برطانیہ میں ایک خاتون تقریباً ڈیڑھ سال تک ایسے شخص کی جانب سے ہراسانی کا سامنا کرتی رہی جو اس کی نجی زندگی کی حیران کن حد تک درست تفصیلات جانتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ کہاں جاتی ہے، کیا پہنتی ہے اور خریداری کے دوران کون سی چیزیں لیتی ہے۔ مسلسل پیغامات، تضحیک اور نگرانی نے خاتون کی زندگی کو خوف میں جکڑ دیا۔ ذہنی اذیت اس قدر بڑھ گئی کہ اس نے اپنی زندگی ختم کرنے تک کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔
لیکن اس کہانی کا سب سے ہولناک انکشاف اس وقت ہوا جب پولیس نے معاملے کی تفتیش کی: جس شخص سے وہ خوف زدہ تھی، وہ کوئی اجنبی نہیں بلکہ اس کا اپنا شوہر تھا۔
ایک پیغام سے شروع ہونے والی خوف ناک کہانی
دسمبر 2015 میں برطانوی خاتون امانڈا پلےل (Amanda Playle) کو ایک ایسے شخص کی جانب سے پیغامات موصول ہونا شروع ہوئے جو خود کو اس کا سابق اسکول بوائے فرینڈ ظاہر کر رہا تھا۔ ابتدا میں رابطہ معمول کے مطابق دکھائی دیا، لیکن جلد ہی پیغامات کا انداز بدل گیا۔
پیغامات بھیجنے والا اس کی نجی زندگی، ماضی کے تعلقات اور ذاتی معاملات کے بارے میں سوالات کرتا، توہین آمیز زبان استعمال کرتا اور ایسے انداز میں بات کرتا جیسے وہ ہر وقت اس کی نگرانی کر رہا ہو۔
ایک روز امانڈا خریداری کے لیے باہر گئی ہوئی تھی اور اس کے پاس ایک نیا ہینڈ بیگ تھا۔ اسی دوران اسے ایک پیغام موصول ہوا جس میں بھیجنے والے نے بیگ کا ذکر کیا اور اسٹار بکس میں کافی پینے کے لیے ملنے کی بات کی۔
یہ پیغام امانڈا کے لیے خوف کی ایک نئی وجہ بن گیا۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ کوئی شخص اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اسے کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ دیکھ سکتا ہے۔
خوف نے روزمرہ زندگی کو بھی مشکل بنا دیا
وقت گزرنے کے ساتھ ہراسانی میں اضافہ ہوتا گیا۔ پیغامات بھیجنے والے نے امانڈا کے والدین اور کام کی جگہ سے وابستہ افراد سے بھی رابطہ کیا۔ اس کے ذاتی آن لائن اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کی گئی اور اس کی صبح کی سیر کے بارے میں بھی ایسی تفصیلات سامنے آئیں جن سے نگرانی کا شبہ مزید گہرا ہو گیا۔
امانڈا کے لیے گھر سے باہر نکلنا، کام پر جانا اور قریبی دکان تک پہنچنا بھی خوف کا باعث بن گیا۔ فون پر آنے والی ہر اطلاع اسے پریشان کر دیتی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس کی نجی زندگی کی معلومات کسی دوسرے شخص تک کیسے پہنچ رہی ہیں اور وہ اس صورت حال سے کیسے نکل سکتی ہے۔
اس ذہنی دباؤ نے اسے تنہائی کی طرف دھکیل دیا۔ اس نے اپنی زندگی ختم کرنے کے بارے میں بھی سوچا، جبکہ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کی زندگی میں سب سے زیادہ قابلِ اعتماد دکھائی دینے والا شخص ہی اس اذیت کا ذمہ دار ہے۔
جس شوہر سے تسلی ملتی تھی، وہی خوف کی وجہ تھا
اس تمام عرصے میں امانڈا کا شوہر پال پلےل (Paul Playle) بظاہر اس کا ہمدرد بنا رہا۔ دونوں ایک دوسرے کو 16 برس کی عمر سے جانتے تھے، ان کی شادی ہوئی اور انہوں نے بچوں کی پرورش کی۔ امانڈا کے خیال میں یہ ایک عام خاندانی زندگی تھی، جس میں مشکلات تو ہو سکتی تھیں لیکن بنیادی اعتماد موجود تھا۔
جب امانڈا مبینہ تعاقب اور آن لائن ہراسانی سے پریشان ہوتی تو پال اسے تسلی دیتا اور اس کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا۔ حقیقت سامنے آنے کے بعد یہی پہلو اس مقدمے کی سب سے پریشان کن باتوں میں شمار ہوا: جس شخص سے امانڈا مدد اور تحفظ کی امید رکھتی تھی، وہی خفیہ طور پر اس کے خوف کو بڑھا رہا تھا۔
گیٹوک ایئرپورٹ کی تصویر نے راز کھول دیا
اس معاملے میں اہم موڑ اس وقت آیا جب امانڈا کو گیٹوک ایئرپورٹ کے داخلی حصے کی ایک تصویر بھیجی گئی۔ پولیس نے تصویر کے پس منظر اور اس سے متعلق شواہد کا جائزہ لیا، گاڑی کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور ایئرپورٹ کی حفاظتی ویڈیو دیکھی۔
فوٹیج میں پال پلےل کو اس مقام پر تصویر لیتے ہوئے دیکھا گیا۔ مزید تفتیش سے یہ بھی سامنے آیا کہ ہراسانی سے متعلق بعض ای میلز امانڈا کے اپنے گھر کے انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے بھیجی گئی تھیں۔
