“بات کو سمجھا کر، زینب۔ بیٹیاں باپ کے گھر سے عزت …


💥 “بات کو سمجھا کر، زینب۔ بیٹیاں باپ کے گھر سے عزت لے کر جاتی ہیں، زمین نہیں۔” 💔🥹

میرا نام زینب ہے
اور میرے باپ کے گھر میں میرا حصہ آخرکار ایک پرانی چابی نکلا..

ابا نے جس دن مکان اور دکانوں کے کاغذ میرے دونوں بھائیوں کے نام کیے، اُس دن میں امی کی دوائیاں لے کر بازار سے واپس آئی تھی۔ دوپٹے کے پلو میں دوا کی پرچی بندھی ہوئی تھی اور ہاتھ میں شاپر تھا۔ صحن میں نیم کے درخت کے نیچے ابا چارپائی پر بیٹھے تھے۔ اُن کی عینک ناک کے سرے پر رکھی تھی، سامنے کاغذ پھیلے ہوئے تھے، اور میرے دونوں بھائی ایسے بیٹھے تھے جیسے کسی امتحان کا نتیجہ آنے والا ہو۔

ساجد بھائی کی انگلیاں مسلسل موبائل کے کور پر چل رہی تھیں۔ ماجد بھائی بار بار اپنی قمیص کا کالر درست کر رہا تھا۔ ابا نے مجھے دیکھا تو ایک لمحے کے لیے اُن کے چہرے پر نرمی آئی، پھر جیسے کسی نے اندر سے پردہ کھینچ دیا۔

“آ گئی زینب؟”

میں نے شاپر میز پر رکھا۔

“جی ابا۔ امی کی دوا لے آئی ہوں۔ شام والی گولی آدھی دینی ہے، پوری نہیں۔”

ابا نے میری بات پوری سنی بھی یا نہیں، مجھے معلوم نہیں۔ وہ کاغذوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولے:

“بیٹی، آج ایک ضروری کام نمٹا رہا ہوں۔ زندگی کا کیا بھروسا۔ آدمی کو اپنی آنکھوں کے سامنے سب حساب صاف کر دینا چاہیے۔”

حساب۔

عورت کی زندگی میں یہ لفظ بڑا عجیب ہوتا ہے۔ بچپن میں اُس کے کھلونوں کا حساب نہیں رکھا جاتا، مگر شادی کے دن اُس کی چوڑیوں تک کا حساب لکھ لیا جاتا ہے۔ اُس کے رونے کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، مگر اُس کے جہیز کا بل مدتوں یاد رکھا جاتا ہے۔

میں خاموش کھڑی رہی۔

ابا نے قلم ہاتھ میں لیا، پھر میری طرف دیکھ کر کہنے لگے:

“دیکھ زینب، تیرے لیے ہم نے کم نہیں کیا۔ شادی پر جو خرچ ہوا، وہ کوئی معمولی بات تھی؟ سونا دیا، فرنیچر دیا، برات کو عزت سے کھلایا۔ لوگ آج تک کہتے ہیں کریم بخش نے بیٹی کو شہزادی بنا کر رخصت کیا۔”

ماجد بھائی فوراً بولا:

“بالکل ابا۔ بہن کو تو اُس کے گھر عزت سے بھیج دیا۔ اب یہ مکان دکان بیٹوں ہی کے کام آئیں گے۔ نام بھی تو بیٹوں نے چلانا ہے۔”

میں نے پہلی بار اپنے بھائی کو غور سے دیکھا۔ وہی ماجد جس کے بخار پر میں رات بھر جاگتی تھی۔ جس کی کاپیوں پر میں نے اپنے کالج کے پین سے نام لکھے تھے۔ جس کی پہلی نوکری لگنے پر میں نے اپنے سسرال میں سویّاں پکائی تھیں۔

اُس نے مجھے بہن نہیں کہا۔

بہن کو “اُس کے گھر” بھیج دیا گیا تھا۔

میں نے ابا سے پوچھا:

“ابا، کیا شادی بیٹی کا حصہ ہوتی ہے؟”

صحن میں جیسے کسی نے برتن رکھ دیا ہو، ایک ہلکی سی کھنک اٹھی۔ ساجد بھائی نے نظریں جھکا لیں۔ ماجد بھائی کا چہرہ تَن گیا۔

ابا نے گلا صاف کیا۔

“بات کو سمجھا کر، زینب۔ بیٹیاں باپ کے گھر سے عزت لے کر جاتی ہیں، زمین نہیں۔”

مجھے لگا کسی نے میرے پاؤں کے نیچے سے وہ مٹی نکال لی ہے جس پر میں نے چلنا سیکھا تھا۔

میں نے بہت آہستہ کہا:

