انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھاکے ہاتھ
دیکھاجومجھ کوچھوڑدئے مسکراکے ہاتھ
——
نظام رامپوری کا یوم وفات
(پیدائش: 1819ء – وفات: 29 اکتوبر 1872ء)
——
منتخب کلام
——
انداز اپنا دیکھتے ہیں آئنے میں وہ
اور یہ بھی دیکھتے ہیں کوئی دیکھتا نہ ہو
——
انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ
دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دئیے مسکرا کے ہاتھ
——
اب تم سے کیا کسی سے شکایت نہیں مجھے
تم کیا بدل گئے کہ زمانا بدل گیا
——
مضمون سوجھتے ہیں ہزاروں نئے نئے
قاصد یہ خط نہیں مرے غم کی کتاب ہے
——
یہ بھی نیا ستم ہے حنا تو لگائیں غیر
اور اس کی داد چاہیں وہ مجھ کو دکھا کے ہاتھ
——
اٹھتا ہوں اس کی بزم سے جب ہو کے ناامید
پھر پھر کے دیکھتا ہوں کوئی اب پکار لے
——
اب کیا ملیں کسی سے کہاں جائیں ہم نظامؔ
ہم وہ نہیں رہے وہ محبت نہیں رہی
——
اب آؤ مل کے سو رہیں تکرار ہو چکی
آنکھوں میں نیند بھی ہے بہت رات کم بھی ہے
——
تم سے کچھ کہنے کوتھا، بھول گیا
ہائے کیابات تھی کیابھول گیا
——
تمہیں یہ بھی کبھی خیال آیا
کہ کوئی راہ دیکھتاہوگا
——
ساقی کیاخطاہے ، قسمت ہے اپنی اپنی
جب اپنادورآیاخالی ہی جام نکلا
——
کس کس کی روزروزخوشامدکیاکرے
ہوتے ہیں ان کے درپہ تودربان نئے نئے
——
غیر کے دھوکے میں قاصدسے میراخط لے کر
پـڑھنے کو پڑھ تولیا، نام مگرچھوڑدیا
غیر سے وعدہ واقرارہوئے کیاکیاکچھ
میرے خوش کرنے کو ایک فقرہ ادھرچھوڑدیا
——
کس کس طرح ستاتے ہیں ، یہ بت ہمیں نظام
ہم ایسے ہیں کہ جیسے کسی کاخدانہ ہو
——
انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ
دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیئے مسکرا کے ہاتھ
بے ساختہ نگاہیں جو آپس میں مل گئیں
کیا منہ پر اس نے رکھ لیے آنکھیں چرا کے ہاتھ
یہ بھی نیا ستم ہے حنا تو لگائیں غیر
اور اس کی داد چاہیں وہ مجھ کو دکھا کے ہاتھ
بے اختیار ہو کے جو میں پاؤں پر گرا
ٹھوڑی کے نیچے اس نے دھرا مسکرا کے ہاتھ
گر دل کو بس میں پائیں تو ناصح تری سنیں
اپنی تو مرگ و زیست ہے اس بے وفا کے ہاتھ
وہ زانوؤں میں سینہ چھپانا سمٹ کے ہائے
اور پھر سنبھالنا وہ دوپٹہ چھڑا کے ہاتھ
قاصد ترے بیاں سے دل ایسا ٹھہر گیا
گویا کسی نے رکھ دیا سینے پہ آ کے ہاتھ
اے دل کچھ اور بات کی رغبت نہ دے مجھے
سننی پڑیں گی سیکڑوں اس کو لگا کے ہاتھ
وہ کچھ کسی کا کہہ کے ستانا سدا مجھے
وہ کھینچ لینا پردے سے اپنا دکھا کے ہاتھ
دیکھا جو کچھ رکا مجھے تو کس تپاک سے
گردن میں میری ڈال دیئے آپ آ کے ہاتھ
پھر کیوں نہ چاک ہو جو ہیں زور آزمائیاں
باندھوں گا پھر دوپٹہ سے اس بے خطا کے ہاتھ
کوچے سے تیرے اٹھیں تو پھر جائیں ہم کہاں
بیٹھے ہیں یاں تو دونوں جہاں سے اٹھا کے ہاتھ
