اہل ِ دل کی خوبی ہے فاروق
جینے کی توفیق نہ ھو مر جاتے ھیں
۔۔۔۔
فاروق روکھڑی کا پورا نام سردار عمر فاروق روکھڑی تھا۔ وہ 29 مئی 1929ء کو روکھڑی، میانوالی میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 1949ء میں محکمۂ ریلوے میں ملازمت اختیار کی۔ ان کی سب سے زیادہ مشہور غزل "ہم تم ہوں گے بادل ہو گا، رقص میں سارا جنگل ہو گا” ہے۔ جسے پاکستان ٹیلی وژن کیلئے مسعود ملک نے گایا تھا۔ فاروق روکھڑی 06 اپریل 2008ء کو اپنے آبائی علاقے روکھڑی میں انتقال کر گئے ان کی قبر کے کتبہ پر ان کا یہ شعر کندہ ہے…..
اہل ِ دل کی خوبی ہے فاروق
جینے کی توفیق نہ ھو مر جاتے ھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انتخاب ِ کلام :
پھول کلیوں سے محبت میری فطرت لوگو
بچہ دشمن کا بھی ہو لختِ جگر لگتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم تم ہوں گے بادل ہو گا
رقص میں سارا جنگل ہو گا
کس نے کیا مہمیز ہوا کو
شاید اُن کا آنچل ہو گا
پیار کی راہ پہ چلنے والو
رستہ سارا دلدل ہو گا
وصل کی شب اور اِتنی کالی
اُن آنکھوں میں کاجل ہو گا
آنکھوں نے گستاخی کی ہے
دشت یقیناً جل تھل ہو گا
تیغِ نظر سے ڈرنا کیسا؟
دل پہ وار مسلسل ہو گا
باتوں میں نادانی ہو گی
بھولا بھالا سانول ہو گا
کیا ملنا فاروق سے لوگو
ہو گا کوئی پاگل ہو گا!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دِل کے مُعاملات سے اَنجان تو نہ تھا
اِس گھر کا فَرد تھا کوئی مِہمان تو نہ تھا
تِھیں جِنکے دَم سے رونقیں شہروں میں جا بَسے
ورنہ ہمارا گاؤں یُوں ویران تو نہ تھا
بانہوں میں جب لِیا اُسے نادان تھا ضرُور
جب چھوڑ کر گیا مُجھے نادان تو نہ تھا
کَٹ تو گیا ہے کیسے کٹا یہ نہ پُوچِھیے
یارو! سفر حیات کا آسان تو نہ تھا
نِیلام گھر بنایا نہیں اپنی ذات کو
کمزور اِس قدر میرا اِیمان تو نہ تھا
رَسماً ہی آ کے پُوچھتا فاروقؔ حال ِ دِل
کُچھ اِس میں اُسکی ذات کا نُقصان تو نہ تھا
………………………..