“تو پھر میں یہاں کیا تھی ابا؟ مہمان؟”

ابا نے جواب نہیں دیا۔ اُنہوں نے قلم اٹھایا اور کاغذوں پر دستخط کر دیے۔

بس اتنی سی دیر میں میں اُس گھر سے نکل گئی جس میں میرا بچپن دیواروں کی نمی کی طرح جذب تھا۔

امی کے کمرے میں گئی تو وہ تکیے سے ٹیک لگائے لیٹی تھیں۔ اُن کے سرہانے پانی کا گلاس رکھا تھا۔ چہرہ زرد تھا، مگر آنکھیں سب سمجھ رہی تھیں۔

“کیا ہوا؟” انہوں نے پوچھا۔

میں نے اُن کے پاؤں دبانے شروع کیے۔

“کچھ نہیں امی۔ ابا نے حساب برابر کر دیا۔”

امی کی آنکھوں میں پانی بھر آیا۔

“بیٹیاں حساب میں نہیں آتیں، زینب۔ بیٹیاں تو گھر کی دعا ہوتی ہیں۔”

میں مسکرا دی۔

“دعاؤں کے نام رجسٹری نہیں ہوتی امی۔”

اُس دن کے بعد میں ہر جمعرات ابا کے گھر آتی رہی۔ امی کی دوا، ابا کی عینک کا نمبر، راشن کی چھوٹی موٹی چیزیں، کبھی دال، کبھی گھر کی بنی روٹی۔ میرے پاس دینے کو بہت کچھ نہیں تھا، مگر جو تھا، دل سے تھا۔

بھابھی کو میرا آنا اچھا نہیں لگتا تھا۔ وہ چائے رکھتے ہوئے ہمیشہ کوئی نہ کوئی بات ضرور کہہ دیتی۔

“باجی، آپ ہر ہفتے آ جاتی ہیں۔ اپنے گھر میں بھی کام ہوتے ہوں گے؟”

میں کہتی:

“ہوتے ہیں بھابھی۔ مگر ماں باپ بھی کبھی کبھی یاد آ جاتے ہیں۔”

وہ ہلکی سی ہنستی۔

“ماں باپ تو سب کے ہوتے ہیں۔ عورت کو اپنا گھر بھی دیکھنا چاہیے۔”

اُس کی بات میں طنز کم، وہی پرانی تربیت زیادہ ہوتی تھی جو عورتوں کو عورتوں کے خلاف کھڑا کر دیتی ہے۔ میں اُسے کیا سمجھاتی کہ عورت کا اپنا گھر کہاں ہوتا ہے؟ جس گھر میں پیدا ہوتی ہے وہاں رخصتی کی تیاری، جس گھر میں جاتی ہے وہاں قبولیت کا امتحان۔

امی سردیوں کے شروع میں چلی گئیں۔

اُن کی موت پر گھر بھرا ہوا تھا، مگر گھر خالی لگ رہا تھا۔ عورتیں رو رہی تھیں۔ مرد انتظامات میں مصروف تھے۔ ساجد بھائی کفن کا کپڑا دیکھ رہا تھا۔ ماجد بھائی فون پر رشتہ داروں کو خبر دے رہا تھا۔ ابا امی کے سرہانے بیٹھے اُن کا چہرہ دیکھ رہے تھے، جیسے پہلی بار سمجھ رہے ہوں کہ جس عورت کو وہ ساری عمر گھر والی کہتے رہے، وہ اصل میں اُن کے گھر کی آخری دیوار تھی۔

میں امی کے سفید بالوں میں انگلیاں پھیرتی رہی۔

میرے منہ سے بار بار ایک ہی جملہ نکلتا تھا:

“امی، شام والی گولی رہ گئی۔”

جنازے کے بعد ابا بدل گئے۔

پہلے وہ صحن کے مالک تھے، پھر برآمدے کے، پھر اپنے کمرے کے، اور آخر میں اپنی چارپائی کے ایک کنارے کے رہ گئے۔ کاغذ بیٹوں کے نام ہوتے ہی گھر کی ہوا بھی بیٹوں کی ہو گئی تھی۔

ابا کبھی کہتے:

“ساجد، دکان کا کرایہ پہلے گھر کے خرچ میں آتا تھا۔”

ساجد جواب دیتا:

“ابا، بچوں کی فیسیں بہت بڑھ گئی ہیں۔ آپ کو اندازہ نہیں۔”

ابا کبھی ماجد سے کہتے:

“پچھلا دروازہ کیوں بند کر دیا؟ ہوا رک جاتی ہے۔”

ماجد کہتا:

“ابا، آج کل سیکیورٹی کا مسئلہ ہے۔ آپ پرانے زمانے کی باتیں کرتے ہیں۔”