پہچانا پھر تو کیا ہی ندامت ہوئی انہیں
پنڈت سمجھ کے مجھ کو اور اپنا دکھا کے ہاتھ
دینا وہ اس کا ساغر مے یاد ہے نظامؔ
منہ پھیر کر ادھر کو ادھر کو بڑھا کے ہاتھ
——
خیر یوں ہی سہی تسکیں ہو کہیں تھوڑی سی
”ہاں” تو کہتے ہو مگر ساتھ ”نہیں” تھوڑی سی
حال دل سن کے مرا برسر رحمت تو ہیں کچھ
ابھی باقی ہے مگر چین جبیں تھوڑی سی
ہوئی جاتی ہے سحر ایسا بھی گھبرانا کیا
رات گر ہے بھی تو اے ماہ جبیں تھوڑی سی
جام مے دیکھ کے لبریز کس انداز کے ساتھ
اس کا کہنا کہ نہیں، اتنی نہیں، تھوڑی سی
بے خودی یہ دم رخصت تھی کہ سب کچھ بھولا
ان کی باتیں بھی مجھے یاد رہیں تھوڑی سی
اب یہ پیغام کسی کا کوئی لے کر جائے
ابھی لب پر ہے مرے جان حزیں تھوڑی سی
یوں تو تم روز ہی کہتے ہو سبھی کچھ مجھ سے
آج کی بات ہوئی ذہن نشیں تھوڑی سی
ان سے کچھ کہہ نہ سکا میں شب غم کی باتیں
گو کہ بھولا تھا مگر یاد بھی تھیں تھوڑی سی
بوسہ تو اس لب شیریں سے کہاں ملتا ہے
گالیاں بھی ملیں ہم کو تو ملیں تھوڑی سی
اب تو سب کا ترے کوچے ہی میں مسکن ٹھہرا
یہی آباد ہے دنیا میں زمیں تھوڑی سی
اٹھے جاتے ہیں ہمیں آپ نہ بیٹھیں خاموش
آپ کی بات سمجھتے ہیں ہمیں تھوڑی سی
یاد کچھ آ کے یہ حالت ہوئی میری کہ نہ پوچھ
پچھلی گھڑیاں شب غم کی جو رہیں تھوڑی سی
صبح تک شام سے وہ گو کہ رہے پاس مرے
حسرتیں دل کی مگر رہ ہی گئیں تھوڑی سی
کوستے کیا ہو ابھی ہوتے ہیں ہم شادیٔ مرگ
گر ملے دفن کو کوچے میں زمیں تھوڑی سی
سب مرا حال وہاں کیسے کہے گا قاصد!
تو تو سنتا ہے مری بات نہیں تھوڑی سی
دولت فقر سے سب ہو گئی تسکین نظامؔ
اب کریں کیا طلب تاج و نگیں تھوڑی سی
——
ہلتی ہے زلف جنبش گردن کے ساتھ ساتھ
ناگن بھی ہے لگی ہوئی رہزن کے ساتھ ساتھ
کس کی کدورتوں سے یہ مٹی خراب ہے
کس کا غبار ہے ترے دامن کے ساتھ ساتھ
اٹھا تھا منہ چھپائے ہوئے میں ہی صبح کو
جاتا تھا میں ہی رات کو دشمن کے ساتھ ساتھ
کوچے میں اس صنم کے خدائی کا لطف ہے
ناحق پھرا میں شیخ و برہمن کے ساتھ ساتھ
دل کی تپش نے خاک اڑائی یہ بعد مرگ
لاشہ پھرا کیا مرا مدفن کے ساتھ ساتھ
اللہ اپنے رشک کا درجہ بھی اب نہیں
کس کس جگہ گیا بت پر فن کے ساتھ ساتھ
جھونکا قفس میں آیا جو باد بہار کا
پہلو سے دل نکل چلا سن سن کے ساتھ ساتھ
اشکوں کے ساتھ ساتھ تو موجیں غموں کی ہیں
آنکھوں کے شعلے ہیں مرے شیون کے ساتھ ساتھ
جس راہ سے گزرتے ہیں وہ، مجھ سے سیکڑوں
ہو لیتے ہیں جنوں زدہ بن بن کے ساتھ ساتھ
زنجیر میرے پاؤں کے پیچھے پڑی ہے یوں
پھرتا ہے رشتہ جس طرح سوزن کے ساتھ ساتھ
کب تک کسی کو کھولیں کسی کو کریں وہ بند
پھرتی ہے یاں نگاہ تو روزن کے ساتھ ساتھ
یوں ساتھ روح کے ہے تن زار اب نظامؔ
پھرتا ہے جیسے سایہ مرا تن کے ساتھ ساتھ
……………………………..
