???? بلیک روز
???? سمرین شاہ
???? قسط نمبر 14
نانو کو فنکشن ختم ہونے سے پہلے ہی جانے کی پڑ گئی انھیں ہما کی فکر تھی وعدہ تو اس نے بیشک کر لیا تھا لیکن اس چیز کا بالکل بھروسہ نہیں تھا وہ کہی ہما کو کچھ نقصان نہ پہنچا دیں
"بیٹا عقیل یہ میرے گاڑی والے کو بلوا دو ۔”
"ارے آنٹی آپ اتنی جلدی کیوں جارہی ہیں ۔”
عقیل انھیں دیکھتے ہوئے کہنے لگا
"بس بیٹا ویسے بھی اندھیری میں مری جانا زیادہ اچھا نہیں ہے اوپر سے میری نواسی ہما بھی اکیلی ہے طبیعت بھی نہیں ٹھیک اس کی ۔”
"لے آتی انھیں انجوائی کرتی وہ آپ نے ان بچاری کو گھر میں بند کردیا ۔”
"بس آئیندہ لے آو گی ۔”
گاڑی کا انتظار کررہی تھی کے اچانک بلیک رولز روئیس چمکتی دمکتی نانو کے سامنے آئی نانو بھونچکا گئی
کیونکہ کار کے آگئے جو سائین تھا وہ زولفیقار فمیلی کا پتا دیں رہا تھا
"یہ آپ کی کار ہے ؟”
عقیل بھی اتنی مہنگی گاڑی کو دیکھ کر حیران رہ گیا
"نہیں یہ میری کار نہیں ہے ۔”
وہ گھبراتے ہوئے تیزی سے جانے لگی جب کسی فورس نے انھیں روک دیا جس سے وہ آگئے چل ہی نہیں پائی
خوف نے ان کے جسم سے خون نچوڑ دیا جب انھوں نے مڑ کر وہی آگ رنگ آنکھیں دیکھی جو ہمیشہ سے انھیں ہانٹ کرتی رہی اس کی نظروں میں اتنی طاقت تھی کے وہ وہ خودبخود چل کر کار کی سیٹ تک آئی اور دروازہ کھول کر بیٹھ گئی اور جب بیٹھی تو ان کا اثر ختم ہوگیا اور انھیں احساس ہوا کے اب وہ دلدل میں دُنھس چکی ہیں
????????????????????????????????????
"کچھ کہے گی نہیں آپ !”
سرد آواز پوری کار میں گونجی نانو نے مڑ کر اسے دیکھا
گرے سوٹ میں ہلکے سفید بالوں والا ابھی بھی وجاہت سے بھرپور فائیق زولفیقار ان کی بیٹی کی محبت تھا ان فخر ہوتا اپنی بیٹی کے چوائس پر مگر وہ انسان ہوتا تب
"شفق کہاں ہے !”
دوبارہ بات بھی فائیق نے شروع کی نانو نے تو جیسے لب سیے لیے
"شفق کہاں ہے ؟طاہرہ بیگم !”
"وہ وہ نہیں رہی مر گئی وہ !”
نانو سے ضبط نہ ہوسکا تو پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی
"روئے مت !”
وہی دل کا چیر دینے والی دھاڑ نانو ایک دم دہل گئی
"روئے مت ! یہی تو ہونا تھا اس کے ساتھ بالکل ٹھیک ہوا ہے اس کے ساتھ ۔”
اُف فائیق کا چہرہ غصے سے نیلا پڑ گیا جب کے سٹیرنگ پہ گرفت مضبوط ہوگئی
نانو بالکل ساکت ہوگئی اس کو دیکھ کر
"اس نے میرے بجائے اس ریحان کو پرفیر کیا موت تو آنی تھی جبکہ وہ میرے ساتھ رہتی ابھی تک آپ کی نظروں کے سامنے ہوتی ۔”
اُف اس کا کٹیلا لہجہ کوئی سُن لے تو اس کے کانوں کے پردے پھٹ جائے نانو کے زبان ہی نہیں ہل رہی تھی کے کوئی اللّٰلہ کا کلام ہی شروع کردیں ان کا گلا جیسے خشک ہورہا تھا لگ رہا تھا جیسے کے آہ صدیوں کی پیاسی ہوں
"جانتا ہوں آپ کہے گی موت تو اٹل ہے وہ تو ہر ایک مخلوق پر آنی ہیں لیکن اس طریقے سے نہیں آنی تھی جس طرح میری شفق پر آئی اس کے بعد اس کو موت کے بعد میں چین نہیں لینے دیا تالیاں آپ کی چوائس پر
مسز فہیم ! اشروالمخلوقات دیکھ لیے میں نے کیسے ہیں ۔”
اس کا چہرہ خوفناک روپ میں لیکر جارہا تھا نانو بالکل خاموش رہی
"آپ لوگوں نے زرا بھی رحم نہیں کیا اس پر وہ پٹتی رہی اس ریحان سے اور آپ چُپ کر کے خاموش تماشائی بنے رہے اس کے نیل پر بھی نظر چُرا لی آپ لوگوں نے ۔”
"اگر تمھیں اس سے اتنی محبت تھی تو تمھاری محبت کے آگے ہم بھی ہار جاتے فائیق اور اگر ہم سے زیادہ تمھیں اس کے درد کی پروا تھی تو کیوں نہیں لیکر گئے کیوں نہیں مارا تم نے اس ریحان کو !”
نانو نے دل میں کہا لیکن فائیق ان کا جواب سمجھ کا تھا اور قہقہہ لگا کر ہنس پڑا اتنا ہنسا کے اس کی ہنسی نے نانو کو خاموش کروادیا
"کیونکہ وہ کیا کہتے ہیں اللّٰلہ کے کلام میں طاقت ہے ایسی طاقت کے ہم مخلوق اِدھر سے اُدھر قدم نہیں رکھ سکتے وہی چیز آپ نے شفق پہ استمعال کی اور میں اس سے دور رہا لیکن اب نہیں یہ کلام کا اثر ختم کرنا پڑیں گا اور یہ تب ہوگا جب آپ ختم ہوگی کیونکہ میں اب کی ناکامی ہرگز برداشت نہیں کرو گا ۔”
نانو کو وہ جن نہیں موت کا فرشتہ لگا تھا دل میں کلمہ شہادت پڑھ کر انھوں نے آنکھیں موند لی
????????????????????????????????????
"جلدی جلدی کی رٹ لگا دیں آپ نے میں نے تو ابھی آپ کو گھر دکھایا ہی نہیں تھا ۔”
زُلنین نے جلدی سے گاڑی اس کے گھر سے فاصلے پہ روکتے ہویے کہا
"ایسی دل گھبڑا رہا ہے اور اوپر سے نانو کا میسج آیا تھا اور وہ مجھے گھر میں نہ پاتی تو بس جی میرا اللّٰلہ ہی حافظ لیکن یاد رہے ایس پی صاحب میں اپنا بدلہ نہیں بھولی ۔”
وہ انگلی اُٹھاتے ہوئے بولی وہ ہنس پڑا
"اچھا ہما سُنے ۔”
ہما نکلنے لگی جب زُلنین کی سینجیدہ لہجے پہ وہ رُک گئی
"جھوٹ مت بولیے گا اگر وہ کچھ پوچھے جھوٹ سے ہمیشہ سے بے سکونی پیدا ہوتی ہے اوپر سے بندے کو ابھی تو لگ رہا ہوتا ہے سب ٹھیک ہے لیکن بعد میں انسان نقصان ہی اُٹھاتا ہے دوسرا ہاں کچھ چھپا ضرور سکتے ہیں جیسے کے آپ کی ممی کے ساتھ کی گئی زیادتی کیونکہ وہ مزید دُکھی ہوجائیں گئ ان کی طبیعت بھی خراب ہوسکتی ہے ممکمن ہوسکے تو یہ زکر نہ چھیڑے گا جتنی آپ کو بیٹی ہوکر تکلیف ہوئی ہے وہ تو پھر بھی ماں ہے سمجھ رہی ہے نا۔”
اُف یہ پیاری سوچ کا مالک اگر ایسے دُنیا میں اور آجائیں تو دُنیا جنت سے کم نہیں ہما نے سر ہلایا
"اللّٰلہ حافظ !”
