انگلش کتابوں کے نام رٹ کر مخالف پر رعب ڈالنے کا سل…


انگلش کتابوں کے نام رٹ کر مخالف پر رعب ڈالنے کا سلسلہ پرانا ہے۔ یہ کام تو منٹو نے بھی کیا ہے اور اس واقعے کے راوی شاہد احمد دہلوی ہیں:

"مزہ تو اس وقت آیا جب چراغ حسن حسرتؔ سے منٹو کی ٹکّر ہوئی۔ واقعہ دلّی ریڈیو کا ہے جہاں اتّفاق سے سبھی موجود تھے اور چائے کا دَور چل رہا تھا۔ حسرتؔ اپنی علمیت کا رُعب سب پر گانٹھتے تھے۔ ذکر تھا سمرسٹ ماہم کا جو منٹو کا محبوب افسانہ نگار تھا اور مولانا جھٹ بات کاٹ کر اپنی عربی فارسی کو بیچ میں لے آئے اور لگے اپنے چڑاؤنے انداز میں کہنے: ’’ مقاماتِ حریری میں لکھا ہے ۔ ۔ ۔ آپ نے تو کیا پڑھی ہو گی، عربی میں ہے یہ کتاب‘‘. ’’ دیوانِ حماسہ اگر آپ نے پڑھا ہوتا ۔ مگر عربی آپ کو کہاں آتی ہے‘‘. اور حسرتؔ ؔنے تابڑ توڑ کئی عربی فارسی کتابوں کے نام گنوا دئیے.”

"منٹو خاموش بیٹھا پیچ و تاب کھاتا رہا ۔ بولا تو صرف اتنا بولا : ’’مولانا ! ہم نے عربی فارسی اتنی نہیں پڑھی تو کیا ہے ؟ ہم نے اور بہت کچھ پڑھا ہے‘‘.
بات شاید کچھ بڑھ جاتی مگر کرشن چندر وغیرہ نے بیچ میں پڑکر موضوع ہی بدل دیا ۔
اگلے دن جب پھر سب جمع ہوئے تو حسرتؔ کے آتے ہی بھونچال سا آ گیا ۔ منٹو کا جوابی حملہ شروع ہو گیا :
’’ کیوں مولانا آپ نے فلاں کتاب پڑھی ہے ؟ مگر آپ نے کیا پڑھی ہو گی ، وہ تو انگریزی میں ہے ، اور فلاں کتاب ؟ شاید آپ نے جدید ترین مصنّف کا نام بھی نہیں سنا ہو گا ‘‘. اور منٹو نے جتنے نام کتابوں کے لئے ان میں شاید ہی کوئی ایسی کتاب ہو جس کا نام مشہور ہو ۔ منٹو نے کوئی پچاس نام ایک ہی سانس میں گنوا دئیے اور مولانا سے کہلوا لیا کہ ان میں سے ایک بھی کتاب نہیں پڑھی ۔ ہم چشموں اور ہم نشینوں میں یوں سُبکی ہوتے دیکھ کر مولانا کو پسینے آ گئے۔”
منٹو نے کہا : ’’ مولانا اگر آپ نے عربی فارسی پڑھی ہے تو ہم نے انگریزی پڑھی ہے ۔ آپ میں کوئی سُرخاب کا پر لگا ہوا نہیں ہے ۔ آئندہ ہم پر رعب جمانے کی کوشش نہ کیجئے ‘‘.
مولانا کے جانے کے بعد کسی نے پوچھا : ’’ یار تونے اتنے سارے نام کہاں سے یاد کر لئے ‘‘؟
منٹو نے مسکُرا کر کہا ۔ ’’ کل شام یہاں سے اٹھ کر سیدھا انگریزی کتب فروش جؔینا کے ہاں گیا تھا ۔ جدید ترین مطبوعات کی فہرست اس سے لے کر میں نے رَٹ ڈالی ‘‘.
سُنا کہ اس بدمزگی کو یوں دور کیا گیا کہ احباب نے رات کو ایک cocktail پارٹی برپا کی ، اور جب چند دَور ہو گئے تو منٹو اور حسرتؔ کو گلے ملوا دیا ۔
منٹو نے کہا:’’مولانا تم بھی فراڈ ہو اور میں بھی فراڈ ہوں‘‘.
حسرتؔ نے کہا : ’’ نہیں تم ماہم ہو ‘‘.
منٹو نے کہا : ’’ تم ابن خلدون ہو ‘‘.
اور دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ گئے ۔”

( مشتاق احمد صاحب کی وال سے)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی