بلیک روز سمرین شاہ قسط نمبر 13 کیا شفق واپس…


???? بلیک روز
???? سمرین شاہ
???? قسط نمبر 13

کیا شفق واپس آگئی لیکن کب ؟”
پھوپھو کشف میک وائپس سے اپنا میک اُتار رہی تھی اور اتنی بھیانک شکل دیکھ کر تو ایک منٹ کے لیے تو جزلان بھی ڈر گیا تھا
"پھوپھو !!!چاچو کو میں نے بتادیا!”
"کیا!!!!!”
پھوپھو کی چیخ سے چڑیل بھی ڈر جاتی تھی یہ اس کے دوست علی نے کہا تھا اور بالکل صحیح کہا تھا
"ستیاناس جائے تمھارا جیزی !”
پھوپھو کشف نے پرفیوم کی بوتل اُٹھا کر اس پر پھینکی جس نے جزلان نے پھرتی سے پکڑا
"اب پتا نہیں فائیق بھیا کا کیا حال ہوگا جزلان کے بچے کیا کردیا تم نے ۔”
"پھوپھو میں نے کچھ نہیں بتایا تھا انھوں نے میری زُلنین کی باتیں شائد سُن لی تھی اور آپ کو پتا ہے چاچو کی نظریں اُف !! سب کچھ اگلوا دیا۔”
"اُف اُف !! اور تمھیں زُلنین نے کچا چبا دینا ہے اس کی کوئی بھی بات اگر فائیق بھائی کے کانوں میں گھسی کیا کرتے ہو جیزی !”
"پھوپھو میں نے اس لیے بتایا فرض کریں کچھ ہوتا تو آپ ہینڈل کر لے گی ۔”
"مجھے پتا تھا تم جو کچھ کرتے ہو اس کے بعد مجھے ہی بتاتے ہو کے میں کچھ نہ کچھ حل نکالو اور یہ شفق اتنے سالوں بعد کیوں واپس آئے وہاں مری رہتی نا !”
وہ غصے سے بولی
"پھوپھو مری میں تو رہنے آئی اور وہ اتنی ینگ سمارٹ ابھی تک واقی چاچو کی چوائس پہ داد دیتا ہوں جو ان پر اتنے عاشق ہوگئے کے اس کے بعد کوئی ان کے دل میں نہیں بسی !”
"اب اگر وہ آگئی تو فائیق بھائی نے کیا کرنا یہ بات ابا کے سامنے نہیں آنی چائیے انھوں نے الٹا ہی کام کرنا ہے ۔”
"ایسا تو نہ کہے !”
جزلان نے انھیں ٹوکا
"تب تک فائیق کی نظر پڑئ ہے اس پر ۔”
"ہلکی سی جھلک دیکھی ہے اس کی اس وقت زُلنین کھڑا ہوا تھا اس کے ساتھ !”
"زُلنین ! ”
"ہاں زُلنین !”
"کچھ تو چکر ہے فل حال خبرادر فائیق بھائی کو ریپورٹ دیں وہ مارے نہ مارے زُلنین نے مار دینا ہے تمھیں ۔”
"اُف کہاں پھنس گیا !!”
????????????????????????????????????
"ویسے یہ تو اس سے زیادہ پیاری جگہ ہے نانو کا گھر کیوں نہیں تھا یہاں !”
ہما کار سے اُترتے ہوئے کہنے لگی اس نے کار کھلے میدان کی طرف روکی جہاں دور ہی بچے فٹ بال کھیلتے ہوئے نظر آئے سورج کی روشنی یہاں زیادہ تھی اور جو ہما کے چہرے پہ پڑی تو اس کی رنگت تماتمانے لگی زُلنین ایک منٹ کے لیے مہیبوت رہ گیا پھر سر جھٹک کر بولا
"ہاں ! افسوس تو ہوا ویسے خیر میں آپ کو لیے جاو گا آپ جب مجھے کہے گی ۔”
وہ اس کے پاس آتے ہوئے گلاسس اپنے آنکھوں میں ٹکاتے ہوئے بولا
اُف ہینڈسم بلیو جینز ۔ !
ہما کے دل سے بے اختیار نکلا
"چلے آج آپ کو یہ جگہ دکھاتا ہوں ایسے ایسے ہانٹٹ پلیسس قبرستان کے آپ باہر امریکہ کے فصول میوزم اور گھروں کو بھی بھول جائیں گی ۔”
"نہیں اللّٰلہ توبہ وہ جگہ اتنی ڈروانی وہ کنجرنگ مووی ہے نو وہ ٹرو سٹوری پہ بیس تھی وہاں اصلی گھر تھے اصلی لوگ بھی میرا بڑا دل کیا وہاں جاو دیکھو میں نے وہاں کی رہنے والی عورت کی بُک پڑھی کہتی ہے وہاں اچھے جن بھی تھے اور بُرے بھی کیا واقی ایسا ہوتا ہے جن تو بس بُرے ہی ہوتے ہیں .”