"خدا حافظ !”
وہ بھی مسکراتے ہوئے کہنے لگا
"اور ایک اور بات ہما ہر وقت مسکراتی رہا کریں صدقہ ہے ہمارے نبی کریم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کا فرمان
ہے ۔”
ہما کی مسکراہٹ گہری ہوگئی اس شخص سے صرف چار ملاقاتیں ہوئی اور انھیں ملاقات میں وہ بے حد دل کے قریب لگنے لگا
????????????????????????????????????
وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اس نے دیکھا لائٹس آن تھی اس کے دل میں ڈر آگیا کہی نانو آ تو نہیں گی
وہ جلدی سے اندر آئی اور اس کا شک صحیح نکلا نانو آچُکی تھی اور اس وقت صوفے پہ بیٹھی آنکھیں موندئے شاہد اسی کا انتظار کررہی تھی
"ائیم سوری نانو ! میں وہ !”
"جھوٹ مت بولنا !”
کوئی آواز اس کے کانوں میں گونجی
"ام نانو آپ کب آئی کتنی دیر ہوگئی ہے ۔”
وہ گھٹنے کے بل جھک کر نانو کے گود میں سر رکھتے ہوئے بولی
"سوری نانو میں نے آپ سے کیا ہوا وعدہ توڑا لیکن میں کیا کرو میرا دل کھینچا چلا جاتا ہے اس گھر کی طرف پتا نہیں کیا ہے اس گھر میں ، اور نانو آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے زلفیقار ہاوس کچھ بھی نہیں ہے اور زُلنین تو جلاد بالکل بھی نہیں ہے وہ تو اتنی پیاری باتیں کرتا ہے اور وہ اسلامی بھی ہے آپ کو تو ایسے لوگ بہت اچھے لگتے ہیں نانو تھک گئی ہوگی میں آپ کے لیے کچھ لاو ۔”
اس نے سر اُٹھا کر دیکھا نانو ابھی تک آنکھیں موندئے ٹیک لگائی ہوئ تھی
"لگتا ہے آپ سوگئی لیکن اتنی پکی نیند کب سے ہوگئی خیر ایک سکینڈ میں آپ کے لیے کمبل لائی ۔”
وہ نانو کے کمرے میں آئی اس نے الماری سے کمبل نکلا اور باہر آئی تو نانو اسی پوزیشن میں تھی ہما کو عجیب لگا پھر سر جھٹک کر آگئے بڑھی
"ٹھنڈ میں ایسی بیٹھ گئی بندہ ہیٹر بھی لگا دیتا ہے ۔”
اس نے کمبل اوڑھا اور ان کی ماتھے پہ پیار کیا لیکن دیکھا ان کا جسم بالکل ٹھنڈا ہے اس کے دل کی بیٹ مس ہوئی اس نے سر اُٹھا کر دیکھا نانو میں ہلکی سے بھی جنبش نہیں ہوئی اس نے نانو کی گردن سیدھی کرنا چاہی کے وہ آرام سے لیٹ سکے شائد ٹھنڈ اور تھکن کا اثر تھا لیکن اسی پل نانو کی گردن ایک طرف لڑھک گئی اور ہما کے منہ سے بے اختیار چیخ نکلی
"نانو !نانو نہیں یہ مزاق مت کریں نانو پلیز ۔”
اس نے نانو کا چہرہ اپنے طرف کیا اور جنجھوڑا
"نانو پلیز میری غلطی کی اتنی بڑی سزا نہ دیں نانو پلیز میں اکیلی رہ جاو گی پلیز آنکھیں کھولے نانو !”
وہ ان کے سینے میں دیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی…
جاری ہے

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