پرانا زمانہ۔

بوڑھے والدین کو بچے کتنی آسانی سے پرانا زمانہ بنا دیتے ہیں۔

ایک دن ابا غسل خانے میں پھسل گئے۔ کولہے پر چوٹ آئی۔ ڈاکٹر نے آرام کا کہا۔ دوا، پرہیز، وقت پر کھانا، سہارا دے کر اٹھانا، رات کو کروٹ بدلوانا۔

ساجد بھائی نے پیشانی پر ہاتھ رکھ لیا۔

“میرے گھر والے حصے میں مشکل ہے۔ بچے چھوٹے ہیں۔”

ماجد بھائی بولا:

“میرے پاس بھی جگہ نہیں۔ اوپر مرمت چل رہی ہے۔”

میں دونوں کو دیکھتی رہی۔ مجھے اُن پر غصہ نہیں آیا۔ شاید غصہ اُن پر آتا ہے جن سے امید باقی ہو۔

میں نے کہا:

“میں لے جاتی ہوں ابا کو۔”

ابا نے چونک کر میری طرف دیکھا۔

“نہیں زینب۔ بیٹی کے گھر باپ اچھا نہیں لگتا۔ لوگ باتیں کریں گے۔”

میں ہنس دی۔ ہنسی میرے گلے میں کانٹے کی طرح اٹک گئی۔

“لوگ اُس دن بھی باتیں کر رہے تھے ابا، جب آپ کہہ رہے تھے کہ بیٹی کو شادی میں حصہ دے دیا۔ اب ایک بار اور کر لینے دیں۔”

ابا نے کچھ نہیں کہا۔

میں اُنہیں اپنے دو کمروں کے مکان میں لے آئی۔ میرا گھر چھوٹا تھا۔ ایک کمرہ، ایک تنگ سا صحن، باورچی خانے میں نم دیوار، اور چھت کا وہ کونا جو بارش میں ٹپکتا تھا۔ آصف کی تنخواہ مہینے کے آخر تک آتے آتے سانس پھولنے لگتی تھی۔ بچے اپنی کاپیاں سمیٹ کر ابا کی چارپائی کے لیے جگہ بناتے تھے۔

مگر میرے گھر میں ابا کے لیے جگہ نکل آئی۔

صبح میں اُن کی چائے بناتی۔ چینی کم، دودھ ذرا زیادہ۔ دوائی وقت پر دیتی۔ رات کو درد بڑھتا تو اُن کے پاؤں دباتی۔ کبھی کبھی وہ مجھے بہت دیر تک دیکھتے رہتے۔

“زینب، تھک جاتی ہو گی؟”

میں کہتی:

“عورت تھک جائے تو بھی کیا کرتی ہے ابا؟ اُسے تو صبح پھر اٹھنا ہوتا ہے۔”

وہ خاموش ہو جاتے۔

ایک رات بارش ہو رہی تھی۔ چھت سے پانی ٹپک رہا تھا۔ آصف نے بالٹی رکھ دی تھی۔ بچے سو چکے تھے۔ میں باورچی خانے میں آٹا گوندھ رہی تھی کہ ابا نے آواز دی:

“زینب۔”

میں ہاتھ دھو کر اُن کے پاس بیٹھ گئی۔

اُن کا چہرہ بہت چھوٹا لگ رہا تھا۔ جیسے عمر آدمی کو اندر سے کھا کر آخر میں صرف پچھتاوا چھوڑ دیتی ہے۔

“بیٹی، میں نے تیرے ساتھ زیادتی کی۔”

میرے اندر کچھ ہلا، مگر میں خاموش رہی۔

“مجھے لگا تھا بیٹے سہارا ہوتے ہیں۔ بیٹی تو پرایا دھن ہے۔”

باہر بارش شیشے پر ایسی بہہ رہی تھی جیسے کوئی پرانی تحریر مٹ رہی ہو۔

ابا نے کانپتے ہوئے کہا:

“کل وکیل کو بلاؤں گا۔ جو کچھ بچا ہے، تیرے نام کر دوں گا۔”

میں نے اُن کی طرف دیکھا۔

“کیا بچا ہے ابا؟”

وہ میری طرف دیکھتے رہے۔ پھر اُن کی آنکھیں بھر آئیں۔

واقعی، کیا بچا تھا؟

مکان بیٹوں کے نام تھا۔ دکانیں بیٹوں کے پاس تھیں۔ پلاٹ بک چکا تھا۔ بینک کا حساب بچوں کی ضرورتوں، بیماریوں اور پرانی ضدوں میں ختم ہو چکا تھا۔ اُن کے پاس صرف پنشن کا تھوڑا سا حصہ، ایک عینک، ایک تسبیح، اور پچھتاوے کی لمبی راتیں رہ گئی تھیں۔

