انٹرویو : گابرئیل گارسیا مارکیز
انٹرویو نگار : مارالائز سائمنر
اس کی زندگی کے بہترین برس۔۔۔!!
گیبرئیل گاریسا مارکیز کی لکھتوں میں خوشی اور بحران ایک ناول سے دوسرے ناول میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔۔
" تنہائی کے سو سال " کے معاملے میں اس نے طویل عرصہ کہانی پر غور کیا اور پھر حتمی طور پر اسے صفحہ قرطاس پر منتقل کرنے کے لیے بیٹھا، اور یہ کہانی ایک دم پھوٹ پڑی مگر " پتوں کا طوفان " لکھنے میں اسے مشکل درپیش آئی ، یہ ناول اس نے نوبل انعام حاصل کرنے سے سات سال پہلے لکھا۔۔ اس کتاب کے حوالے سے مارکیز نے کہا کہ :
میں اس دن کو اچھا سمجھتا تھا جس دن میں چار سطر لکھ پاتا تھا۔۔۔ اس تمام منصوبے نے اسے اکثر و بیشتر برسوں تک جکڑ رکھا۔۔۔
اس کے برعکس جب اس نے " وبا کے دنوں میں محبت " پر کام کیا یہ اسکی زندگی کے خوش کن دن تھے۔۔ ناسٹلجیا کی زیر اثر اس نے اپنے والدین کے معاشقہ اور اپنے دریائی کشتی میں کئے جانے والے سفر پر لکھا۔۔۔
یہ دنوں اس کتاب کے اہم ماخذات ہیں۔۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
سوال : کس ناول کو لکھنا آپ کی نزدیک پسندیدہ ٹھہرا۔۔۔؟
مارکیز : یہ کتاب " وبا کے دنوں میں محبت " ایک خوشی تھی۔۔۔ یہ بہت طویل ہو سکتی تھی، لیکن میں نے اس پر قابو پایا۔۔۔ دو ایسے لوگ جو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ان کی زندگی کے بارے میں بہت کچھ کہا جاسکتا ہے۔۔۔ یہ لامتناہی ہے۔۔۔ مجھے ایک فائدہ اس کے اختتام کو پہلے سے جاننے کا بھی تھا۔۔ کیونکہ اس کتاب میں اختتام ایک مسئلہ تھا۔۔ یہ بات کم خوش ذائقہ ہوتی اگر ان میں سے ایک یا دونوں کردار مر جاتے، سب سے شاندار بات یہ ہوتی کہ وہ دونوں ہمیشہ جیتے رہیں۔۔۔ قارئین اس نتیجے پہنچتے کہ محبت کرنے والوں کی کشتی اپنے سفر کو جاری رکھے، آتے جاتے نہ صرف ان کی باقی زندگی میں بلکہ ہمیشہ۔۔۔!!
سوال : ایک ولندیزی آدمی کی محبت کی " اڑان کی طرح " آپ نے کبھی کشتیوں پر سفر کیا۔۔؟
مارکیز : میں اس کشتی کو طویل عرصے سے جانتا ہوں جس پر میں نے بہت سفر کیا۔۔ اس وقت سے جب میں 12 سال کا تھا۔۔ میں ایک ساحلی باشندہ ہوں ( کولمبیا میں ) لیکن میں نے بوگوٹا میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے سکالرشپ حاصل کیا۔۔ پس میں بارنکیلا سے کشتی پر لادورادا جاتا اور پھر ریل گاڑی پر لوگاتا۔۔ یہ وہی وقت تھا جب دریا پر زوال آنا شروع ہؤا۔۔۔ میرے پہلے سفر اور آخری سفر کے درمیان میں نے دریا میں زوال کو دیکھا جو اس کتاب میں ظاہر ہوا۔۔۔ مجھے اس کتاب میں دو دریائی سفروں کو دیکھانا پڑا۔۔ پہلا " فلورنیتنوا اریزا " جب داخل میں اس کا نام ٹیلی گراف ہے ، اس کے لیے اس سفر کا کوئی مقصد نہیں وہ آتا ہے ، اس پر پیشمان ہوتا ہے اور واپس لوٹ جاتا ہے ، مگر مجھے اس کو ایسے بنانا پڑا کہ وہ دریا کے بارے میں اور مناظر بیان کر سکے۔۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو تمام بیان اس کتاب کے اختتام پر ختم ہوجاتا، جب دو بوڑھے لوگ اپنے سفر پر روانہ ہوتے ہیں ، اور یہ ان دونوں کے ایسی تعلقات کو ماند کردیتا ، جو کہ یہاں اہمیت رکھتا ہے۔۔ اس آلے نے یہاں میری مدد بھی کی کہ کس طرح دریا ایک تازہ اور رواں دواں ندی سے زوال کی طرف جاتا ہے۔۔ میں نے آخری سفر شاید اس وقت کیا ہوگا جب یونیورسٹی میں تھا، جب میں 22 برس کا تھا۔۔ تب کشتیاں چلنا بند ہوگئی تھیں۔۔ میرے لئے یہ تمام چیزیں ناسٹلجیا کا حصہ ہیں۔۔ ناسٹلجیا ادب اور شاعری کے لئے ایک بڑا تحرک ہے۔۔۔
سوال : آپ نے زیادہ تر کتاب کارتاجینیا میں لکھی؟؟
مارکیز : ہاں اور وہ 2 برس جب میں اس کو لکھ رہا تھا وہ وقت تھا جب میں مکمل طور پر خوش تھا۔۔ ہر چیز میرے لئے ٹھیک رہی۔۔ لوگ زندگی بھر سوچتے ہیں کہ ان کو کس طرح رہنا چاہیے۔۔ میں نے اپنے دوستوں سے پوچھا مگر ان میں سے کوئی بھی صحیح طور پر نہیں جانتا تھا۔۔ میرے لئے یہ اب بہت واضح ہے۔۔۔ میں اب خواہش کرتا ہوں کہ میری زندگی ویسی ہوجاے جن برسوں میں " وبا کے دنوں میں محبت " لکھ رہا تھا۔۔
میں صبح 30: 5 بجے جاگتا۔۔ مجھے سونے کے لئے صرف چھ گھنٹوں کی ضرورت تھی۔۔ تب میں جلدی سے خبریں سنتا۔۔ میں 6 سے 8 تک پڑھتا ، کیونکہ اگر میں اس وقت نہیں پڑھتا تو میں اس کے گرد کبھی نہ آسکتا، میں اپنا تسلسل کھو دیتا۔۔ بعض اوقات کوئی قریب سے تازہ مچھلیوں ، لو بسٹر اور کیکڑے پکڑ لاتا۔۔ تب میں 8 سے 1 تک لکھتا ، اس دوران مرسڈیز ( میری بیوی ) ساحل پر چلی جاتی اور دوستوں کے ساتھ میرا انتظار کرتی۔۔
میں نہیں جانتا کہ کیسے توقع رکھی جائے ، وہاں ہر وقت لوگ آتے جاتے رہتے تھے، دوپہر کے کھانے کے بعد میں کچھ دیر سستاتا ، اور جب سورج کچھ ڈھلنا شروع کرتا میں باہر گلیوں میں ان جہگوں کی تلاش میں جاتا ، جہاں میرے کردار جائیں گے ، لوگوں سے بات کرتا اور زبان اور فضا کو اپناتا پس اگلی صبح میرے پاس تازہ مواد ہوتا جو میں گلیوں سے لاتا۔۔۔
اسی دوران مجھے ایک پرتجس اور مزیدار ادبی تجربہ ہوا۔۔ ایک کردار کا نام " فرمینا " تھا کوئی 18 برس کی لڑکی جو کہ گزشتہ انیسویں صدی کے ایک کیریبین قصبے میں رہ رہی تھی۔۔ وہ اپنی ماں باپ کے ساتھ رہ رہی تھی، جو ہسپانوی پناہ گزین تھا، جس کی نشاندہی میں نے نہیں کی، اس کی ایک پھوپھی تھی، اس کے باپ کی بہن ، جس کو میں نے بہت واضح طور پر دیکھا اور اس کا بھی وہی نام تھا۔۔ میں اس کی ماں کو نہیں سمجھ سکا۔۔ میں انکے گرد میز پر بیٹھ گیا۔۔ میں دیکھ سکتا تھا کہ ان سب کا رویہ کیسا ہے، سوائے ماں کے۔۔ پہلے میں نے دیکھا کہ پھوپھی جارہی ہے ، میں نے اسے پکڑا اور اسے کہانی میں واپس لایا۔۔ مگر ایک مسلہ تھی۔۔ میں اسے نہیں دیکھ سکتا تھا ، نہ ہی چہرہ نہ ہی نام اور نہ ہی اس سے متعلق کیسی چیز کو۔۔ پھر ایک صبح میں جاگا اور میں نے محسوس کیا کہ کیا ہوا ہے؟ ماں اس وقت کر گئی تھی جب لڑکی بہت چھوٹی تھی ، اور جب میں نے دیکھا کہ ماں مر چکی ہے ، وہ زندہ ہوگی اور اصلی۔۔ وہ گھر میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے لگی ، ہر کسی کی یاداشت میں۔۔ اس معاملہ کے حل ہونے نے مجھے خوش کیا ، اور کتاب کے لیے منطق کی کھینچا تانی کی۔۔ میں ایک مردہ شخص کو زندہ لوگوں کے درمیان لانے کی کوشش کر رہا تھا اور یہ ناممکن تھا۔۔
سوال : اور لوگ ؟ آپ نے " فلورنیتنوا اریزا " کے بارے میں کیا محسوس کیا ؟
مارکیز : میں اسے پسند نہیں کرتا ، میرے خیال سے وہ بہت خود غرض ہے، دوسرے لوگوں کی طرح ، اور " فرمینا " میرے خیال سے وہ اس زیادہ بورژوا بن گئی جتنا اس کا خیال تھا اپنے بارے میں۔۔ اس نے اس میں خاصہ بدلاؤ پیدا کیا اور اسے معزز بنا دیا۔۔۔ اس بات کو اس نے اس وقت سمجھا جب وہ بہت بوڑھی ہو چکی تھی، جب وہ کشتی پر جانے کے لئے تیار ہوئی ، ایسا کرنے سے ، اس نے اپنی تمام زندگی سے تعلق توڑنا تھا لیکن یہاں ایک اور اہم کردار ہے جس کا کوئی نام نہیں ہے اور یہ کیریبین ساحل کا سماج ہے ، اپنے فرسودہ انداز میں مغرور اور توہماتی ، اور یہ وہ سب ہے جو کہانی کو اصل میں آگے بڑھاتا ہے۔۔
سوال : آپ نے کہا کہ آپ کے والدین کا ابتدائی معاشقہ اس کتاب کا نمونہ بنا۔۔ کیا آپکی ماں نے اسے پڑھا ؟؟
مارکیز : میرا نہیں خیال کہ اس نے اسے تمام پڑھا ، وہ اب 84 برس کی ہیں ، میرے خیال سے انہوں نے اس کے کچھ حصے پڑھے تاہم انہیں معلوم ہے کہ اس میں کیا ہے۔۔۔ جب میں نے پہلے پہل کارتاجینیا میں لکھنا شروع کیا۔۔ میں ہر دوپہر کو انکے گھر جاتا تھا میں اپنی ماں اور باپ سے الگ الگ سوال کرتا، وہ اس وقت حیات تھے۔۔
سوال : کیا آپ نے اس کا انگریزی ترجمہ پڑھا ہے؟
مارکیز : میرے انگریزی مترجم " گریگوری رباسا " ہیں۔۔ میں ہمیشہ اس پر بہت بھروسہ کرتا ہوں۔۔ مجھے اس طرف توجہ کی ضرورت نہیں۔۔ لیکن اس بار اس کے دوسرے معاہدے ہیں ، اور ایک اور مترجم تلاش کیا گیا۔۔۔ میں انگریزی پڑھ سکتا ہوں مگر اتنے اچھے سے نہیں کہ اس کی اس طرح جانچ کر سکوں جیسا فرانسیسی اور اطالوی میں کر سکتا ہوں۔۔ لیکن تاہم ترجموں کی ہر طرح سے جانچ ہوئی ، ترجمہ کے تین نمونوں کی۔۔ میں نے صرف اس کا پہلا باب پڑھا اور وہ بہترین تھا ، بغیر کسی شک کے۔۔ مدید کنوف راضی ہوگیا ، تاہم میں کیا کرسکتا ہوں؟ میں پریشان نہیں ہوں۔۔ اس کے تراجم جاپانی ، سویڈن اور ولندیزی میں ہیں اور اسی طرح دوسری زبانوں میں۔۔۔
سوال : کیا مترجم آپ سے رابطہ کرتے ہیں اور رائے لیتے ہیں؟
