اور نہ در بدر پھرا اور نہ آزما مجھے
بس مرے پردہ دار بس! اب نہیں حوصلہ مجھے
سخت نظر فریب ہے آئینہ خانۂ جمال
اس کی چمک دمک نہ دیکھ! دیکھ بجھا بجھا مجھے
حبسِ ہجومِ خلق سے گھٹ کے الگ ہوا تو میں
قطرہ بہ سطحِ بحر تھا چاٹ گئی ہوا مجھے
صبر کرو محاسبو ! وقت تمہیں بتائے گا
دہر کو میں نے کیا دیا، دہر سے کیا ملا مجھے
… More
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