"نہیں جن تو بُرے بھی ہوتے ہیں اور اچھے بھی انسان جیسے طور طریقے ہوتے ہیں بس وہ اشروالمخلوقات ہے سب سے بڑا اعزاز اللّٰلہ نے دیا ہے ان کو حالانکہ پیدا ہمیں پہلے کیا تھا لیکن جو اہمیت انسانوں کی ہے وہ ہم جن کی کہاں !”
"کیا ؟ یہ آپ اپنے آپ کو جن کیوں کہہ رہے ہیں ۔”
"کیونکہ میں جن ہوں !”
وہ سچ بولا تھا لیکن ہما پہ یہ ظاہر کیا تھا کے وہ شرارت سے کہہ رہا ہے
ہما نے گھورا اور پھر اس کا جائزہ لینے لگی ایک دم سوچ کر کچھ بولی
"آپ کے پاس آئی ڈی کارڈ ہے !”
زُلنین اس کی انھوکی بات پہ حیران رہ گیا ہما کی سوچ کی لکیر بڑھتی گئی
"ظاہر ہے کیوں نہیں ہے سٹیزن ہوں میں یہاں کا !”
وہ اپنی جیب سے والٹ نکالتے ہوئے اسے دکھانے لگا
"زُلنین زولفیقار ،
پیدائش چھ جون ۔۔۔
ہما نے جھٹکے سے سر اُٹھایا
"آپ کی اور میری برتھ ڈے کی ڈیٹ سیم ہے ۔”
زُلنین سپرائزڈ سا دیکھنے لگا
"او میری اور میری دوست کا جنم دن ایک ہی دن ہے واو اللّٰلہ جلدی سے یہ وقت آجائے پھر خوب انجوائی کریں گے ۔”
وہ بہت اکسائیٹٹ لگ رہا تھا
"خیر ! اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کے آپ جن نہیں ہے کیونکہ جن کے پاس آئی ڈی کارڈ نہیں ہوتا ۔”
"کس نے کہا ہے ایسا ؟”
زُلنین مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا
"کامن سینس ! ایس پی صاحب جو کامن نہیں ہوتی وہ سنینس میرے پاس ہے آئی ڈی کارڈ انسانوں کا ہوتا ہے ۔”
"ہاں تو میں نے کونسا کہا کے جن کا ہوتا ہے ۔”
وہ مسکراتے ہوئے بولا اُف اس کی کلر سمائیل
"ابھی آپ نے کہا آپ جن ہیں ۔”
"میں نے کب کہا !”
"اُف !!! آپ کی باتیں !”
جنجھلاہٹ سے نقش کھینچے گئے
"ہے نا دلچسپ ! خیر چھوڑیں سائیکولجسٹ صاحبہ تو فارغ کیا کریں گی ۔”
"کچھ نہیں جب تک نیا سیشن سٹارٹ نہیں ہوجاتا تب تک ایسی ٹائیم پاس ۔”
"تو ٹائیم پاس بھی مزے کا ہو یا یہی نانو کی باتیں سُن کر خود سے باتیں کرنا اور یہ سٹوری پہ لکھ کر گزارے گی ۔”
وہ اب دونوں ہل کی طرف چل رہے تھے جہاں سائڈ پہ بے شمار بڑے بڑے خوبصورت گھر تھے
"کیا کرو دل تو بہت کچھ کرتا ہے مرنے سے پہلے کم سے کم اپنی سو تو نہیں کم سے کم سو خواہشیں پوری کرو ۔”
وہ سوچ میں تھی تب بولی
"سوچنے سے زیادہ عمل کرنا زیادہ بہتر نہیں ہے ۔”
وہ بول رہا تھا اور وہ اسے کی طرف دیکھنے لگی
????????????????????????????????????