مارکیز : بعض اوقات مدید مجھے کچھ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے بارے میں نوٹس بھیجتا ہے ، بعض اوقات مترجم ان چیزوں کی فہرست بھیجتے ہیں جن کے بارے میں ان کو شک ہوتا ہے۔۔ عجیب چیز یہ ہے کہ زبان سے قطع نظر جن چیزوں کے بارے انکو شک ہوتا ہے ، ان کی فہرست سب کے ہاں یکساں ہوتی ہے۔۔۔۔۔
سوال : میں جانتا ہوں کہ آپ کو ہمیشہ سے خطوط موصول ہوتے ہیں ، قارئین آپ کو کس طرح کی چیزیں لکھتے ہیں ؟
مارکیز : وہ خطوط بہت دلچسپ معلومات ہوتے ہیں ، لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں نے یہ خیال کہا سے لیا ، یا یہ حصہ یا ایسا کردار۔۔۔ کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ کسی ایسی چیز کے بارے میں ہے ، جسے وہ نہیں جانتے۔۔۔ وہ کہیں گے کہ بلکل ایسا ہی میری آنٹی کے ساتھ یا ، میرے ایک چاچا بلکل ایسے ہی ہیں اور یہ قسط ، بلکل ایسا ہی میرے گاؤں میں ہوا ہے آپ کو اس کا کیسے پتہ چلا ، تمام لاطینی امریکہ سے لوگ ایسے لکھتے ہیں خاص طور پر
" تنہائی کے سو سال " کے بعد۔۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ انکی زندگیوں کا حصہ ہے۔۔۔
سوال : آپ ابھی تک اس کتاب پر فلم بننے سے کیوں انکار کر رہے ہیں ، کیونکہ وہ شناخت گم ہوجاے گئی؟؟
مارکیز : یہ تباہ ہوجاے گئی ، کیونکہ فلم اس کی اجازت نہیں دیتی۔۔ ایک ادکار کا چہرہ ، گورگری پیک کا ، کردار کا چہرہ بن جائے گا۔۔ وہ آپ کا چاچا نہیں ہوسکتا جب تک کہ آپ کا چاچا گورگری پیک جیسا نہ دکھتا ہو۔۔۔
سوال : کیا " وبا کے دنوں میں محبت " پر فلم بن سکتی ہے؟
مارکیز : شاید میں برا نہیں مناؤں کہ جب تک کہ وہ لاطینی امریکہ کی فلم رہے۔۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کا ہدایت کار لاطینی امریکی ہو، وہ لاطینی امریکہ کی فضا کو برقرار رکھے گا۔۔ ہمارے کرداروں کو دیکھائے گا ، ہمارے ہونے کا ، ہمارا سماج ، کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں جو اس کو ڈراما کو بیان کرتی ہیں ، تاہم یہ ایک مسلہ ہے۔۔
میرے لئے یہ سوال ہے کہ اس سے متعلق نہ رہوں۔۔ یہ پہلے فرانسیسیوں روسی کے ساتھ ہوچکا ہے۔۔ جس نے " ایک پیش گفتہ موت کی روداد " بنائی اس نے مجھے سکرین پلے دیکھایا اور میں نے کہا :
" مجھے نہ دکھاؤ کیونکہ اگر میں اسے پڑھا تو شاید فلم کبھی نہیں بنے گئی ، میں اپنی کتاب کے بارے میں سوچ رہا ہوں ، تم اپنی فلم کے بارے میں سوچ رہے ہو۔۔ میں نے اکیلے کتاب لکھی ، تم اکیلے فلم بناؤگے۔۔ "
اور یہ وہ تھا جو ہوا اور اسے میرا شکریہ ادا کیا۔۔
••••••••
کتاب : میں یہاں نہیں ہوں،
( خطبات اور مکالمات )
(گابرئیل گارسیا مارکیز )
مترجم : منور آکاش
انتحاب و ٹائپنگ : احمد بلال
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3025237484373431

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