پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

“ایک دن اُس نے مجھےملاقات کے لیے اپنے گاؤں کے چوک …


“ایک دن اُس نے مجھےملاقات کے لیے اپنے گاؤں کے چوک کوئے میں بلایا جہاں اسے کے پاس تھوڑی سی زمین اور اور ایک چھوٹا سا سفید دو منزلہ مکان تھا۔ مجھے اپنی ریاست کا معائنہ کراتے ہوئے اُس نے کہا:

“ اگر میرے پاس بہت سا روپیہ ہوتا تو میں گاؤں کے بیمار سکول ماسٹروں کے لیے یہاں ایک صحت گاہ بنانا ۔۔۔۔۔۔ کاش تم جانتے کہ روسی گاؤں کے سکول ماسٹر کو نیک، ذہین اور تعلیم یافتہ سکول ماسٹر کی کتنی ضرورت ہے! یہاں روس میں ہمیں گاؤں کے اسکول ماسٹر کے لیے خاص حالات فراہم کرنے چاہیئں اور یہ کام بڑی جلدی کرنا چاہیے کیونکہ عوام کی وسیع پیمانے پر تعلیم کے بغیر ہمارا ملک کچی اینٹوں کے مکان کی طرح بیٹھ جائے گا۔ استاد کو ایک فن کار، ایک صنعت گر ہونا چاہیے جسے اپنے کام سے بڑی گہری محبت ہو لیکن ہمارے ملک میں تو استاد ایک بےہنر مزدور ہوتا ہے۔ ہمارے استاد بھوکے اور خوفزدہ ہیں ۔ انہیں یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں یہ روٹی کا سوکھا ٹکڑا بھی ہاتھ سے نہ چلا جائے۔ لیکن ہمیں ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو گاؤں میں رہنما کا کام سر انجام دیں جو کسانوں کے تمام سوالات کا جواب دے سکیں ۔۔۔۔ “

“۔۔۔ چُپ چاپ اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ہم (مکیسم گورکی اور چیخوف) مکان کے اندر چلے گئے۔ دن گرم اور صاف تھا۔ سورج کی چمکدار کرنوں کے نیچے سمندر جگمگا رہا تھا اور ہلکے ہلکے سرگوشیاں کر رہا تھا۔ پہاڑی کے نیچے ایک کُتا خوشی کے مارے بھونک رہا تھا۔ چیخوف نے میرا بازو پکڑ لیا، کھانسا اور آہستہ آہستہ کہہنے لگا “یہ بڑے رنج اور شرم کی بات ہے لیکن ہے سچی کہ بہت سے آدمی ایسے ہیں جو کُتوں پر رَشک کرتے ہیں۔“

میکسم گَورکی


بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2148214392075749