یوں وہ شخص سامنے آ گیا جس نے خود کو ایک سابق بوائے فرینڈ کے طور پر پیش کیا تھا۔ درحقیقت پال نے امانڈا کے سابق اسکول بوائے فرینڈ کی شناخت استعمال کرتے ہوئے ای میل اور فیس بک اکاؤنٹس بنائے تھے اور انہی کے ذریعے اسے پیغامات بھیجتا رہا تھا۔
پاسپورٹ چھپانے سے لے کر ذاتی اکاؤنٹس تک رسائی
عدالتی کارروائی میں بتایا گیا کہ پال نے صرف پیغامات بھیجنے پر اکتفا نہیں کیا۔ وہ امانڈا کی تذلیل کرنے، اس کے ذاتی معاملات میں مداخلت کرنے اور اس کے خاندان و ساتھیوں تک پیغامات پہنچانے میں بھی ملوث تھا۔
اس نے امانڈا کا پاسپورٹ بھی چھپا دیا تاکہ وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ چھٹیوں پر نہ جا سکے۔ اس کے رویے سے یہ ظاہر ہوا کہ معاملہ محض آن لائن بدسلوکی کا نہیں تھا بلکہ اس میں امانڈا کی آزادی اور فیصلوں پر قابو پانے کی کوشش بھی شامل تھی۔
پال نے الزامات سے انکار کیا، لیکن پیش کیے گئے شواہد اور گواہیوں کے بعد جیوری نے اسے مجرم قرار دے دیا۔
عدالت کا فیصلہ: ساڑھے تین سال قید
24 جنوری 2018 کو لیوز کراؤن کورٹ میں جیوری نے پال پلےل کو تعاقب اور جبر پر مبنی کنٹرول کے رویے سے متعلق جرائم کا مجرم قرار دیا۔ جیوری کو فیصلہ کرنے میں 30 منٹ سے بھی کم وقت لگا، جبکہ عدالت نے اسے ساڑھے تین سال قید کی سزا سنائی۔
سزا سناتے ہوئے جج کرسٹین ہینسن نے اس بات پر سخت تشویش ظاہر کی کہ پال نے اپنی بیوی کو اس خوف کے باعث ذہنی طور پر ٹوٹتے دیکھا جو خود اسی نے پیدا کیا تھا، اور پھر اس کے سامنے ہمدرد اور تسلی دینے والے شوہر کا کردار ادا کرتا رہا۔
امانڈا نے مقدمے کے بعد بتایا کہ اس تجربے نے اس کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کے مطابق، جس شخص پر وہ ہمیشہ بھروسا کرتی رہی تھی، اسی کے ملوث ہونے کے انکشاف نے اس کے لیے دوسروں پر اعتماد کرنا مشکل بنا دیا۔ اس کے بچوں پر بھی اس واقعے کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔
یہ صرف تعاقب نہیں، ذہنی اور جذباتی تشدد بھی تھا
ماہرینِ گھریلو تشدد جس رویے کو جبر پر مبنی کنٹرول (Coercive Control) کہتے ہیں، اس میں ایک شخص دوسرے کی آزادی محدود کرنے کے لیے نگرانی، دھمکی، تذلیل، تنہائی اور نفسیاتی دباؤ جیسے طریقے استعمال کرتا ہے۔ اس کا مقصد ہمیشہ جسمانی تشدد کرنا نہیں ہوتا؛ بعض اوقات متاثرہ شخص کو مسلسل خوف میں رکھنا اور اس کے فیصلوں پر اختیار حاصل کرنا بھی اس رویے کا حصہ ہوتا ہے۔
امانڈا کے معاملے میں مبینہ اجنبی کی جانب سے ہراسانی اور شوہر کی طرف سے تسلی دینے کا متضاد رویہ ایک نہایت الجھا دینے والی صورت حال پیدا کرتا رہا۔ جب اذیت دینے والا شخص ہی بظاہر تحفظ فراہم کرنے لگے تو متاثرہ فرد کے لیے اصل خطرے کو پہچاننا اور صورت حال سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
اس مقدمے سے پال کے ذاتی محرکات کے بارے میں ہر سوال کا جواب نہیں ملتا، لیکن عدالت میں سامنے آنے والے اعمال نے اس کے رویے کی سنگینی واضح کر دی۔
سب سے خوف ناک حقیقت
اس کہانی کا سب سے دردناک پہلو صرف یہ نہیں کہ ایک شوہر نے اپنی بیوی کا تعاقب کیا، اس کی نجی زندگی میں مداخلت کی اور اسے ذہنی اذیت پہنچائی۔ اصل المیہ یہ بھی تھا کہ امانڈا اس شخص کو تلاش کرنے کی کوشش کرتی رہی جس سے وہ خوف زدہ تھی، جبکہ وہ شخص اسی گھر میں اس کے ساتھ موجود تھا اور بظاہر اسے تسلی بھی دے رہا تھا۔
وہ ہر روز اس خوف کے ساتھ زندگی گزارتی رہی کہ کوئی اس کی نقل و حرکت دیکھ رہا ہے، اس کے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے اور اس کی نجی زندگی کو بے نقاب کر سکتا ہے۔ اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ جس گھر میں اسے تحفظ محسوس ہونا چاہیے، اسی گھر سے اس کے خلاف ہراسانی کے پیغامات بھیجے جا رہے ہیں۔
یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ گھریلو تشدد ہمیشہ جسمانی زخموں کی صورت میں سامنے نہیں آتا۔ مسلسل نگرانی، دھمکی، تذلیل اور نفسیاتی دباؤ بھی کسی انسان کی زندگی، آزادی اور اعتماد کو تباہ کر سکتے ہیں۔
منتخب
Source