بعض اوقات انسان انجانے میں جنگیں کر کے کچھ ایسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں جن میں ان کے حاصل کردی مقاصد تو کچھ اور ہوتے ہیں لیکن ان کے آثرات کی وجہ سے دنیا کے قدرتی ماحول میں مثبت تبدیلی آنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔۔حالیہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور اس دنیا پر پڑھنے والے آثرات سے توانائی کی شعبے میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جنگ اور آبنائے ہرمز یعنی Strait of Hormuz کی بندش نے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے ملکوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ مہنگے اور غیر محفوظ فوسل فیول تیل و گیس کے بجائے قابلِ تجدید توانائی یعنی Renewable Energy کی طرف تیزی سے منتقل ہوں۔
تیل کی قیمت 70 ڈالر سے بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر تجاوز کر گئی ہے۔ اس اضافے سے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر 240 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔
پاکستان، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان اور بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے اس خطے پر سب سے زیادہ منحصر ہیں، اس لیے یہ بحران ان کے لیے ایشیا کا یوکرین لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بعض سائنسی ماہرین کے مطابق، شمسی توانائی، ونڈ پاور اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے توانائی کے اخراجات میں 70 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
ہمارے پاکستان جیسے ملک میں گیس کی قیمتیں بڑھنے پر پاکستان میں چینی سولر پینلز کے استعمال سے شمسی بجلی کی پیداوار 4% سے بڑھ کر 25% ہو گئی، جو کہ ایک بڑی تبدیلی ہے۔
چین، بھارت اور جنوبی کوریا اب اپنے جوہری اور شمسی منصوبوں کو تیز کر رہے ہیں تاکہ عالمی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ سے بچ سکیں۔
اب یہ تصور ختم ہو رہا ہے کہ دنیا ہمیشہ تیل اور گیس پر منحصر رہے گی۔ سستی ونڈ اور سولر انرجی اب زیادہ محفوظ اور بہتر انتخاب بن چکے ہیں۔
منتخب
Source