ہو ، تمھارے ان کے ساتھ کوئی اختلاف ہوگے مگر وہ عورتوں کی جوتی کی نوک ! واٹ ربش میں بھولی ضرور ہوگی لیکن ایک لڑکی ہوں اور لڑکی مرد پر اُٹھتی نگاہ کو پہچان لیتی ہے میں نے ان نگاہوں میں سواے حیا اور تحفظ کے اور کچھ نہیں ہے سو اٹس بیٹر کہ ہم ان کو ڈسکس نہ کریں ، تم میری دوست آئیم سوری بٹ وہ میرے لیے قابل احترام ہے اور میں ان کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں سکتی تھی ۔”
اسے ایک دم کیا ہوا تھا وہ کہہ کر کچن کی طرف چلی گئی جبکہ زرمین ساکت ہوگی اور اسے جاتا ہوا دیکھنے لگی یہ کیا کہہ کر گئی تھی تو کیا فائیق اور اس کے درمیان کوی تعلق ہیں ؟ ۔
یہ بات آگ کی طرح اس کے جسم میں پھیلی تھی
••••••••••••••••••••
"میں یہ جوڑا ہرگز نہیں پہنوں گی ، کہہ دوں اپنے صاحب سے ۔”
وہ گہرے سُرخ جوڑے کو دیکھ کر چلائی کر نیچے زمین پہ پھینکا ، وہ بیوٹشن تواچھل پڑی ۔
"دروازہ کھول کے دو مجھے میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں ۔”
وہ اس کو شعلہ بار نظروں سے دیکھتے ہوے بولی
"نیم سر نے ۔۔”
"بھاڑ میں گیا تمھارا سر صیحیح کہہ رہے تھے سارے یہ ایک جلاد ہی پولیس آفسر تھا میں اس کے دھوکے میں آگئی ۔اتنا ڈھونگی انسان اگر وہ پہلا والا زلنین ہوتا تو مجھ سے اپنے کیے کی معافی مانگتا الٹا وہ سرے سے انکار کررہا ہے اور اب یہ ۔۔۔۔ میں امریکا جانا چاہتی ہوں واپس دروازہ کھولو !!! ۔”
دروازہ کھلا اور وہ ایک دم پیچھے ہوی ، دیکھا تو زلنین کھڑا ہوا تھا وہ اسے کہنے کے بجاے جانے لگی جب زلنین نے اس کا بازو پکڑ لیا ۔اور پھر بیوٹیشن کو دیکھا تو اسے اشارہ کیا وہ سر ہلا کر چلی گئی ۔جبکہ وہ اس کا ہاتھ اپنے بازو سے نکلنے کے لیے کوشش کرنے لگی ۔
"جانے دو مجھے ورنہ زلنین تمھارے ٹکڑے کردوں گی ۔”
زلنین مسکرا اُٹھا جیسے کسی چھوٹے بچے کی بات پہ مسکرا اُٹھتا ہے ۔
"کر دینا یار ابھی تو یہ میں باکس لایا ہوں اس میں ہزار پلیٹس ہیں جتنا دل کرے انھیں توڑنے لگ جاؤ ! مگر وقت بہت کم ہے تو تھوڑے سے توڑ کر تیار ہو جانا ! ٹھیک ہے لیٹ نہیں کرتے اور ساتھ کچھ کھا لینا میں کھانا منگواتا ہوں صبح سے تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔”
"بھاڑ میں گئی میری طبیعت زلنین اگر تم نے زبردستی ایسا کیا تو میں بھوک ہڑتال کر کے مر جاؤں گی ۔”
وہ اس کے پیلے تھکے ہوے چہرے کو دیکھنے لگا جس کے اعصاب تنے ہوے تھے ۔اعصاب تو زلنین کے بھی تن گئے تھے ۔
"تم ایسا کچھ نہیں کرو گی ! ۔”
وہ بالکل نرمی اور تحمل سے بولتے ہوے اس کا بازو چھوڑ چکا تھا ۔
"مجھے چیلنج مت کرو زوالفقار ! ہاتھ ملتے رہ جاؤ گے ۔”
زلنین کے چہرے پہ ایک دم مسکراہٹ آگئی وہ ایک دم پیچھے ہوتے ہوے دروازہ کے ساتھ ٹیم لگا چکا تھا ۔
"ہاں کیا تمھیں ہما ! چیلنج میں نے جو کر سکتی ہو کرو ۔”
محفوظ مسکراہٹ اور شرارتی نظروں نے اس کو آگ لگا دی تھی ہما نے بکسے میں سے پلیٹ نکالی اور اس کی طرف نشانہ کیا ۔
اور زور سے اس طرف پھینکی

جاری ہے