"جو سوچا ہے اس پر عمل کرو کرنے سے نہ ڈرو کے یہ صحیح ہے یا غلط میرے خیال سے کام ایسا ہو جس سے آپ کا دل مطمن ہو اور کسی کی دل آزاری بھی نہ ہو اس لیے کچھ کرنے سے نہ ڈرو کرو اکسپرینس تو ہوگا نا گڈ اکسپرینس کے ساتھ بیڈ اکسپرینس بھی ہونے چاہیے ۔”
"آپ کہی ٹیچر تو نہیں ہے ۔”
اس کی کہنے پر زُلنین ہنس پڑا
"آپ کو کیسے پتا ! ہاں میں اپنے علاقے کے بچوں کو انگلش اور میتھس پڑھاتا ہوں چھوٹا سا سکول بنایا ہے ان بچوں کے لیے جو افورڈ نہیں کرسکتے میرا بھی ٹائیم ہاس ہوجاتا ہے نیکی بھی کما لیتا ہوں بچوں کا مستقبل بھی بن جاتا ہے آئے اپنا سکول دکھانے کے لیے تو لایا ہوں ۔”
وہ اس کی بات پہ شاکڈ ہوگی یہ بندہ کیا چیز ہے اتنی خوبصورت سوچ کا مالک لوگوں کی رائے آخر کیوں بُری ہے اس کے بارے میں شاہد اس کو اتنے قریب سے نہیں جانتے تھے اگر جانتے تو جدھر بھی اس شخص کو دیکھتے سلیوٹ مارے بغیر نہ رہ سکتے
"آپ کے پاس بچے آکیسے جاتے ہیں اور ان کی ماں باپ بھیج کیسے سکتے ہیں اگر ان کی رائے آپ کے لیے اتنی بُری ہے ۔”
"اُف آپ سے پتا لگ رہا ہے بہت ہی ہیٹٹ پرسن ہوں میں ایسا مجھ معصوم نے کیا کردیا بس ایک ہانٹٹ جیسا گھر میں رہتا ہوں اور ایک سخت پولیس آفسر جانا جاتا ہوں ایک دفع مجرم کی کُٹ لگا دیں لوگوں نے تو مجھے بدنام کردیا ۔”
"لوگ یہ تو کہتے ہیں لیکن ان کا یہ کہنا ہے آپ نے چھ بندوں کا قتل کیا ہے ۔”
اب زُلنین کے قدم رُک گئے ہما بھی اس کے رُکنے پر رُک گئی زُلنین نے شُکر ہے گلاسس پہن لی تھی ورنہ ہما اس کی لال آنکھیں دیکھ لیتی وہ ایک دم حلق پھاڑ کر ہنسنے لگا
"اُف جب بھی آپ کی کوئی بُرائی کرتا ہے آپ ہنسنے کیوں لگ جاتے ہیں ۔”
ہما نے جنجھلاتے ہوئے اس شخص کو دیکھا جو پیٹ پکڑ کر ہنس رہا تھا
"زُلنین لوگ باہر آجائے گے عجیب لگتا ہے مت ہنسے ۔”
ہما اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے اس کے اونچی آواز پہ ہنستے ہوئے کہنے لگی
"افوہ ! مجھ سے آدھی مکھی نہیں ماری گئی اور ایک پورا انسان ایک اور ایک بھی نہیں چھ اُف مس ہما کہاں سے لاتی ہیں اتنی دلچسپ خبریں ۔”
وہ ہنستے ہوئے ہما کو کہنے لگا
"نانو نے بتایا !”
"لگتا ہے آپ کی نانو سے ملنا پڑیں گا خیر لیکن چھ بندے میرے اللّٰلہ !”
"اچھا بس بھی کریں مسخرے لگ رہے ہیں ۔”
"آئیڈیا ہما سرکس نہ کھول لے کمائی بھی ہوجائے گی اور لوگوں کو میرے بارے میں رائے بھی بدل جائے گی ۔”
اس کی آئڈئیے پہ ہما کو بھی ہنسی آگئی
‏You’re unbelievable
"وہی نا میں یہی سوچ رہا ہو پولیس کا کام بہت بورنگ ہیں لو پہنچ گیا میرا چھوٹا سا سکول !”
ایک چرچ کے ساتھ چھوٹا سا کاٹج ٹائپ گھر تھا اور بالکل ویسا ہی جو ہما نے خواب میں دیکھا اس کا چہرہ سفید ہوگیا اور وہ جھٹکے سے زُلنین کی طرف دیکھنے لگی
"یہ یہی سکول ہے نا !”
زُلنین رُک گیا اس کی ہما کی آواز ٹھیک نہیں لگی
"کیا ہوا نہیں اچھا ہاں میں امیر ضرور ہے لیکن خود اکیلا پینٹ نہیں کرسکا اتنا مصروف تھا اوپر سے میں اسے بہت اچھے سے رنیوٹ کرنا چاہتا تھا آئی نو یہ بہت زیادہ سکیری لگ رہا ہے خیر اب آپ آگئی ہے اب تو میں شوق سے اس جگہ کو ایک نوٹ لینڈ بنا دو گا ۔”
وہ ہلکے پھلکے لہجے میں کہنے لگا
"یہ گھر میں نے پہلے بھی کہی دیکھا ۔”
ہما اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولی
"او نو ایسا گھر کہی اور پر جس نے میری کاپی کی ۔”
وہ مصنوعی غصے سے بولا اچانک اس کی نظر جزلان پہ پڑی جو اسے اشارہ کررہا تھا زُلنین نے اسے اگنور کیا
"زُلنین اِدھر آو !!!”
اور ہما اس جگہ کو دیکھ رہی تھی بالکل ویسی جگہ ویسا گھر ویسے سامنے پڑیں لہلہاتے پتے جو ہوا کے پاس ہل رہے تھے فرق صرف یہ تھا وہاں جھولا نہیں تھا جو اس نے خواب میں دیکھا تھا اور دروازے کی اوپر پلیٹ لگی ہوئی تھی
‏The macaw
‏By zulnain zulfiqar
‏Be like a bird
‏Smart and independent
"اُف کیا تھا یہ شخص ! ”
اس کی چہرے پہ دھیمی سی مسکراہٹ آئی اور زُلنین کو دیکھا جو اب کہی نہیں تھا
"زُلنین !”
جاری ہے