انہوں نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا:

“میری پنشن میں سے کچھ…”

میں نے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا۔

“ابا، مجھے پیسے نہیں چاہئیں۔”

وہ رو پڑے۔

“پھر کیا چاہیے تھا تجھے؟”

یہ سوال بہت دیر سے آیا تھا۔

کچھ سوال وقت پر پوچھے جائیں تو گھر بچا لیتے ہیں۔ دیر سے پوچھے جائیں تو صرف آدمی کو ننگا کر دیتے ہیں۔

میں نے اُن کے ہاتھ پر اپنی انگلیاں رکھ دیں۔

“ابا، مجھے اُس دن چاہیے تھا جب میں صحن میں کھڑی تھی۔ جب آپ نے کہا تھا میری شادی میرا حصہ ہے۔ مجھے اُس دن صرف ایک جملہ چاہیے تھا کہ زینب بھی میری اولاد ہے۔ بس اتنا سا۔”

ابا نے آنکھیں بند کر لیں۔

اُن کے ہونٹ ہلے، مگر آواز نہیں نکلی۔ شاید معافی بھی کبھی کبھی اتنی دیر سے آتی ہے کہ زبان تک پہنچنے سے پہلے ہی مر جاتی ہے۔

چند دن بعد ابا کا انتقال ہو گیا۔

جنازہ ساجد بھائی کے گھر سے اٹھا، کیونکہ محلے والوں کے سامنے یہی مناسب سمجھا گیا۔ لوگ کہہ رہے تھے، “بیٹے بڑے فرمانبردار ہیں، باپ کو عزت سے رخصت کیا۔”

میں پیچھے کھڑی تھی۔

میرے ہاتھ میں ابا کی تسبیح تھی۔ وہی تسبیح جس کے دانوں پر اُن کی انگلیوں کی چکنائی باقی تھی۔ میں نے کسی کو نہیں بتایا کہ آخری رات وہ میرے کمرے کی کھڑکی کے پاس لیٹے تھے، اور اُنہوں نے پانی پینے کے بعد میرا ہاتھ پکڑ کر بہت آہستہ کہا تھا:

“زینب، بیٹیاں پرایا دھن نہیں ہوتیں۔ ہم ہی پرائے نکل آتے ہیں۔”

تیسرے دن فاتحہ کے بعد ساجد بھائی نے مجھے ایک پرانا لفافہ دیا۔

“باجی، ابا کی کچھ چیزیں تھیں۔ عینک، تسبیح کا ڈبہ، اور یہ چابی۔ شاید آپ رکھ لیں۔”

میں نے چابی دیکھی۔ وہ ہمارے پرانے گھر کے مرکزی دروازے کی تھی۔

وہ دروازہ جس سے میری ڈولی نکلی تھی۔

وہ دروازہ جس کے اندر میرا بچپن رہ گیا تھا۔

وہ دروازہ جس کے کاغذوں میں میرا نام کبھی نہیں آیا۔

میں صحن میں گئی۔ نیم کا درخت اب بھی وہیں تھا، مگر اُس کے نیچے نئی ٹائلیں لگ چکی تھیں۔ امی کا کمرہ اسٹور بن گیا تھا۔ دیوار پر تازہ رنگ تھا، لیکن ایک کونے سے پرانی نمی پھر سر نکال رہی تھی۔

ماجد بھائی نے پیچھے سے کہا:

“باجی، آپ جب چاہیں آ جایا کریں۔ یہ بھی آپ کا گھر ہے۔”

میں نے مڑ کر اُسے دیکھا۔

عجیب بات ہے، جب حق چھین لیا جائے تو اجازت بہت بے معنی لگتی ہے۔

میں نے چابی نیم کے تنے کے پاس رکھ دی۔

“نہیں ماجد۔ گھر وہ ہوتا ہے جہاں بیٹی کو آنے کے لیے اجازت نہ دی جائے، حق دیا جائے۔”

ساجد بھائی کچھ کہنے لگا، مگر میں نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔

“یہ چابی رکھ لو۔ دروازے اُن کے کام آتے ہیں جن کے لیے گھر باقی ہوں۔”

میں دہلیز سے باہر آ گئی۔

پیچھے نیم کا ایک خشک پتہ گرا۔ کسی نے اُسے اٹھایا نہیں۔ سب اندر چلے گئے۔

مٹی میں پڑی وہ چابی مجھے دیر تک دیکھتی رہی۔

بالکل ویسے، جیسے باپ کے گھر میں بیٹی کا حصہ دیکھا کرتا ہے۔

افسانہ: چابی

~ Faizaan ~

#inheritance #EmotionalStory #Regret #sadstory #urdu